مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15007
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ; فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَهُوَ يَوَدُّنَا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهُ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَغَيْرُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَغَيْرُهُ.
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہماری یعنی اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑو کیونکہ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ ہم سے محبت رکھتا ہو، تو وہ شخص ہماری شفاعت کی وجہ جنت میں داخل ہو گا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! بندے کا عمل اسے اس وقت تک نفع نہیں دے گا جب تک وہ ہمارے حق کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور دوسرے لوگ بھی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15007]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور دوسرے لوگ بھی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15007]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15008
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ، إِيَّاكَ وَبُغْضَنَا ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يُبْغِضُنَا وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا ذِيدَ عَنِ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسِيَاطٍ مِنْ نَارٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے معاویہ بن خدیج تم ہم سے بغض رکھنے سے بچنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی شخص ہم سے بغض رکھے گا یا ہم سے حسد کرے گا اسے قیامت کے دن آگ سے بنے ہوئے کوڑوں کے ذریعے حوض سے پرے کر دیا جائے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو واقفی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15008]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو واقفی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15008]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2726)»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 15009
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَبْغَضَنَا - أَهْلَ الْبَيْتِ - حَشَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَهُودِيًّا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ:" وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ، احْتَجَرَ بِذَلِكَ مِنْ سَفْكِ دَمِهِ، وَأَنْ يُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ. مُثِّلَ لِي أُمَّتِي فِي الطِّينِ، فَمَرَّ بِي أَصْحَابُ الرَّايَاتِ فَاسْتَغْفَرْتُ لَعَلِيٍّ وَشِيعَتِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! جو شخص ہمارے ساتھ یعنی اہل بیت کے ساتھ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا حشر یہودی ہونے کے طور پر کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ سجھتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، وہ اس حوالے سے خون بہانے کی وجہ تلاش کرے، تو وہ کمتر ہو کر مجبوری کے عالم میں جزیہ ادا کرے گا، میرے سامنے مٹی میں میری امت کی مثالی صورت پیش کی گئی، تو جھنڈوں والے لوگ میرے پاس سے گزرے تو میں نے علی اور اس کے ساتھیوں کے لئے دعائے مغفرت کی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15009]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15009]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15010
وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ اسْتُخْلِفَ، فَبَيْنَا هُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ وَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ بِخِنْجَرٍ فِي وَرِكِهِ، فَتَمَرَّضَ مِنْهَا أَشْهُرًا، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، اتَّقُوا اللَّهَ فِينَا ; فَإِنَّا أُمَرَاؤُكُمْ وَضِيفَانُكُمْ، وَنَحْنُ أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا. فَمَا زَالَ يَوْمَئِذٍ يَتَكَلَّمُ حَتَّى مَا تَرَى فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَاكِيًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ تو ایک دن وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو اسی دوران ایک شخص نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو پر خنجر مار دیا جس کی وجہ سے وہ کئی مہینے تک بیمار رہے، پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”اے اہل عراق! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ہم تمہارے امیر بھی ہیں، اور تمہارے مہمان بھی ہیں، اور ہم اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس دن سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد میں ہر شخص روتا ہوا نظر آیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15010]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15010]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2761)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15011
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے اور عربوں سے بغض رکھنا منافقت ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15011]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15011]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11312)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15012
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: أَنْزِلُوا آلَ مُحَمَّدٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، وَبِمَنْزِلَةِ الْعَيْنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ ; فَإِنَّ الْجَسَدَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالرَّأْسِ، وَإِنَّ الرَّأْسَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالْعَيْنَيْنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو اس جگہ پر رکھو جو جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے، جو سر میں آنکھوں کی حیثیت ہوتی ہے، کیونکہ جسم صرف سر کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے، اور سر صرف آنکھوں کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15012]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15012]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2640)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15013
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ نَبِيٍّ فِي صُلْبِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ ذَرِّيَّتِي فِي صُلْبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت کو اس کی پشت میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری ذریت کو علی بن ابوطالب کی پشت میں رکھا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15013]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15013]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2630)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15014
وَعَنْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كُلُّ بَنِي أُمٍّ يَنْتَمُونَ إِلَى عُصْبَةٍ إِلَّا وَلَدَ فَاطِمَةَ ; فَأَنَا وَلِيُّهُمْ، وَأَنَا عُصْبَتُهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ وَلَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ وَلَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.
سیدہ فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر ماں کے بچے اپنے عصبہ رشتے داروں کی طرف منسوب ہوتے ہیں صرف فاطمہ کی اولاد کا معاملہ مختلف ہے میں ان کا ولی ہوں اور میں ان کا عصبہ ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی شیبہ بن نعامہ ہے جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15014]
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی شیبہ بن نعامہ ہے جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15014]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6741) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2632)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15015
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ يَعُودُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ، فَرَفَعَهُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" رَفَعَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ". فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: هَذَا عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" يَدْخُلُ". فَدَخَلَ وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: هَؤُلَاءِ وَلَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" وَهُمْ وَلَدُكَ يَا عَمِّ". قَالَ: أَتُحِبُّهُمَا؟ قَالَ:" أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أَحْبَبْتُهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور آپ کو پلنگ پر بٹھا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے چچا! اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: علی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، راوی کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے، وہ اندر آئے اور ان کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی اولاد ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان یہ آپ کی بھی اوالاد ہیں، انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ سے بھی اسی طرح محبت رکھے جس طرح ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15015]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15015]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (246)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15016
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ؟ قَالَ:" فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ مِنْهَا، وَكَأَنِّي بِكَ وَأَنْتَ عَلَى حَوْضِي تَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْأَبَارِيقَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، وَإِنِّي وَأَنْتَ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَفَاطِمَةَ، وَعَقِيلًا، وَجَعْفَرًا، فِي الْجَنَّةِ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ، أَنْتَ مَعِي وَشِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ) لَا يَنْظُرُ أَحَدٌ فِي قَفَا صَاحِبِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے نزدیک کون زیادہ محبوب ہے، میں یا فاطمہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو، یوں ہے کہ جیسے تم میرے حوض پر ہو گے، اور اس سے لوگوں کو پرے کر رہے ہو گے حالانکہ اس حوض پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہوں گے، اور میں اور تم اور حسن اور حسین اور فاطمہ اور عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے۔ ہم بھائی بھائی بن کے پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے، جنت میں تم میرے ساتھ ہو گے، اور تمہارے ساتھی بھی ہوں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ”وہ بھائی بھائی ہوں گے جو پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”کوئی شخص اپنے ساتھی کی گدی کی طرف نہیں دیکھے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15016]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15016]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف