السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4206. -- باب:: ما جاء في جر الولاء.
-- باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21516
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا، فَإِنَّهُ يَعْتِقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ". ⦗٥١٦⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..
(٢١٥١٦) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، بچے کو بھی جنم دیا ہو، وہ بچہ اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ ہی آزاد ہوجائے گا اور اس کی ولاء اس کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہوگی، جب اس کا باپ آزاد کردیا گیا تو اس بچے کی ولاء پھر باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21516]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21517
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ، فَوَلَدُهَا يُعْتَقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيَكُونُ وَلَاؤُهُمْ لِمَوْلَى أُمِّهِمْ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ".
(٢١٥١٧) اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے، اس نے بچے کو جنم دیا۔ اولاد اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ آزاد ہوجائے گی، ان بچوں کی ولاء ان کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہوگی، جب باپ آزاد کردیا گیا تو ولاء باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21517]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ، وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، اخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي مَوْلَاةٍ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَاشْتَرَى الزُّبَيْرُ الْعَبْدَ فَأَعْتَقَهُ، فَقَضَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَلَاءِ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ..
(٢١٥١٨) عروہ اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر اور رافع بن خدیج نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے جھگڑا پیش کیا کہ رافع بن خدیج کی لونڈی ایک غلام کے نکاح میں تھی، اس لونڈی کی اس غلام سے اولاد ہوئی تو زبیر نے غلام خرید کر آزاد کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولاء کا فیصلہ زبیر کے حق میں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21518]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21519
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمَا اخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِهِ لِلزُّبَيْرِ فِي هَذَا.. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُرْسَلًا..
(٢١٥١٩) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے جھگڑا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو فیصلہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زبیر کے حق میں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21519]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21520
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً لُعْسًا ظُرْفًا، فَأَعْجَبَهُ ظَرْفُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ، مَوْلَاةٌ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ لِأَشْجَعَ لِبَعْضِ الْحُرْقَةِ، فَأَرْسَلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَرَى أَبَاهُمْ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ لِفِتْيَتِهِ: انْتَسِبُوا إِلِيَّ، فَإِنَّمَا أَنْتُمُ مَوَالِيَّ، فَقَالَ رَافِعٌ: بَلْ هُمْ مَوَالِيَّ، وُلِدُوا وَأُمُّهُمْ حُرَّةٌ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِوَلَائِهِمْ لِلزُّبَيْرِ.. هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِيَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعًا بِخِلَافِهِ..
(٢١٥٢٠) یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام خیبر تشریف لائے، انھوں نے ایک ذہین نوجوان دیکھا، اس کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ رافع بن خدیج کا آزاد کردہ ہے۔ اس کی والدہ آزاد ہے، جو رافع بن خدیج کی لونڈی تھی اور ان کا باپ قبیلہ اشجع کا غلام تھا تو زبیر نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کردیا، پھر اس نوجوان سے کہا: اپنی آزادی کی نسبت میری طرف کرو، کیونکہ تم میرے آزاد کردہ ہو تو رافع کہنے لگے: بلکہ وہ میرے غلام ہیں، یہاں پیدا ہوئے ان کی والدہ آزاد تھی، ان کا باپ غلام تھا۔ وہ دونوں جھگڑا لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو زبیر کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21520]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21521
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً أَعْجَبَهُ ⦗٥١٧⦘ حَالُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِبَنِي حَارِثَةَ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ مَوْلَاةٌ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهِمْ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ، فَاخْتَصَمَ هُوَ وَبَنُو حَارِثَةَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْوَلَاءِ، فَقَضَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَلَاءِ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْوَلَاءُ لَا يَجُرُّ" كَذَا قَالَ وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ بِشَوَاهِدِهَا، وَمَرَاسِيلُ الزُّهْرِيِّ رَدِيئَةٌ..
(٢١٥٢١) زہری فرماتے ہیں کہ زبیر خیبر آئے، انھوں نے ایک جوان کو دیکھا۔ اس کی حالت ان کو اچھی لگی، اس کے بارے میں سوال کیا تو بتایا گیا کہ یہ بنو حارثہ کا آزاد کردہ ہے۔ اس کی والدہ بھی بنو حارثہ کی آزاد کردہ ہے اور ان کا باپ غلام ہے تو زبیر نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کردیا۔ اب زبیر اور بنو حارثہ کے درمیان جھگڑا چلا جو حضرت عثمان بن عفان کے پاس آیا، ولاء کے بارے میں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ بنو حارثہ کے حق میں دے دیا اور فرمایا کہ ولاء منتقل نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21521]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21522
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى فِي عَبْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ حُرَّةٌ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا فَعَتَقُوا بِعَتَاقَةِ أُمِّهِمْ، ثُمَّ أُعْتِقَ أَبُوهُمْ بَعْدُ، أَنَّ وَلَاءَهُمْ لِعَصَبَةِ أَبِيهِمْ،.
(٢١٥٢٢) عبداللہ بن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی، اس نے اولاد کو بھی جنم دیا، ان کی ماں کی آزادی کی وجہ سے ان کو آزاد کردیا، پھر ان کا باپ آزاد کردیا گیا، فرمایا: ان کی ولاء ان کے باپ کے عصبات کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21522]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21523
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَجُرُّ الْوَلَاءَ.
(٢١٥٢٣) یزید الرشک بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ولاء کو منتقل کرنے کے قائل تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21523]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21524
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" الْعَبْدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ إِذَا أَعْتَقَ"، قَالَ: وَكَانَ شُرَيْحٌ يَقْضِي بِوَلَاءِ وَلَدِهِ - يَعْنِي: لِمَوَالِي الْأُمِّ، حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَضَى بِهِ شُرَيْحٌ. كَذَا قَالَ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ.
(٢١٥٢٤) اسود بن یزید حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام جب آزاد کردیا جائے تو اس کی وجہ سے اس کی اولاد بھی آزاد ہوجاتی ہے، قاضی شریح رضی اللہ عنہ بچے کی ولاء کا فیصلہ اس کی والدہ کے آزاد کردہ لوگوں کی طرف کرتے تھے، پھر اسود نے قاضی شریح کو ابن مسعود کی بات بتائی تو اس کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21524]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21525
وَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَكَادُ يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ قَضَى بِهِ، حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرَّةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ، فَتَلِدُ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ يُعْتَقُ أَبُوهُمْ:" أَنَّهُ يَصِيرُ وَلَاؤُهُمْ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِمْ"، فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْأَسْوَدُ حَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ جَمِيعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ..
(٢١٥٢٥) اسود بن یزید حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو عورت غلام کے نکاح میں ہو۔ اس کی اولاد بھی ہو۔ پھر ان کا باپ آزاد ہوجائے تو ان کی ولاء باپ کے آزاد کردہ لوگوں کے پاس ہوگی تو قاضی شریح اسی طرح فیصلہ فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21525]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح