مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ الْكَفَاءَةِ .
کفو (کفاءۃ) (نکاح میں فریقین یعنی شوہر اور بیوی کا برابری، ہمسری اور جوڑ ہونے) کا بیان
حدیث نمبر: 7445
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْعَرَبُ بَعْضُهَا أَكْفَاءُ لِبَعْضٍ وَالْمُوَالِي بَعْضُهُمْ أَكْفَاءُ لِبَعْضٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عرب ایک دوسرے کا کفو ہیں، اور موالی ایک دوسرے کا کفو ہیں“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوجون ہے، میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7445]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوجون ہے، میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7445]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1424)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7446
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تُنْكَحُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ، وَلَا يُزَوَّجُهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کی شادی، صرف کفو میں کی جائے، اور اُن کی شادیاں صرف ان کے اولیاء کریں، اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7446]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7446]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2094)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7447
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْكِحَ نِسَاءَ الْعَرَبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (غیر عربوں) کو اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم عربوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح کریں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7447]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7447]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (163/1)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدا
قال الهيثمي: في إسناد الأوسط السري بن إسماعيل وهو متروك
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (4 / 275)
قال الهيثمي: في إسناد الأوسط السري بن إسماعيل وهو متروك
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (4 / 275)
حدیث نمبر: 7448
وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ: نُفَضِّلُكُمْ بِفَضْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْعَرَبَ - لَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ.
وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ بات منقول ہے: ”ہم تم لوگوں کو (یعنی عربوں کو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ فضیلت کی وجہ سے فضیلت دیتے ہیں“۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی مراد عرب لوگ تھے (انہوں نے فرمایا: ”ہم تمہاری خواتین کے ساتھ نکاح نہیں کریں گے“۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7448]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6158)»
الحكم على الحديث: إسنادہ طبرنی فی الکبیر : إسنادہ صحیح و الاوسط: ضعیف
حدیث نمبر: 7449
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ذَهَبَ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ يَخْطُبُ [ عَلَيْهِ ] امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَدَخَلَ فَذَكَرَ فَضْلَ سَلْمَانَ وَسَابِقَتَهُ وَإِسْلَامَهُ وَذَكَرَ أَنَّهُ يَخْطُبُ إِلَيْهِمْ فَتَاتَهُمْ فُلَانَةَ فَقَالُوا: أَمَّا سَلْمَانُ فَلَا نُزَوِّجُهُ، وَلَكِنَّا نُزَوِّجُكَ. فَتَزَوَّجَهَا، ثُمَّ خَرَجَ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ شَيْءٌ، وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَذْكُرَ ذَلِكَ. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَأَخْبَرَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِالْخَبَرِ فَقَالَ سَلْمَانُ: أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَسْتَحِيَ مِنْكَ أَنْ أَخْطُبَهَا، وَكَانَ اللَّهُ قَدْ قَضَاهَا لَكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَلْمَانَ، وَلَا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَلْمَانَ، وَلَا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
ثابت بنانی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے، تاکہ ان کے لئے بنولیث سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیں، وہ میزبان کے گھر میں داخل ہوئے، انہوں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی فضیلات کا اُن کی سبقت کا ان کے اسلام کا ذکر کیا، اور یہ بات بیان کی: وہ ان لوگوں کے ہاں فلاں خاتون کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں، تو ان لوگوں نے کہا: جہاں تک سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، تو ہم ان کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے، البتہ ہم آپ کے ساتھ شادی کروا دیتے ہیں تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس (خاتون) کے ساتھ شادی کر لی، پھر وہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے فرمایا: یہ ایسی صورت حال ہے کہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کیوں؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں پوری صورت حال بتائی تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ مجھے آپ سے شرم آنی چاہیے کہ میں نے اس عورت کو شادی کا پیغام دیا تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے مقدر میں لکھ دیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ثابت نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7449]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ثابت نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7449]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6050)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7450
وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: يَا بَنِيَّ لَا تُخْرِجُنَّ بَنَاتَكُمْ إِلَّا إِلَى الْأَكْفَاءِ. قَالُوا: يَا أَبَانَا وَمَنِ الْأَكْفَاءُ؟ قَالَ: وَلَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: اے میرے بیٹو! تم اپنی بیٹیوں کی شادیاں صرف کفو میں کرنا، انہوں نے عرض کی: اے ہمارے ابا جان! کفو کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اولاد۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7450]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7450]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (235)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً