مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15017
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ صَنَعَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَدًا فَلَمْ يُكَافِئْهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا فَعَلَيَّ مُكَافَأَتُهُ غَدًا إِذَا لَقِيَنِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کرے اور وہ اس شخص کو دنیا میں اس کا بدلہ نہ دے سکے تو کل جب اس کی مجھ سے ملاقات ہو گی تو اس کو بدلہ دینا میرے ذمہ ہو گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15017]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15017]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15018
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِأَهْلِهِ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَغَيْرَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، مَا لَمْ تَقُمْ عَلَى بَابِ سُدَّةٍ، أَوْ تَأْتِ أَمِيرًا تَسْأَلُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو بلایا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کا ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں بھی اہل بیت میں سے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! جب تک تم کسی سردار کے دروازے پر کھڑے نہیں ہوتے یا کسی امیر کے پاس جا کے کچھ مانگتے نہیں ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15018]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15018]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15019
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِلنَّاسِ حِينَ تَزَوَّجَ بِنْتَ عَلِيٍّ: أَلَا تُهَنِّئُونِي! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی کہ تم لوگ مجھے مبارک باد نہیں دو گے؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15019]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15019]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2635)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15020
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا، البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15020]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15020]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11621)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15021
وَعَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ خَطَبَ إِلَى الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ابْنَتَهُ فَزَوَّجَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
سیده ام بکر بنت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا، تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے ان کی شادی کروا دی اور یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا عبدسی ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15021]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا عبدسی ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15021]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (27/20)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15022
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنَا وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي قُبَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَيَّانُ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَيَّانُ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین، قیامت کے دن عرش کے نیچے ایک قبہ (یعنی خیمے میں ہوں گے)۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15022]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15022]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15023
وَعَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَنَا وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ مُجْتَمِعُونَ، وَمَنْ أَحَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ الْعِبَادِ".
فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ بِالْعَرْضِ وَالْحِسَابِ؟ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ كَانَ لِصَاحِبِ يَاسِينَ بِذَلِكَ حِينَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ سَاعَتِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ بِالْعَرْضِ وَالْحِسَابِ؟ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ كَانَ لِصَاحِبِ يَاسِينَ بِذَلِكَ حِينَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ سَاعَتِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں، علی، فاطمہ، حسن اور حسین اکٹھے ہوں گے اور جو شخص ہم سے محبت رکھے گا، ہم قیامت کے دن ہم کھائیں گے اور پیئں گے، اس وقت تک جب تک بندوں کے درمیان فرق (یعنی حساب) نہیں ہو جاتا۔“ لوگوں میں سے ایک شخص کو اس بات کی اطلاع ملی انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں اس کو اس بارے میں بتایا، اس شخص نے کہا: پھر پیش کیا جانا اور حساب لیا جانا کہاں جائے گا؟ تو میں نے ان سے کہا: اس کے حوالے سے یٰسین کے ساتھی کا کیا معاملہ ہو گا کہ جب اسے اسی وقت جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15023]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15023]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2623)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15024
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -:" إِنَّ أَوَّلَ أَرْبَعَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: أَنَا، وَأَنْتَ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ ظُهُورِنَا، وَأَزْوَاجُنَا خَلْفَ ذَرَارِيِّنَا، وَشِيعَتُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار افراد یہ ہیں: میں، تم، حسن اور حسین، ہماری ذریت ہماری پشت کے پیچھے ہو گی اور ہماری بیویاں ہماری ذریت سے پیچھے ہوں گی اور ہمارے ساتھی ہمارے دائیں طرف اور ہمارے بائیں طرف ہوں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15024]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15024]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2624)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15025
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" النُّجُومُ جُعِلَتْ أَمَانًا لِأَهْلِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15025]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15025]
تخریج الحدیث: «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6262)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15026
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ) قَالَ: نَحْنُ آلُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”آل یٰسین پر سلام ہو۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (اس سے مراد) ہم آل محمد ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15026]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15026]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11064)»
الحكم على الحديث: موضوع