🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4017. -- باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر
-- باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20300
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: 159] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ ”اور معاملات میں ان سے مشورہ کیا کریں۔“ [سورة آل عمران: 159] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: Q20300]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20300
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ بِنَيْسَابُورَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ بِمِصْرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ:" أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا".
عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] یعنی معاملات میں ان سے مشورہ کریں، (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: (اس سے مراد) ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20300]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَا: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشِيرُوا عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَلَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَرُوحُوا إِذًا"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَكْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عروہ بن زبیر، سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے حدیبیہ کا قصہ نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مشورہ دو، کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم ان لوگوں کی اولاد کی طرف مائل ہوں جنہوں نے ان کی اعانت کی ہے اور انہیں جا پکڑیں؟ یا تمہارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد کریں؟ جس نے ہمیں اس سے روکا ہم اس سے لڑائی کریں گے۔“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں، ہم تو عمرہ کی غرض سے آئے ہیں، قتال کے لیے نہیں آئے، لیکن جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم ان سے لڑائی کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تم چلو۔“
(ب) زہری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1695، 1811»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20302
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَارَ إِلَى بَدْرٍ اسْتَشَارَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ⦗١٨٧⦘ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا:" إِذًا لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر کو چلے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اور مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ پھر دوبارہ ان سے مشورہ کیا تو انصار کہنے لگے: اے انصار کا گروہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”تب ہم بنو اسرائیل کی طرح نہ کہیں گے جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [سورة المائدة: 24] ”تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔“ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اگر آپ برک الغماد تک چلیں گے ہم آپ کی اتباع کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1779»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20303
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحِرَفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ:" مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى؟"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ، وَالْعَشِيرَةُ، وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا"، قَالَ:" فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟" قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: فَهَوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، قَالَ:" الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قَرِيبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [الأنفال: ٦٧] ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! چچاؤں کے بیٹے، قبیلے کے لوگ، بھائی ہیں۔ ہم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں، تاکہ مشرکین کے خلاف قوت حاصل ہوجائے۔ ممکن ہے اللہ ان کو اسلام کی ہدایت نصیب فرما دے اور وہ ہمارے بازو بن جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہارا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: جو ابوبکر کا خیال ہے وہ میرا نہیں۔ یہ کفار کے سردار اور امام ہیں۔ ان کی گردنیں مارو۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند کیا۔ میرے مشورے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کس چیز نے رلایا؟ اگر رونے والی بات ہے تو میں بھی رو لیتا ہوں، وگرنہ آپ کے رونے کی وجہ سے رو لیتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے دیا، اس کی وجہ سے میرے اوپر عذاب پیش کیا گیا، جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا (اور درخت بہت زیادہ قریب تھا)۔“ تو اللہ نے نازل فرما دیا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں تو خونریزی کیے بغیر چھوڑ دے۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1736»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20304
أَخَبَرِنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ:" عَلَّمَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَّهُ مَا بِهِ إِلَيْهِمْ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ مَنْ بَعْدَهُ".
ابن شبرمہ رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] ”ان سے معاملے میں مشورہ کیجیے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے بعد والوں کو تعلیم دی ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی ضرورت نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20304]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20305
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ حَيٍّ قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَأْخُذَ بِالْوَثِيقَةِ مِنَ الْقَضَاءِ فَلْيَأْخُذْ بِقَضَاءِ عُمَرَ فَإِنَّهُ كَانَ يَسْتَشِيرُ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس کو اچھا لگے کہ وہ فیصلوں میں مضبوط اور قابلِ اعتماد طریقہ اختیار کرے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو اختیار کرے، کیونکہ وہ مشورہ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20305]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20306
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ أَشْعَثُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللهِ التَّوَدُّدُ إِلَى ⦗١٨٨⦘ النَّاسِ، وَمَا يَسْتَغْنِي رَجُلٌ عَنْ مَشُورَةٍ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل کی بنیاد ایمان کے بعد اللہ کے لیے لوگوں سے محبت کرنا ہے۔ کوئی آدمی مشورہ سے مستغنی نہ ہو۔ دنیا میں بھلائی والے آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے آخرت میں بھی برائی والے ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20306]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20307
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ الْبُخَارِيِّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" الرِّجَالُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ، وَنِصْفُ رَجُلٍ، وَلَا شَيْءَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ التَّامُّ: فَالَّذِي لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا نِصْفُ رَجُلٍ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا الَّذِي لَا شَيْءَ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَلَا يَسْتَشِيرُ".
داؤد بن ابی ہند، حضرت شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی تین قسم کے ہیں: مکمل آدمی، نصف آدمی اور وہ جو کچھ بھی نہیں۔ مکمل آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے بھی ہو اور مشورہ بھی لے، آدھا آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے تو نہ ہو لیکن مشورہ ضرور لے، اور بے کار وہ آدمی ہے جس میں نہ عقل ہو اور نہ ہی مشورہ طلب کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20307]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20308
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ قَاضِي الْكُوفَةِ وَقَالَ:" الْقَاضِي لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ قَاضِيًا حَتَّى يَكُونَ فِيهِ خَمْسُ خِصَالٍ: عَفِيفٌ، حَلِيمٌ، عَالِمٌ بِمَا كَانَ قَبْلَهُ، يَسْتَشِيرُ ذَوِي الْأَلْبَابِ، لَا يُبَالِي بِمَلَامَةِ النَّاسِ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کوفہ کے قاضی کے بارے میں سوال کیا اور فرمایا: قاضی بننے کے لیے پانچ خوبیاں ہونا ضروری ہیں: (1) پاک دامن، (2) بردبار، (3) اپنے سے پہلے (کے فیصلوں) کا علم رکھنے والا ہو، (4) عقل والوں سے مشورہ لے، (5) لوگوں کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20308]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں