🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

108. بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15250
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: وَأُمُّ بَنِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَنَاتِهِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ - وَكَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: الطَّاهِرَةُ - بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَأُمُّهَا: فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، وَهُوَ الْأَصَمُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَأُمُّهَا هَالَةُ بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَأُمُّهَا: الْعَرِقَةُ، وَاسْمُهَا قِلَابَةُ بِنْتُ سَعْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ. وَحِبَّانُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ - أَخُو هَالَةَ لِأَبِيهَا وَأَمِّهَا - هُوَ الَّذِي رَمَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَرَّقَ اللَّهُ وَجْهَكَ فِي النَّارِ". فَأَصَابَ أَكْحَلْ سَعْدٍ - رَحِمَ اللَّهُ سَعْدًا - فَمَاتَ شَهِيدًا.
وَكَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَائِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدَ بْنَ عَتِيقٍ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدًا وَهَالَةَ، فَهِنْدُ بْنُ عَتِيقِ بْنِ عَايِدٍ، وَهِنْدُ وَهَالَةُ ابْنَا أَبِي هَالَةَ مَالِكِ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ، إِخْوَةُ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ مِنْ أُمِّهِمْ.
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور آپ کی تمام صاحبزادیوں کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں جو زمانہ جاہلیت میں طاہرہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھیں ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ بن جندب ہے، جندب نامی صاحب اصم بن حجر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی ہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہالہ بنت مناف بن حارث بن منقذ بن عمرو بن معيص بن عامر بن لؤی ہے، اور اس خاتون کی والدہ کا نام عرقہ ہے اس خاتون کا نام اصل میں کلابہ تھا، وہ سعد بن سہل بن عمرو بن حصیص بن کعب بن لؤی کی صاحبزادی ہیں، حبان بن عبد بن مناف ہالہ نامی اس خاتون کے سگے بھائی تھے یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تھا اور یہ کہا: تھا اس کو سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم میں عرق آلود کرے، وہ تیر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ پر لگا تھا اور اسی وجہ سے وہ شہید ہوئے تھے۔ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم سے شادی کی تھی، انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن عقیق کو جنم دیا تھا پھر اس کے بعد ان کے ساتھ ابوہالہ مالک بن نباش بن زراه بن وقدان بن حبیب بن سلامہ بن عدی نے شادی کی تھی جن کا تعلق بنو اسد بن عمرو بن تمیم سے تھا اور وہ بن عبدالدار بن قصی کے حلیف تھے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن ابوہالہ کو جنم دیا تھا وہ صاحب ہند بن عتیق بن عائذ ہیں ہند اور ہالہ یہ دونوں ابوہالہ مالک بن نباش بن زرارہ کے بیٹے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بہن بھائی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15250]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (448/22)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15251
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِمَكَّةَ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ، وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَتْ لِسَبْعِ سِنِينَ مَضَيْنَ مِنْ مَبْعَثِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی یہ وہ پہلی خاتون ہیں جن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی، یہ خاتون اس سے پہلے ابوہالہ تمیمی کی اہلیہ تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تو ان کی عمر اکیس سال تھی اور ان کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے سات سال گزرنے کے بعد ہوا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15251]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (449/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15252
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَسَدٍ زَوَّجَ خَدِيجَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعُمَرُ هَذَا مَتْرُوكٌ.
عمر بن ابوبکر مؤملی بیان کرتے ہیں: عمرو بن اسد نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروائی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور قریش اس وقت خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عمر نامی یہ راوی متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15252]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (449/22)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15253
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً. وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابن جریج بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر سینتیس سال تھی۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15253]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (449/22)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15254
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ أَسَدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، هَذَا الْفَحْلُ لَا يُقْرَعُ أَنْفُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبدالله بن محمد بن یحیی بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عمرو بن اسد نے کہا: محمد بن عبداللہ نے، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے اور وہ ایک ایسے نوجوان ہیں، جن کی ناک پر نہیں مارا جا سکتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15254]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (449/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15255
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: كَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، ثُمَّ نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهِيَ عِنْدَهُ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآمَنَ بِهِ، وَتُوُفِّيَتْ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ أَيْضًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونے سے پہلے آپ کی اہلیہ تھیں پھر آپ پر قرآن نازل ہوا تو وہ آپ کی اہلیہ رہیں وہ پہلی خاتون ہیں: جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے جانے سے تین سال پہلے مکہ میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15255]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (450/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15256
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ، وَمِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ، وَوَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.
مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں: مردوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15256]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (291/19)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15257
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: خَدِيجَةُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (یعنی آپ کے دست اقدس پر) اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15257]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (452/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15258
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مردوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15258]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار فى المسند (2654)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15259
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں (سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب یہ ہے:) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15259]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (444/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں