🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14967
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، فَإِذَا فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عِنْدَ رَأْسِهِ. قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟". فَقَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ بَعْدَكَ، فَقَالَ:" يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً، فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ، فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً، فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ، وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ يَا فَاطِمَةُ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ تُعْطَ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا، وَلَا تُعْطَى أَحَدًا بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا أَبُوكِ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَهُوَ بَعْلُكِ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَمُّ بَعْلِكِ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا. يَا فَاطِمَةُ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرَجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا، يَقُومُ بِالدِّينِ آخِرَ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا. يَا فَاطِمَةُ، لَا تَحْزَنِي وَلَا تَبْكِي ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْحَمُ بِكِ، وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنْ قَلْبِي، وَزَوَّجَكِ اللَّهُ زَوْجًا وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا، وَأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَأَبْصَرُهُمْ بِالْقَضِيَّةِ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي".
قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا، حَتَّى أَلْحَقَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
علی بن علی ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس بیماری کے آخرت میں آپ کا وصال ہو گیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے موجود تھیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ رونے لگیں، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میری محبوب فاطمہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے عرض کی: مجھے آپ کے بعد ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میری محبوب شخصیت! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جھانک کر دیکھا اور ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا پھر اس نے ایک مرتبہ جھانک کر دیکھا اور اہل زمین میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کیا اور اس نے میری طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں۔ اے فاطمہ! ہم اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور ہمارے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائیں گی، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوں، میں تمہارا باپ ہوں اور میرا وصی تمام اوصیاء سے بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا شوہر ہے، اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہداء سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا چچا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہے جو تمہارے شوہر کا بھی چچا ہے، اور ہم میں سے ایک شخص وہ ہے جس کے دو سبز پر ہیں۔ وہ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ جہاں چاہے اڑ کے چلا جاتا ہے، اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد ہے، اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے، اور ہم میں سے اس امت کے دو سبط (نواسے) ہیں، اور وہ دونوں تمہارے بیٹے حسن اور حسین ہیں۔ وہ دونوں اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے، اس ذات کی قسم! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے: اے فاطمہ! اس ذات کی قسم! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ان دونوں کی اولاد میں سے اس امت میں مہدی آئے گا، جس وقت دنیا میں قتل و غارت گری عام ہو چکی ہو گی، فتنے ظاہر ہو چکے ہوں گے، راستے بند ہو چکے ہوں گے، لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہوں گے، اس وقت کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا، اور کوئی چھوٹا کسی بڑے کی تعظیم نہیں کرے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے مہدی کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کر دے گا، بند دلوں کو کھول دے گا، اور آخری زمانے میں دین کو یوں قائم کرے گا، جس طرح میں نے ابتدائی زمانے میں اس کو قائم کیا تھا، وہ دنیا کو عدل سے بھر دے گا، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی، اے فاطمہ! تم غمگین نہ ہو اور تم روؤ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ تمہارے بارے میں مہربان اور زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے دل میں جو تمہاری جگہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری شادی ایسے شخص کے ساتھ کی ہے، جو تمہارے گھرانے میں حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز ہے، اور منصب کے اعتبار سے سب سے زیادہ عزت والا ہے، رعایا کے لئے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، سب سے بہترین طریقے سے انصاف کرنے والا ہے، عدالتی فیصلوں کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف پچھتر دن زندہ رہی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ابوحاتم کہتے ہیں۔ یہ منکر الحدیث ہے اور اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14967]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14968
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ:" نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَهُوَ أَبُوكِ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ حَمْزَةُ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعْفَرٌ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنِ، وَهُمَا ابْنَاكِ، وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ہمارا (یعنی ہمارے خاندان کا) نبی تمام انبیاء سے بہتر ہے، اور وہ تمہارا باپ ہے اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے، اور وہ تمہارے باپ کا چچا حمزہ ہے، ہم میں سے ایک فرد وہ ہے جس کے دو پر ہیں۔ وہ ان کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے، وہ اڑ کے چلا جاتا ہے اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد جعفر ہے، اور ہم میں سے اس امت کے دو سبط (یعنی نواسے) ہیں، یعنی حسن اور حسین، وہ دونوں تمہارے بیٹے ہیں، اور ہم میں سے مہدی ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14968]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14969
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي يَوْمًا، إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ.
قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" قُومِي، فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي". قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا ابْنَاهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا، فَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي". قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" وَأَنْتِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے اسی دوران خادم نے بتایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر موجود ہیں (یا آ رہے ہیں) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اٹھ جاؤ، اور میرے اہل بیت سے ذرا ہٹ جاؤ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں بٹ گئی اور گھر میں ایک طرف ہو کے بیٹھ گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اندر آئے، ان دونوں کے ساتھ ان کے بچے حسن اور حسین تھے، یہ دونوں کمسن بچے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اور ان دونوں کو بوسہ دیا، آپ نے ایک طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لگایا دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لگا کے انہیں بوسہ دیا، آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بوسہ دیا، پھر آپ نے ان پر ایک سیاہ رنگ کی چادر ڈالی اور پھر یہ کہا: اے اللہ! تیری طرف آئیں گے، جہنم کی طرف نہیں جائیں گے، میں اور میرے اہل بیت۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14969]

الحكم على الحديث: «إسناده ضعيف لجهالة والدِ عطيه الطفاوي ولكن حديث صحيح »
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14970
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ:" ائْتِنِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ". فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِسَاءً كَانَ تَحْتِي خَيْبَرِيًّا أَصَبْنَاهُ مِنْ خَيْبَرَ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ الصَّلَاةِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو لے کے میرے پاس آؤ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں ساتھ لے کے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چادر ڈالی جو میرے نیچے موجود تھی، وہ خیبر سے بنی ہوئی چادر تھی جو ہمیں خیبر سے ملی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! یہ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں محمد کی آل پر نازل فرما، جس طرح تو نے انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر نازل کیا تھا، بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، جس میں اختصار کے ساتھ صرف نماز کا ذکر ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14970]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14971
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَرِّكَةً الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، فِي يَدِهَا بُرْمَةٌ لِلْحَسَنِ فِيهَا سَخِينٌ، حَتَّى أَتَتْ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قُدَّامَهُ قَالَ لَهَا:" أَيْنَ أَبُو حَسَنٍ؟". قَالَتْ: فِي الْبَيْتِ، فَدَعَاهُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَأْكُلُونَ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَمَا سَامَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَكَلَ طَعَامًا قَطُّ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ إِلَّا سَامَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - تَعْنِي سَامَنِي: دَعَانِي إِلَيْهِ - فَلَمَّا فَرَغَ، الْتَفَّ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُمْ، وَوَالِ مَنْ وَالَاهُمْ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا، ان کے ایک ہاتھ میں ہنڈیا بھی تھی جس میں گرم کھانا موجود تھا، وہ اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں اور انہوں نے وہ ہنڈیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ابوالحسن کہاں ہے۔ انہوں نے جواب دیا: وہ گھر میں ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن و حسین بیٹھے اور کھانے لگے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مجھے کھانے کی دعوت نہیں دی حالانکہ اس سے پہلے آپ جب بھی کوئی کھانا کھاتے تھے اور میں آپ کے پاس موجود ہوتی تھی، تو آپ مجھے کھانے کی دعوت دے دیتے تھے، لیکن اس دن ایسا نہیں ہوا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے ان لوگوں پر اپنا کپڑا ڈالا اور پھر یہ فرمایا: اے اللہ! جو ان سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھنا اور جو ان سے محبت رکھے، تو اس سے محبت رکھنا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14971]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6951)»

الحكم على الحديث: إسنادہ جید۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14972
وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَمَّا قَامُوا قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: أَتَيْتُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ، قَالَتْ: تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، أَخَذَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذٍ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ كِسَاءَهُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَزَادَ:" إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، سَيِّئُ الْحِفْظِ، رَجُلٌ صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ.
شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس کچھ لوگ موجود تھے۔ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا (اور ان پر تنقید کی) جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہے، میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے بتایا میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا میں نے ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں، اور ان کے ساتھ حسن اور حسین ہیں، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا، آپ گھر کے اندر تشریف لے آئے، آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قریب آئے، آپ نے حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو، ان دونوں میں سے ہر ایک کو زانوں پر بٹھایا، پھر آپ نے ان پر اپنا کپڑا ڈالا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنی چادر ڈالی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: تیری طرف! جہنم کی طرف نہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے، اور خراب حافظے کا مالک ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے وہ ایک نیک شخص ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14972]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7486) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (/4107)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14973
وَعَنْ أَبِي عَمَّارٍ أَيْضًا قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، إِذْ ذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ: اجْلِسْ أُخْبِرْكَ عَنِ الَّذِي شَتَمُوا ؛ إِنِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَهُ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا؟ قَالَ:" وَأَنْتَ". قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوْثَقُ عَمَلِي فِي نَفْسِي.
ابوعمار ہی سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران کچھ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں برا کہا:، جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے، تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس شخصیت کے بارے میں بتاتا ہوں، جسے یہ لوگ برا کہہ رہے تھے، ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنی چادر ڈالی اور پھر یہ فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، تو ان سے گندگی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں بھی ان میں شامل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ہو۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل یہی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14973]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2669)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14974
وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهَا لَأَرْجَى مَا أَرْجُو.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ السِّيَاقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُلْثُومِ بْنِ زِيَادٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: مجھے جس چیز کے حوالے سے سب سے زیادہ امید ہے وہ یہی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے سیاق کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف کلثوم بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14974]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (66/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14975
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ عَلِيًّا، فَقِيلَ لِي: هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّمْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَجِدُهُمْ فِي حَظِيرَةٍ مِنْ قَصَبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ قَدْ جَمَعَهُمْ تَحْتَ ثَوْبٍ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ جَعَلْتَ صَلَوَاتِكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَمَغْفِرَتَكَ، وَرِضْوَانَكَ، عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نکلا، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہ رہا تھا، مجھے بتایا گیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں، میں ان لوگوں کی طرف چلا گیا۔ میں نے ان حضرات کو کانے کے بنے ہوئے ایک چھپر میں پایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کپڑے کے نیچے رکھا اور پھر یہ دعا کی: اے اللہ! تو اپنی برکتیں رحمتیں مغفرت اور رضامندی مجھ پر اور ان لوگوں پر نازل فرما۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14975]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (95/22)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14976
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي خَمْسَةٍ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا: فِيَّ، وَفِي عَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ آیت ان پانچ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: بے شک اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے اے اہل بیت! کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے) میرے بارے میں، علی فاطمہ حسن اور حسین کے بارے میں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یحیی بن زبان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14976]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2622)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں