مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 14987
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَرْبَعِينَ صَبَاحًا بَعْدَمَا دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بعد چالیس دن تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف لاتے رہے، اور یہ فرماتے رہے: ”تم پر سلام ہو اے اہل بیت! اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14987]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14987]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2673)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14988
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ شَمْلَةً، فَجَلَسَ عَلَيْهَا هُوَ وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِهِ فَعَقَدَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْهُمْ كَمَا أَنَا عَنْهُمْ رَاضٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، كُنْيَتُهُ: أَبُو سِيدَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، كُنْيَتُهُ: أَبُو سِيدَانَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس پر موجود تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کناروں کو پکڑا اور وہ چادر ان پر ڈال کر ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! ان سے راضی ہو جا جس طرح میں ان سے راضی ہوں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عبید بن طفیل کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے، اس کی کنیت ابوسیّدان ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14988]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عبید بن طفیل کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے، اس کی کنیت ابوسیّدان ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14988]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14989
وَعَنْ صُبَيْحٍ قَالَ: كُنْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، فَجَلَسُوا نَاحِيَةً، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ عَلَى خَيْرٍ". وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ، فَجَلَّلَهُمْ بِهِ، وَقَالَ:" أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا صبیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر موجود تھا اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، یہ لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ بھلائی پر ہو۔ راوی کہتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر خیبر کی چادر موجود تھی، آپ نے وہ چادر ان پر ڈال دی اور یہ فرمایا: ”میں اس شخص سے جنگ کروں گا جو تم سے جنگ کرے گا، اور اس شخص کے ساتھ سلامتی والا رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامتی والا رہے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14989]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14989]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14990
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ - فَقَالَ:" أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو تمہارے ساتھ جنگ رکھے گا، اور اس کے ساتھ سلامت رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامت رہے گا۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14990]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14990]
تخریج الحدیث: «خرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2621) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (442/2)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14991
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٌ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ، فَجَاءَ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ". ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، نِيَامٌ فِي لِحَافٍ - أَوْ فِي شِعَارٍ - فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِنَاءٍ لَنَا، فَصَبَّ فِي الْقَدَحِ، فَجَاءَ بِهِ، فَوَثَبَ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ، وَهَذَيْنِ، وَهَذَا الرَّاقِدَ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَنَا، فَجَعَلَ يُمَصِّرُهَا فِي الْقَدَحِ، وَقَالَ:" إِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ".
وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، نِيَامٌ فِي لِحَافٍ - أَوْ فِي شِعَارٍ - فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِنَاءٍ لَنَا، فَصَبَّ فِي الْقَدَحِ، فَجَاءَ بِهِ، فَوَثَبَ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ، وَهَذَيْنِ، وَهَذَا الرَّاقِدَ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَنَا، فَجَعَلَ يُمَصِّرُهَا فِي الْقَدَحِ، وَقَالَ:" إِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ".
وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت سویا ہوا تھا، حسن اور حسین نے پینے کے لئے کچھ مانگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بکری کی طرف اٹھ کے گئے، جس کا دودھ کم آتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا تو وہ زیادہ نکل آیا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف کیا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یوں لگتا ہے جیسے ان دونوں میں سے یہ آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ اس نے اس سے پہلے پینے کے لیے مانگا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور تم اور یہ دونوں (بچے) اور یہ سویا ہوا شخص (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں، حسن اور حسین ایک لحاف میں سو رہے تھے، حسن نے پینے کے لئے کچھ مانگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے برتن کی طرف گئے، آپ نے اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا اور اسے لے کے آئے، اسی دوران حسین بھی اٹھ گیا، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا (یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ابھی ٹھہر جاؤ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یوں لگتا ہے جیسے یہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے پہلے مانگا تھا، بے شک میں اور تم اور یہ دونوں (بچے) اور یہ سویا ہوا شخص، قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے مشکیزے کی طرف گئے، آپ نے اسے پیالے میں نچوڑنا شروع کیا اور فرمایا: یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، امام أحمد کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14991]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں، حسن اور حسین ایک لحاف میں سو رہے تھے، حسن نے پینے کے لئے کچھ مانگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے برتن کی طرف گئے، آپ نے اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا اور اسے لے کے آئے، اسی دوران حسین بھی اٹھ گیا، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا (یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ابھی ٹھہر جاؤ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یوں لگتا ہے جیسے یہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے پہلے مانگا تھا، بے شک میں اور تم اور یہ دونوں (بچے) اور یہ سویا ہوا شخص، قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے مشکیزے کی طرف گئے، آپ نے اسے پیالے میں نچوڑنا شروع کیا اور فرمایا: یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، امام أحمد کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14991]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (510) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2622) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (792)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14992
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ، وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ"
امام ابوجعفر محمد بن علی (یعنی امام باقر رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو یا جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہو، آپ ہمیں اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے کوئی حدیث بیان نہ کیجئے گا، اگرچہ وہ دوسرا شخص ثقہ ہی کیوں نہ ہو، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ناف سے لے کر گھٹنے تک کے درمیان والا حصہ ستر ہوتا ہے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14992]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1033)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14993
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ".
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14993]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1034)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14994
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" شِرَارُ أُمَّتِيَ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي النَّعِيمِ وَغُذُّوا بِهِ ; يَأْكُلُونَ مِنَ الطَّعَامِ أَلْوَانًا، يَتَشَدَّقُونَ فِي الْكَلَامِ".
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو نعمتوں میں پیدا ہوں گے، نعمتوں میں ان کی پرورش ہو گی، انواع و اقسام کے وہ کھانے کھائیں گے، اور چبا چبا کر باتیں کریں گے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14994]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14995
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" يَا بَنِي هَاشِمٍ، إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَبَاءَ رُحَمَاءَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَهْدِيَ ضَالَّكُمْ، وَيُؤَمِّنَ خَائِفَكُمْ، وَيُشْبِعَ جَائِعَكُمْ".
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے بنو ہاشم میں نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہیں نجباء اور رحم کرنے والے بنائے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے گمراہ فرد کو ہدایت نصیب کرے تمہارے خوف زدہ شخص کو امان عطا کرے اور تمہارے بھوکے شخص کو سیر کر دے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14995]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14996
وَرَأَيْتُ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِثَّاءً، وَفِي شِمَالِهِ رَطَبَاتٍ، وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةٍ، وَمِنْ ذَا مَرَّةٍ.
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ہاتھ میں ککڑی اور بائیں ہاتھ میں کھجوریں دیکھیں، آپ کبھی یہ کھا رہے تھے اور کبھی وہ کھا رہے تھے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14996]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1036)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف