🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4206. -- باب:: ما جاء في جر الولاء.
-- باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يَقْضِي فِي الْعَبْدِ إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا أَنَّ الْوَلَاءَ لِأُمِّهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى أَنَّ الْأَبَ إِذَا أُعْتِقَ جَرَّ الْوَلَاءَ، فَتَرَكَ شُرَيْحٌ ذَلِكَ..
(٢١٥٢٦) حجاج بن ارطاۃ حضرت وبرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی شریح فیصلہ فرماتے کہ جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے۔ ان کی اولاد بھی ہو تو ولاء ان کی ماں کے لیے ہے، ان سے کہا گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جب باپ کو آزاد کردیا جائے تو ولاء باپ کے آزاد کردہ لوگوں کے پاس چلی جائے گی تو پھر قاضی شریح نے اپنی بات چھوڑی دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21526]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21527
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً حُرَّةً كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْعَبْدُ، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِجَرِّ الْوَلَاءِ..
(٢١٥٢٧) محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو۔ اس کی اولاد بھی ہو۔ پھر غلام کو آزاد کردیا گیا تو قاضی شریح نے ولاء کے منتقل ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21527]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21528
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَمْلُوكٍ لَهُ بَنُونَ مِنْ حُرَّةٍ، وَلِلْعَبْدِ أَبٌ حُرٌّ، فَقِيلَ: لِمَنْ وَلَاءُ وَلَدِهِ؟ فَقَالَ:" لِمَوَالِي الْجَدِّ".
(٢١٥٢٨) شعبی فرماتے ہیں کہ ان سے ایک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس کے آزاد عورت سے بچے تھے اور غلام کا باپ بھی آزاد تھا۔ اب اس کے بچے کی ولاء کس کے لیے ہوگی؟ فرمانے لگے: دادا کو آزاد کرنے والوں کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21528]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں