مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 14977
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا، فَعَدَّهُمْ فِي يَدِهِ، فَقَالَ: خَمْسَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ.
وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ اہل بیت جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا ہے، اور انہیں اچھی طرح پاک کر دیا ہے، تو انہوں نے ان کو ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے بتایا: وہ پانچ ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نازل ہوئی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14977]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14977]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1847)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14978
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ، وَمَنْ قَاتَلَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَنْ قَاتَلَ مَعَ الدَّجَّالِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ: الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرٍ، وَهُمَا مَتْرُوكَانِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ: الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرٍ، وَهُمَا مَتْرُوكَانِ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا، اور جو شخص اس سے رہ گیا وہ ڈوب گیا، جو شخص آخری زمانے میں ہمارے ساتھ جنگ کرے گا، وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو دجال کے ساتھ مل کر جنگ کرے گا۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داہر ہے، اور یہ دونوں متروک ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14978]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داہر ہے، اور یہ دونوں متروک ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14978]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14979
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا۔“
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14979]
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14979]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14980
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا سَلِمَ، وَمَنْ تَرَكَهَا غَرِقَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ لَيِّنٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ لَيِّنٌ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ سلامت رہا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ڈوب گیا۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14980]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14980]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14981
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ بَابِ حِطَّةٍ فِي إِسْرَائِيلَ ; مَنْ دَخْلَهُ غُفِرَ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا، اور جو شخص اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا، اور تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطہ کی مانند ہے، جو شخص اس میں داخل ہو گیا اس کی مغفرت ہو جائے گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14981]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14981]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2641)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14982
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ: عَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَابْنَاهُمَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ وُثِّقُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ وُثِّقُوا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم یہ فرما دو کہ میں اس کے حوالے سے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ رشتے داری کی محبت کا معاملہ مختلف ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے رشتے دار کون ہیں؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان دونوں کے دونوں بیٹے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14982]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14982]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14983
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حُرُمَاتٍ ثَلَاثًا، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللَّهُ لَهُ شَيْئًا: حُرْمَةُ الْإِسْلَامِ، وَحُرْمَتِي، وَحُرْمَةُ رَحِمِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی تین حرمتیں ہیں جو شخص ان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کے دین اور دنیا کے معاملات کی حفاظت کرتا ہے، اور جو شخص ان کی حفاظت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرتا، اسلام کی حرمت، میری حرمت اور میری رشتے داری کی حرمت۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14983]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14983]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (205) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2881)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14984
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، فَحَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَحَمَلَ حَسَنًا مِنْ شِقٍّ، وَحُسَيْنًا مِنْ شِقٍّ، وَفَاطِمَةُ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: وہ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ نے ایک طرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسری طرف سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں تم پر نازل ہوں، بے شک وہ لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14984]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14984]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14985
وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي بَابَ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَيَقُولُ:" إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے رہے اور یہ پڑھتے رہے: ”اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14985]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14985]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2672)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14986
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ أَتَى بَابَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ". الْآيَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسَلِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسَلِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سترہ ماہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتا رہا، آپ اپنے گھر سے نکلتے تھے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے تھے اور یہ فرماتے تھے، نماز کا وقت ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحمت نازل کرے، اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شعیب مسلی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14986]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شعیب مسلی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14986]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف