🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4114. -- باب:: ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20878
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ".
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو بندہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20878]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20879
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِرَجُلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَذَا يُكَلِّمُكَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ:" أَدْنِهِ مِنِّي"، فَقُلْتُ: هُوَ ذَا، تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَهُ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَدْنَيْتَهُ مِنِّي لَوَضَعْتُ يَدِي فِي عُنُقِهِ، فَلَمْ يُفَارِقْنِي حَتَّى أَدُقَّهَا".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی کو لے کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: یہ تقدیر کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہے، فرمانے لگے: اس کو میرے قریب کر دو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فرمانے لگے: اگر آپ اس کو میرے قریب کر دیتے تو میں اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھ دیتا اور اس وقت تک جدا نہ کرتا جب تک اس کو کچل نہ دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20879]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20880
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَنْزِعُ فِي زَمْزَمَ قَدِ ابْتَلَّتْ أَسَافِلُ ثِيَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ تُكُلِّمَ فِي الْقَدَرِ، فَقَالَ:" أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِلَّا فِيهِمْ: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] أُولَئِكَ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَى مَوْتَاهُمْ، إِنْ أَرَيْتَنِي أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَأْتُ عَيْنَيْهِ بِأُصْبُعِيَّ هَاتَيْنِ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ آبِ زمزم نکال رہے تھے۔ ان کے کپڑوں کے نیچے والا حصہ تر ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: تقدیر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ فرمانے لگے: کیا؟ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ۝ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [سورة القمر: 48-49] یہ اس امت کے بدترین لوگ ہیں۔ ان کے بیماروں کی تیمار داری نہ کرو، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو، اگر ان میں سے میں کسی کو دیکھ لیتا تو اپنی انگلیوں کے ساتھ ان کی آنکھیں نکال دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20880]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلِيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اہل شام کا رہنے والا ایک دوست تھا جو ان کو خط وغیرہ لکھتا تھا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے تقدیر کے بارے میں باتیں کی ہیں، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اندر ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20881]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ⦗٣٤٦⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ طَاوُسٌ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ" أَوِ:" الْكَيْسُ وَالْعَجْزُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ ہے، حتی کہ عاجزی اور دانائی بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20882]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2655»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" مَا رَأْيُكَ فِي هَؤُلَاءِ الْقَدَرِيَّةِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: أَرَى أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ، فَإِنْ قَبِلُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَى السَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" ذَلِكَ رَأْيِي"، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَيْضًا رَأْيِي..
امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا ابوسہیل بن مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ چل رہا تھا، فرمانے لگے: ”قدریہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے: ”میں ان سے توبہ طلب کروں گا، اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک وگرنہ میں ان کو تلوار پر پیش کروں گا“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: ”میری بھی یہی رائے ہے“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1665»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20884
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو سُهَيْلٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ:" مَا تَرَى فِي الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ؟"، قَالَ: أَرَى أَنْ يُسْتَتَابُوا، فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا ضَرَبْتَ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ عُمَرُ:" ذَاكَ الرَّأْيُ فِيهِمْ، لَوْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْوَاحِدَةُ كَفَى بِهَا {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: ١٦٢] ".
ابو سہیل نافع بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ”قدریہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ فرمایا: ”ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، اگر توبہ کر لیں تو ٹھیک وگرنہ ان کو قتل کر دیا جائے۔“ عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے تھی۔ یہ ایک آیت ہی کافی ہے: ﴿فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ * مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 161-163] ”سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20884]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20885
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَمَّاطُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الْقَدَرِيَّةِ، فَقَالَ:" لَا تُجَالِسُوهُمْ".
حکم بن سلیمان کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، ان سے قدریہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہنے لگے: ان کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20885]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ الْقَاضِي بِمَرْوَ قَالَ: سُئِلَ أَبِي - وَأَنَا أَسْمَعُ - عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ، وَعِلْمُهُ، وَوَحْيُهُ، لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ". وَلَقَدْ ذَكَرَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ:" أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ:" أَدْرَكْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً يَقُولُونَ: اللهُ الْخَالِقُ، وَمَا سِوَاهُ مَخْلُوقٌ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ أَبِي:" وَقَدْ أَدْرَكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَجِلَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَدْرِيِّينَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مِثْلَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَجَلَّةِ التَّابِعِينَ، وَعَلَى هَذَا مَضَى صَدْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
ابوالحسن محمد بن اسحاق بن راہویہ، جو مرو کے قاضی ہیں، فرماتے ہیں کہ میرے والد سے سوال کیا گیا (اور) میں قرآن (کے متعلق) سن رہا تھا، انہوں نے کہا: ”قرآن اللہ کا کلام ہے، یہ اس کی وحی اور اس کا علم ہے، مخلوق نہیں ہے۔“ سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیوخ کو ستر سال تک پایا، وہ یہی کہتے تھے۔
(ب) سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو ستر سال تک پایا، وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20886]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20887
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٣٤٧⦘ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: هُوَ بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقَسْرِيَّ وَقَدْ خَطَبَهُمْ فِي يَوْمِ أَضْحَى بِوَاسِطَ، فَقَالَ:" ارْجِعُوا أَيُّهَا النَّاسُ فَضَحُّوا، تَقَبَّلَ اللهُ مِنْكُمْ، فَإِنِّي مُضَحٍّ بِالْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ، فَإِنَّهُ زَعَمَ أَنَّ اللهَ لَمْ يَتَّخِذْ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَمْ يُكَلِّمْ مُوسَى تَكْلِيمًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُ الْجَعْدُ بْنُ دِرْهَمٍ"، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَذَبَحَهُ، قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: وَكَانَ الْجَهْمُ أَخَذَ هَذَا الْكَلَامَ مِنَ الْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ..
عبدالرحمن بن محمد بن حبیب بن ابی حبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں خالد بن عبداللہ قسری کے پاس آیا، انہوں نے واسط شہر میں عید الاضحی کا خطبہ ارشاد فرمایا، کہنے لگے: لوگو! جاؤ قربانی کرو، اللہ تمہاری قربانی قبول فرمائے، میں تو جعد بن درہم کی قربانی کروں گا، اس کا خیال ہے کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست نہیں بنایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں ہوا۔ وہ (اللہ) پاک اور بلند ہے اس بات سے جو جعد بن درہم کہتا ہے۔ پھر منبر سے اتر کر اس کو ذبح کر ڈالا۔ ابو رجاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جعد بن درہم سے جہم نے یہ کلام لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20887]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں