🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

77. -- باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة
-- باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ، فَاغْسِلُوا ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَعَرَاقِيبَهُمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ أَقْرَبُ إِلَى جَنَّتِكُمْ. فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللهُ، وَكَذَبَ الْحَجَّاجُ فَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. قَالَ: قَرَأَهَا جَرًّا، فَإِنْمَا أَنْكَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْقِرَاءَةَ دُونَ الْغَسْلِ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى وُجُوبِ الْغَسْلِ.
موسیٰ بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے)۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا: وہ «أَرْجُلِكُمْ» کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے صرف قراءت کا انکار کیا ہے، پاؤں دھونے کا نہیں۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
أنبأ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ أَرْسَلَهُ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ لِيَسْأَلَهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ قَالَتْ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ تَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِي الْكِتَابِ إِلَّا غَسْلَتَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ. فَهَذَا إِنْ صَحَّ فَيُحْتَمَلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ بِالْخَفْضِ، وَأَنَّهَا تَقْتَضِي الْمَسْحَ، ثُمَّ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَعَّدَ عَلَى تَرْكِ غَسْلِهِمَا أَوْ تَرْكِ شَيْءٍ مِنْهُمَا ذَهَبَ إِلَى وُجُوبِ غَسْلِهِمَا، وَقَرَأَهَا نَصْبًا. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَهَا نَصْبًا.
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے (طریقے کے) بارے میں پوچھیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کے بارے میں حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کو دھویا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، میں نے انہیں حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں صرف کتاب (قرآن) میں دو دفعہ دھونے اور دو بار مسح کو پاتا ہوں۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/96»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَذَكَرَ ⦗١١٨⦘ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ اغْتَرَفَ غَرْفَةً أُخْرَى فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ، وَالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَسَحَ بِأَسْفَلِ النَّعْلَيْنِ".
عطاء بن یسار کہتے ہیں: ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو بتلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ پھر لمبی حدیث ذکر کی، فرماتے ہیں: پھر آپ نے دوسرا چلو بھرا تو اپنے پاؤں پر چھڑکا اور اس میں جوتی تھی اور بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا اور جوتیوں کے نیچے مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 137»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
وَالَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَاسْتَنْشَقَ وَمَضْمَضَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَصَبَّ عَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى قَدْمَيْهِ وَهُوَ مُتَنَعِّلٌ". فَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ. وَقَدْ خَالَفَهُمَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ کلی کی، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھوں پر دو مرتبہ پانی ڈالا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے قدموں پر چھینٹے دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوتی پہنے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطحاوي 1/71»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
أَمَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، أنا الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْنِي يَتَوَضَّأُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا۔۔۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا، پھر اپنے بائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، پھر فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) ابوسلمہ خزاعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: ”میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 140»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عَجْلَانَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدٌ الْحَافِظُ، نا أَبُو اللَّيْثِ نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْفَرَائِضِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ:" ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
زید بن اسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ہے، فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو لیا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر چلو لیا اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه النسائي 2/1»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
فَأَمَّا حَدِيثُ وَرْقَاءَ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا وَرْقَاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالَ: فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَضْمَضَ مَرَّةً، وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَقَدْ ذَكَرْنَا الرِّوَايَاتِ فِي مَا مَضَى إِلَّا رِوَايَةَ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهِيَ فِيمَا.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، ایک مرتبہ اپنے بازوؤں کو دھویا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ⦗١١٩⦘ ثنا عِيسَى بْنُ مِينَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَأَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى. فَهَذِهِ الرِّوَايَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَهُمَا، وَحَدِيثُ الدَّرَاوَرْدِيِّ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُوَافِقًا بِأَنْ يَكُونَ غَسَلَهُمَا فِي النَّعْلِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا، فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ مَا يُخَالِفُ فِيهِ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتَ، كَيْفَ وَهُمْ عَدَدٌ وَهُوَ وَاحِدٌ؟ ‍ وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔“
(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ دراوردی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔
(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں، کیونکہ وہ پوری جماعت ہے اور یہ اکیلا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنِي الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟" قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ ذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ مِنْ فَوْقِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ، ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ". هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا إِلَى مَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو (وہ طریقہ) بیان کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے؟“ پھر آپ رضی اللہ عنہما نے پانی کا برتن منگوایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے اور پاؤں میں جوتا تھا، پھر پاؤں کے اوپر اور نیچے مسح کیا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل کیا۔
یہ اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے صحیح حدیث ہے، جو جماعت کی روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/247»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ السِّرَاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَلَا أُرِيكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَتَوَضَّأَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَعَلَيْهِ نَعْلُهُ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي النَّعْلَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء بن یسار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا اور پاؤں میں جوتیاں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں