مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابٌ فِيمَا أُوتِيَ مِنَ الْعِلْمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نبی اکرم ﷺ کو جو علم عطا کیا گیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 13968
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسُ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ) ، قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ:" مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ"، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں، البتہ پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے (جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے:) ”بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے، اور وہ بارش نازل کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہوتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ علم والا خبر والا ہے۔“ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے، جس میں یہ ذکر ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13968]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13968]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13346) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4766)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13969
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ) .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں عطا کی گئیں، صرف پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے (جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے:) ”بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے، اور جو رحموں میں ہے اسے جانتا ہے، اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی؟ اور کوئی یہ نہیں جانتی کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گی؟ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا، خبر رکھنے والا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور ان دونوں کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13969]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور ان دونوں کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13969]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5153) أخرجه الطيراني فى المعجم الصغير (445/1)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13970
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَعَلَّمَنَا [ التَّشَهُّدَ ] . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے افتتاحی اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم عطا کیا ہے، اس میں سے ہمیں بھی تعلیم دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تشہد کے کلمات سکھائے۔“
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13970]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13970]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7238)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13971
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا کہ آسمان میں جو پرندہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے حوالے سے بھی علم ذکر کر دیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی چیز جنت کے قریب کر سکتی ہے، اور جہنم سے دور کر سکتی ہے، ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، مگر یہ کہ وہ تمہارے سامنے بیان کر دی گئی ہے۔“ طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عبداللہ بن یزید مقری کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے، امام أحمد کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13971]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی چیز جنت کے قریب کر سکتی ہے، اور جہنم سے دور کر سکتی ہے، ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، مگر یہ کہ وہ تمہارے سامنے بیان کر دی گئی ہے۔“ طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عبداللہ بن یزید مقری کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے، امام أحمد کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13971]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (147) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1647) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 153/4»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13972
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَامًا خَبَّرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ہمیں ان امور کے بارے میں بتایا، جو قیامت تک آپ کی اُمت میں رونما ہونا تھے، جس نے اسے محفوظ رکھنا تھا، اس نے محفوظ کیا اور جس نے اسے بھولنا تھا، وہ اسے بھول گیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عمر بن ابراہیم بن محمد کا معاملہ مختلف ہے، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13972]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عمر بن ابراہیم بن محمد کا معاملہ مختلف ہے، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13972]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (254/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13973
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا فِي السَّمَاءِ طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا، کہ آسمان میں جو بھی پرندہ اپنے پروں کے ذریعے اُڑتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اُس کے بارے میں علم ذکر کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13973]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13973]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5109)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13974
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْفَ مَثَلٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار باتیں (یا مثالیں) یاد رکھی ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13974]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13974]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 13975
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کا زیادہ تر حصہ بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتے رہے، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف فرض نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھے تھے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13975]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (437/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 13976
وَفِي رِوَايَةٍ: يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ الْمَكْتُوبَةَ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اس سے مراد فرض نماز ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13976]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13976]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔