🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4114. -- باب:: ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20898
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا مُحَمَّدٍ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ:" الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ".
یحییٰ بن زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مزنی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20898]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للمزني»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُوسَى الْمَرْوَرُوذِيَّ، سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيِّ بِمِصْرَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَكُنَّا نَجْتَمِعُ عِنْدَهُ بِاللَّيْلِ، فَنُلْقِي الْمَسْأَلَةَ فِيمَا بَيْنَنَا، وَيَقُومُ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا سَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ قِيلَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، بِمَاذَا تُجِيبُونَهُمْ؟ وَيَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ، فَقُمْنَا لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَتَقَدَّمْتُ أَنَا وَأَصْحَابٌ لَنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَقَدْ نَشَأَ عِنْدَنَا قَوْمٌ يَقُولُونَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، وَلَسْنَا مِمَّنْ يَخُوضُ فِي الْكَلَامِ، وَلَا نَسْتَفْتِيكَ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ إِلَّا لِدِينِنَا، وَلِمَنْ عِنْدَنَا، لِنُخْبِرَهُمْ عَنْكَ بِمَا تُجِيبُنَا فِيهِ، فَقَالَ:" الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" فَهَذَا مَذْهَبُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ فِي هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ الَّذِينَ حُرِمُوا التَّوْفِيقَ، وَتَرَكُوا ظَاهِرَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بِآرَائِهِمُ الْمُزَخْرَفَةِ، وَتَأْوِيلَاتِهِمُ الْمُسْتَنْكَرَةِ، وَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ عُمَرَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيَّ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ زَاهِرَ بْنَ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيَّ يَقُولُ: لَمَّا قَرُبَ حَضُورُ أَجَلِ أَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي دَارِي بِبَغْدَادَ دَعَانِي فَقَالَ:" اشْهَدْ عَلَيَّ أَنِّي لَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ، لِأَنَّ الْكَلَّ يُشِيرُونَ إِلَى مَعْبُودٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّمَا هَذَا اخْتِلَافُ الْعِبَارَاتِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ هَذَا أَيْضًا مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، أَلَا تَرَاهُ قَالَ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي:" ذَهَبَ النَّاسُ مَنْ تَأَوَّلَ الْقُرْآنَ وَالْأَحَادِيثَ ⦗٣٥٠⦘ وَالْقِيَاسَ، أَوْ مَنْ ذَهَبَ مِنْهُمْ إِلَى أُمُورٍ اخْتَلَفُوا فِيهَا فَتَبَايَنُوا فِيهَا تَبَايُنًا شَدِيدًا، وَاسْتَحَلَّ فِيهَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بَعْضَ مَا تَطُولُ حِكَايَتُهُ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُتَقَادِمٌ مِنْهُ مَا كَانَ فِي عَهْدِ السَّلَفِ وَبَعْدَهُمْ إِلَى الْيَوْمِ، فَلَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنْ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُقْتَدَى بِهِ، وَلَا مِنَ التَّابِعِينَ بَعْدَهُمْ رَدَّ شَهَادَةَ أَحَدٍ بِتَأْوِيلٍ، وَإِنْ خَطَّأَهُ وَضَلَّلَهُ" ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ:" وَشَهَادَةُ مَنْ يَرَى الْكَذِبَ شِرْكًا بِاللهِ أَوْ مَعْصِيَةً لَهُ يُوجِبُ عَلَيْهَا النَّارَ، أَوْلَى أَنْ تَطِيبَ النَّفْسُ عَلَيْهَا مِنْ شَهَادَةِ مَنْ يُخَفِّفُ الْمَأْثَمَ فِيهَا، قَالُوا: وَالَّذِي رُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنْ تَكْفِيرِ هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ، فَإِنَّمَا أَرَادُوا بِهِ كُفْرًا دُونَ كُفْرٍ، هُوَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكُفْرٍ يَنْقُلُ عَنْ مِلَّةٍ، وَلَكِنْ كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" فَكَأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِتَكْفِيرِهِمْ مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ مِنْ نَفْيِ هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتِي أَثْبَتَهَا اللهُ تَعَالَى لِنَفْسِهِ وَجُحُودِهِمْ لَهَا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ، مَعَ اعْتِقَادِهِمْ إِثْبَاتَ مَا أَثْبَتَ اللهُ تَعَالَى، فَعَدَلُوا عَنِ الظَّاهِرِ بِتَأْوِيلٍ، فَلَمْ يَخْرُجُوا بِهِ عَنِ الْمِلَّةِ وَإِنْ كَانَ التَّأْوِيلُ خَطَأً، كَمَا لَمْ يَخْرُجْ مَنْ أَنْكَرَ إِثْبَاتَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الْمَصَاحِفِ كَسَائِرِ السُّوَرِ مِنَ الْمِلَّةِ، لِمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ مِنَ الشُّبْهَةِ، وَإِنْ كَانَتْ عِنْدَ غَيْرِهِ خَطَأً، وَالَّذِي رُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ:" الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ"، إِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِمُضَاهَاةِ بَعْضِ مَا يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ مَذَاهِبَ الْمَجُوسِ فِي قَوْلِهِمْ بِالْأَصْلَيْنِ، وَهُمَا النُّورُ وَالظُّلْمَةُ، يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخَيْرَ مِنْ فِعْلِ النُّورِ، وَأَنَّ الشَّرَّ مِنْ فِعْلِ الظُّلْمَةِ، فَصَارُوا ثَنَوِيَّةً، كَذَلِكَ الْقَدَرِيَّةُ يُضِيفُونَ الْخَيْرَ إِلَى اللهِ، وَالشَّرَّ إِلَى غَيْرِهِ، وَاللهُ تَعَالَى خَالِقُ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَالْأَمْرَانِ مَعًا مُنْضَافَانِ إِلَيْهِ خَلْقًا وَإِيجَادًا إِلَى الْفَاعِلِينَ لَهُمَا مِنْ عِبَادِهِ - فِعْلًا وَاكْتِسَابًا. هَذَا قَوْلُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى الْخَيْرِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ فِيمَا:.
ابو محمد مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یوسف بن موسیٰ مروروذی رحمہ اللہ سے 295ھ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اہل خراسان کی ایک جماعت مصر میں ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ کے پاس تھی اور ہم رات کے وقت ان کے پاس جمع ہوتے اور آپس میں مسائل پر بحث کرتے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، جب سلام پھیرتے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر کہتے: اگر تم سے یہ اور یہ کہا جائے تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر اپنی نماز کی طرف لوٹ جاتے۔ ایک رات ہم اٹھے، میں اور ہمارے کچھ ساتھی ان کے پاس آگے بڑھے، ہم نے کہا: ہم اہل خراسان کے لوگ ہیں، ہمارے ہاں ایک قوم پیدا ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ قرآن مخلوق ہے، ہم علم کلام میں غور و خوض کرنے والوں میں سے نہیں ہیں اور ہم اس مسئلے میں آپ سے صرف اپنے دین کی خاطر اور اپنے ہاں کے لوگوں کی خاطر فتویٰ طلب کرتے ہیں تاکہ جو جواب آپ ہمیں دیں وہ ہم آپ کی طرف سے انہیں بتا دیں۔ فرمایا: قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں، اور جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے وہ کافر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان بدعتیوں کے بارے میں ہمارے ائمہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے جو توفیق سے محروم رہے اور اپنی ملمع کاری والی آراء اور ناپسندیدہ تاویلات کی وجہ سے کتاب و سنت کے ظاہر کو چھوڑ دیا۔ میں نے ابو حازم عمر بن احمد عبدوی حافظ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے زاہر بن احمد سرخسی سے سنا، وہ کہتے ہیں: جب بغداد میں میرے گھر میں ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: مجھ پر گواہ رہنا کہ میں اس قبلہ والوں میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا، کیونکہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ تو صرف تعبیرات کا اختلاف ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اس طرف گیا ہے اس کا خیال ہے کہ یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی مذہب ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کتاب ادب القاضی میں فرمایا: لوگوں میں سے جنہوں نے قرآن، احادیث اور قیاس کی تاویل کی، یا ان میں سے جو ایسے امور کی طرف گئے جن میں انہوں نے اختلاف کیا اور ان میں سخت اختلاف کیا اور ان میں سے بعض نے بعض کی ایسی چیزوں کو حلال سمجھا جن کی حکایت طویل ہے، یہ سب پرانا ہے، اس میں سے کچھ سلف کے زمانے میں تھا اور ان کے بعد سے آج تک ہے، ہم اس امت کے سلف میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس کی اقتدا کی جاتی ہو اور نہ ان کے بعد تابعین میں سے کسی کو جس نے کسی کی گواہی تاویل کی وجہ سے رد کی ہو، اگرچہ اس نے اسے غلط اور گمراہ قرار دیا ہو۔ پھر کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: جو شخص جھوٹ کو اللہ کے ساتھ شرک یا ایسی نافرمانی سمجھتا ہے جس پر جہنم واجب ہوتی ہے، اس کی گواہی پر دل کا مطمئن ہونا اس شخص کی گواہی سے زیادہ بہتر ہے جو اس کے گناہ کو ہلکا سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا: امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ سے ان بدعتیوں کی تکفیر کے بارے میں جو ہم نے روایت کیا ہے، اس سے ان کی مراد کفر دون کفر (کفر سے کم درجے کا کفر) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] ”اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جاتے ہو، یہ ایسا کفر نہیں جو ملت سے خارج کر دے بلکہ کفر دون کفر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ان کی تکفیر سے ان کی مراد ان کا ان صفات کی نفی کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور دور کی تاویل کے ذریعے ان کا انکار کرنا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ثابت کردہ کو ثابت ماننے کا عقیدہ رکھتے ہیں، چنانچہ وہ تاویل کے ذریعے ظاہر سے ہٹ گئے، تو وہ اس کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوئے اگرچہ تاویل غلط تھی، جیسا کہ جس نے مصاحف میں معوذتین کو باقی سورتوں کی طرح ثابت ماننے کا انکار کیا وہ اپنے شبہ کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوا، اگرچہ دوسروں کے نزدیک یہ غلطی تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روایت کیا ہے: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مجوسی صرف اس لیے کہا کہ ان کے بعض عقائد دو اصلوں یعنی نور اور ظلمت کے بارے میں مجوس کے عقائد سے مشابہت رکھتے ہیں، مجوس کا گمان ہے کہ خیر نور کا فعل ہے اور شر ظلمت کا فعل ہے، تو وہ ثنویہ (دو اصل ماننے والے) بن گئے، اسی طرح قدریہ خیر کو اللہ کی طرف اور شر کو اس کے غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور دونوں امور پیدا کرنے اور وجود دینے کے اعتبار سے اسی کی طرف منسوب ہیں اور کرنے اور کمانے کے اعتبار سے اس کے ان بندوں کی طرف منسوب ہیں جو انہیں کرتے ہیں۔ یہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا اس روایت پر قول ہے۔
ابو بکر احمد بن اسحاق صبغی نے فرمایا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20899]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20900
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، عَنْهُ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْقَدَرِيَّةَ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنَّ الْمَجُوسَ قَالَتْ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ هَذِهِ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ النُّورَ وَلَمْ يَخْلُقِ الظُّلْمَةَ، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَلَمْ يَخْلُقْ صَوْتَ الْمَقْدَحِ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْجَهْلَ وَالنِّسْيَانَ، وَقَالَ الْقَدَرِيَّةُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْحِفْظَ وَالْعِلْمَ وَالْعَمَلَ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَا يُضِلُّ أَحَدًا، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ مِثْلَهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ} [الرعد: ٢٧] ، وَقَالَ: {يُرِيدُ أَنْ⦗٣٥١⦘ يُغْوِيَكُمْ} [هود: ٣٤] ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِهَذِهِ الْمَعَانِي أَوْ بَعْضِهَا، وَأَضَافَهُمْ مَعَ ذَلِكَ إِلَى الْأُمَّةِ".
ابوعبداللہ حافظ رحمہ اللہ نے ان (ابو بکر صبغی) سے اس بات کی دلیل میں نقل کیا کہ ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“: مجوسی کہتے ہیں کہ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے نور کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اندھیرے کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں: بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے بادل کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن چقماق کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ مجوس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہالت اور بھول جانے کو پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنا، علم اور عمل کو پیدا نہیں کیا۔ مجوسی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا اور قدریہ بھی یہی کہتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 27] ”وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔“ اور ﴿يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ﴾ [سورة هود: 34] ”وہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہیں گمراہ کرے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انہی معانی یا ان میں سے بعض کی وجہ سے مجوسی کہا اور اس کے ساتھ انہیں امت کی طرف منسوب بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20900]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20901
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً". قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ قَوْلُهُ:" سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْفِرَقَ كُلَّهَا غَيْرُ خَارِجِينَ مِنَ الدِّينِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهُمْ كُلَّهُمْ مِنْ أُمَّتِهِ، وَفِيهِ أَنَّ الْمُتَأَوِّلَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمِلَّةِ وَإِنْ أَخْطَأَ فِي تَأْوِيلِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا عَلَى الْإِطْلَاقِ بِتَأْوِيلٍ لَمْ يَخْرُجْ بِتَكْفِيرِهِ إِيَّاهُ بِالتَّأْوِيلِ عَنِ الْمِلَّةِ، فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي خَرَجَ مِنْ صَلَاةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَقَالَ:" مُنَافِقٌ"، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزِدْ مُعَاذًا عَلَى: أَنْ أَمَرَهُ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَقَالَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ"؟ لِتَطْوِيلِهِ الصَّلَاةَ" وَرُوِّينَا فِي قِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ حَيْثُ كَتَبَ إِلَى قُرَيْشٍ بِمَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ عَامَ الْفَتْحِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا" وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْمِيَتَهُ بِذَلِكَ، إِذْ كَانَ مَا فَعَلَ عَلَامَةً ظَاهِرَةً عَلَى النِّفَاقِ، وَإِنَّمَا يَكْفُرُ مَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ".
ابوسلمہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر (71 یا 72) فرقوں میں بٹ گئے اور عیسائی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔“
ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، مراد یہ ہے کہ یہ تمام فرقے دین سے خارج نہ ہوں گے بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شمار کیے جائیں گے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ تاویل کرنے والا ملت سے خارج نہیں ہوتا اگرچہ وہ اپنی تاویل میں غلطی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی مسلمان کو مطلق طور پر کافر کہا تو اس کے کافر کہنے کی وجہ سے وہ دین سے نہ نکل جائے گا جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی نماز سے نکل گیا تو انہوں نے اس کو منافق کہہ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز کی تخفیف کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا آپ فتنہ ڈالنے والے ہیں؟“ یعنی زیادہ لمبی نماز نہ پڑھا کرو۔
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے جب قریشیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حملے کی خبر دینے کی کوشش کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اتار دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس کو منافق کہنے پر تکفیر نہیں فرمائی کیونکہ یہ نفاق پر ایک ظاہری علامت تھی اور کافر وہ ہوتا ہے جس نے کسی مسلمان کی بغیر تاویل کے تکفیر کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20901]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ: كَافِرٌ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ⦗٣٥٢⦘ فَعَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ شَهَادَةُ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ إِذَا كَانَ لَهُمْ تَأْوِيلٌ تَكُونُ مَاضِيَةً.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس بندے نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو کلمہ دونوں میں سے ایک کی جانب لوٹے گا۔“
اس طریقے کے مطابق اہل اہواء کی گواہی، جب ان کے پاس کوئی تاویل ہو، نافذ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ:" يُكْتَبُ الْعِلْمُ عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ، وَتَجُوزُ شَهَادَاتُهُمْ مَا لَمْ يَدْعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا دَعَوْا إِلَيْهِ لَمْ يُكْتَبْ عَنْهُمْ، وَلَمْ تَجُزْ شَهَادَاتُهُمْ"، يُرِيدُ بِكَتَبَةِ الْعِلْمِ: الْأَخْبَارَ.
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل ہواء سے علم لیا جائے گا اور ان کی گواہی جائز ہے، جب تک وہ لوگوں کو اپنے عقیدے کی جانب دعوت نہ دیں، جب وہ اپنے عقیدے کی طرف دعوت دیں تو ان سے احادیث نہ لکھی جائیں اور نہ ہی ان کی گواہی جائز ہے۔
علم لکھنے سے ان کی مراد اخبار (روایات) ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20903]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20904
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِيمَا أَجَازَ لِي رِوَايَتَهُ عَنْهُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي:" إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ مَنْ يُعْرَفُ بِاسْتِحْلَالِ شَهَادَةِ الزُّورِ عَلَى الرَّجُلِ، لِأَنَّهُ يَرَاهُ حَلَالَ الدَّمِ، أَوْ حَلَالَ الْمَالِ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يَسْتَحِلُّ أَوْ يَرَى الشَّهَادَةَ لِلرَّجُلِ إِذَا وَثِقَ بِهِ، فَيَحْلِفُ لَهُ عَلَى حَقِّهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ بِالْبَتِّ بِهِ، وَلَمْ يَحْضُرْهُ وَلَمْ يَسْمَعْهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ قِبَلِ اسْتِحْلَالِهِ الشَّهَادَةَ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يُبَايِنُ الرَّجُلَ الْمُخَالِفَ لَهُ مُبَايَنَةَ الْعَدَاوَةِ لَهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ جِهَةِ الْعَدَاوَةِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کسی آدمی کے خلاف جھوٹی گواہی کو جائز سمجھے یا کسی کے خون بہانے کو یا مال ہڑپ کرنے کو جائز خیال کرتا ہے تو اس کی گواہی کو رد کر دیا جائے گا اور ایسا آدمی جو کسی کے حق میں قسم اٹھا کر گواہی دیتا ہے حالانکہ وہ اس موقع پر موجود بھی نہ تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں اس نے سن رکھا تھا تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا یا وہ آدمی دشمنی کی بنا پر کسی کے خلاف گواہی دیتا ہے تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20904]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا تُرَابٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْذِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ:" لَمْ أَرَ أَحَدًا أَشْهَدَ بِالزُّورِ مِنَ الرَّافِضَةِ". كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ حَرْمَلَةَ.
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20905]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، بِالدَّامِغَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ:" أُجِيزُ شَهَادَةَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ كُلِّهِمْ إِلَّا الرَّافِضَةَ، فَإِنَّهُ يَشْهَدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَكَذَلِكَ مَنْ عُرِفَ مِنْهُمْ بِسَبِّ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ هُمْ سُرُجُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَصَدْرُهَا لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ مَتَى مَا كَانَ سَبُّهُ إِيَّاهُمْ عَلَى وَجْهِ الْعَصَبِيَّةِ، أَوِ الْجَهَالَةِ لَا عَلَى تَأْوِيلٍ أَوْ شُبْهَةٍ".
یونس بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہلِ اہواء کی شہادت جائز ہے، لیکن رافضہ کی شہادت جائز نہیں، کیونکہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح ان میں سے جو صحابہ کو گالی دینے میں معروف ہو، جو اس امت کے چراغ اور اس کے صدر اول ہیں، اس کی شہادت قبول نہ کی جائے گی، جب اس کا انہیں گالی دینا عصبیت یا جہالت کی بنا پر ہو، کسی تاویل یا شبہ کی بنا پر نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20906]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ ⦗٣٥٣⦘ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو اور صحابی ایک مد یا نصف مد خرچ کرے تو تم اس کے ثواب کو نہ پا سکو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں