السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4206. -- باب:: ما جاء في جر الولاء.
-- باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يَقْضِي فِي الْعَبْدِ إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا أَنَّ الْوَلَاءَ لِأُمِّهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى أَنَّ الْأَبَ إِذَا أُعْتِقَ جَرَّ الْوَلَاءَ، فَتَرَكَ شُرَيْحٌ ذَلِكَ..
حجاج بن ارطاۃ حضرت وبرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی شریح فیصلہ فرماتے تھے کہ جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے اور ان کی اولاد بھی ہو تو ولاء ان کی ماں کے لیے ہے، ان سے کہا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جب باپ کو آزاد کر دیا جائے تو ولاء باپ کے آزاد کردہ لوگوں کے پاس چلی جائے گی، تو پھر قاضی شریح نے اپنی بات چھوڑ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21526]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21527
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً حُرَّةً كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْعَبْدُ، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِجَرِّ الْوَلَاءِ..
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد بھی ہو، پھر اس غلام کو آزاد کر دیا گیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے ولاء کے منتقل ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21527]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21528
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَمْلُوكٍ لَهُ بَنُونَ مِنْ حُرَّةٍ، وَلِلْعَبْدِ أَبٌ حُرٌّ، فَقِيلَ: لِمَنْ وَلَاءُ وَلَدِهِ؟ فَقَالَ:" لِمَوَالِي الْجَدِّ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے ایک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس کے آزاد عورت سے بچے تھے اور غلام کا باپ بھی آزاد تھا، اب اس کے بچے کی ولاء کس کے لیے ہوگی؟ فرمانے لگے: دادا کو آزاد کرنے والوں کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21528]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف