🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

77. -- باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة
-- باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ رُوِيَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ قَدْمَيْهِ" وَرُوِيَ" أَنَّهُ رَشَّ ⦗١٢٠⦘ ظُهُورَهُمَا" وَأَحَدُ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ وَجْهٍ صَالِحِ الْإِسْنَادِ، وَلَوْ كَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ، وَالَّذِي خَالَفَهُ أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْآخَرُ فَلَيْسَ مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لَوِ انْفَرَدَ. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا عَنَى بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ زَيْدٍ، وَعَنِيَ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى ظُهُورِ الْقَدْمَيْنِ، وَقَدْ بَيَّنَا أَنَّهُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَهْرَ الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي بَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِّ بِعِلَلِهِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ فِي مَعْنَى الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے“۔
(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صالح سند کے ساتھ ہے، اگر یہ اکیلی ہوتی تو ثابت ہوتی، لیکن جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور زیادہ ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث ان میں سے نہیں جنہیں اہل علم حدیث ثابت مانتے ہیں، خواہ یہ اکیلی ہی ہوتی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید رحمہ اللہ سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد موزوں کا اوپر والا حصہ ہے اور یہ موزوں پر مسح کے باب میں اپنی علتوں کے ساتھ مذکور ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند سے پہلی حدیث کے معنی میں بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 349]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيَّ بَيْتِي، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَا بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرَيْبَهُ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ بَالَ فَقَالَ:" يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ جَمِيعًا فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ. قَالَ: ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَبَلَّهَا بِهِ، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ:" وَفِي النَّعْلَيْنِ". قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ:" وَفِي النَّعْلَيْنِ". قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ:" وَفِي النَّعْلَيْنِ" وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا هَذَا الْحَدِيثُ، فَكَأَنَّهُ رَأَى الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ أَصَحَّ، يَعْنِي حَدِيثَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ الشَّيْخُ: إِنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ غَسَلَهُمَا فِي النَّعْلَيْنِ، فَقَدْ رُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنْينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ.
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، ہم ایک پیالہ لے کر آئے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی تھا، وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا اور فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا میں آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کا وضو نہ کروں؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“ راوی کہتا ہے: آپ رضی اللہ عنہ کے لیے برتن رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اکٹھا پانی لے کر اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے انگوٹھوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ راوی کہتا ہے: پھر اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ پھر پانی کی ایک ہتھیلی اپنے دائیں ہاتھ سے لی تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو بھی ایسے ہی دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر پانی کی دو ہتھیلیاں لیں تو ان کو اپنے قدموں پر ڈالا اور جو جوتا پاؤں میں تھا تو اس کو تر کیا۔ پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی کیا۔ میں نے کہا: ”جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”ہاں، جوتیوں میں۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: ”کیا جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”جوتیوں میں۔“ میں نے کہا: ”جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”جوتیوں میں۔“
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 117»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 351
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، ایک پانی والا برتن لایا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر فرمایا: ”یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 351]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 79/1»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 352
وَمِنْهَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُرِّيِّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاقَ الْمَاءَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْفَقِيهِ قَوْلُهُ:" حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ" وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک برتن میں پانی ڈالا، پھر پوچھا: سائل کہاں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق پوچھا تھا؟ پھر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا اور قریب تھا کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 352]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه البزار 561»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 353
وَمِنْهَا مَا أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَشَرِبَهُ، وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ. وَثَبَتَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ مَسَحَ، وَأَخْبَرَ أَنَّهُ وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
ابو حیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دھویا اور انہیں صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور اسے کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: مجھے پسند ہے کہ آپ کو دکھاؤں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 353]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 116»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ⦗١٢٢⦘ أنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ، نا شُعْبَةُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً وَاحِدَةً، فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ"، وَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ. وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الثَّابِتِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الرِّجْلَيْنِ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا عُنِيَ بِهِ وَهُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ مُحْدِثٍ، إِلَّا أَنْ بَعْضَ الرُّوَاةِ كَأَنَّهُ اخْتَصَرَ الْحَدِيثَ، فَلَمْ يَنْقُلْ قَوْلَهُ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی ضروریات کے لیے کوفہ کی ایک گلی میں بیٹھے، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، پھر پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے تو اس سے ایک چلو لیا اور اس کے ساتھ اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس طرح کیا ہے اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہیں ہوتا۔“
(ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کر لے، گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا: «هٰذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ» ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہیں ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5293»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا أَبِي، نا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟" قَالَ: فَأَخَذَ وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُحْدِثْ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر فرمایا: ”کہاں ہیں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں؟“
راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بے وضو نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن خزيمة 2/2»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ". وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ إِنَّمَا هُوَ فِي وُضُوءٍ مُتَطَوَّعٍ بِهِ لَا فِي وُضُوءٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ مِنْ حَدَثٍ يُوجِبُ الْوُضُوءَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ وَنَعْلَيْهِ، كَمَا رَوَاهُ عَنْهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ مُقَيَّدًا بِالْجَوْرَبَيْنِ، ⦗١٢٣⦘ وَأَرَادَ بِهِ جَوْرَبَيْنِ مُنَعَّلَيْنِ فَثَابِتٌ عَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ وَالْوَعِيدُ عَلَى تَرْكِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: پاک آدمی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جوتوں پر مسح کے متعلق جو روایت منقول ہے وہ نفلی وضو کے متعلق ہے، نہ کہ اس فرض وضو کے متعلق جو وضو توڑنے والی چیز کی وجہ سے واجب ہوتا ہے، یا ان کی مراد جوتوں میں پاؤں دھونا ہے، یا ان کی مراد جرابوں اور جوتوں پر مسح کرنا ہے، جیسا کہ بعض رواۃ نے اسے جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کیا ہے، اور جرابوں سے مراد ایسی جرابیں ہیں جن کے نیچے چمڑا لگا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن خزيمة 200»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں