السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
279. جماع أبواب المسح على الخفين -- باب: الرخصة في المسح على الخفين
موزوں پر مسح کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1284
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: صَنَعْتَ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَصْنَعُهُ فَقَالَ:" عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ".
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے یہ کام کیا ہے اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1284]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 277»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1285
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَصْنَعْهُ قَالَ:" عَمْدًا صَنَعْتُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے پانچ نمازیں پڑھیں اور موزوں پر مسح کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کچھ کیا ہے جو پہلے نہیں کرتے تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1285]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1286
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٤٠٩⦘ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نَسِيتَ، لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ:" كَلَّا بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" وَرُوِّينَا جَوَازَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ وَأَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی میں داخل ہوئے اور اپنی ضرورت پوری کی، پھر نکلے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے موزے نہیں اتارے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں بلکہ تو بھول گیا ہے، اسی طرح ہی میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔“ (ب) ہم نے مسح کے جواز پر سیدنا عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، حذیفہ بن یمان، ابوایوب انصاری، ابوموسیٰ اشعری، عمار بن یاسر، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، عمرو بن العاص، انس بن مالک، سہل بن سعد، ابومسعود انصاری، مغیرہ بن شعبہ، براء بن عازب، ابو سعید خدری، جابر بن سمرہ، ابو امامہ باہلی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابو زید انصاری رضی اللہ عنہم سے روایات نقل کردی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1286]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 156»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1287
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسُوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:" لَيْسَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ عِنْدَنَا خِلَافٌ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي عَنِ الْمَسْحِ فَأَرْتَابُ بِهِ أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ هَوًى" وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ قَالَ عُقَيْبَ هَذِهِ الْحِكَايَةِ وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا بَلَغَنَا كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، أَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: سَبَقَ الْكِتَابُ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَمْ يُرْوَ ذَلِكَ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ، وَأَمَّا عَائِشَةُ فَإِنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ، ثُمَّ ثَبَتَ عَنْهَا أَنَّهَا أَحَالَتْ بِعِلْمِ ذَلِكَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ أَخْبَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرُّخْصَةِ فِيهِ.
(الف) علی باشانی نے مجھے خبر دی کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا: ہمارے نزدیک موزوں پر مسح کرنے پر اختلاف نہیں ہے اور جب کوئی شخص مجھ سے مسح کے متعلق سوال کرتا ہے تو مجھے اس پر شک ہوتا ہے کہ وہ خواہش پرست (بدعتی) ہے۔
(ب) محمد بن ابراہیم (ابن المنذر) اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ اصحابِ رسول میں سے جس سے بھی موزوں پر مسح کی کراہت منقول ہے، اس سے اس کے برعکس بھی منقول ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ کراہت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہم تک پہنچی ہے۔ (د) اس مسئلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ کتاب اللہ موزوں پر مسح سے سبقت لے گئی ہے۔ ان سے یہ روایت ایسی موصول سند سے منقول نہیں جو ثابت ہو۔ (ر) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو ناپسند کرتی تھیں، پھر ان سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ کا علم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ میں رخصت بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1287]
(ب) محمد بن ابراہیم (ابن المنذر) اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ اصحابِ رسول میں سے جس سے بھی موزوں پر مسح کی کراہت منقول ہے، اس سے اس کے برعکس بھی منقول ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ کراہت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہم تک پہنچی ہے۔ (د) اس مسئلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ کتاب اللہ موزوں پر مسح سے سبقت لے گئی ہے۔ ان سے یہ روایت ایسی موصول سند سے منقول نہیں جو ثابت ہو۔ (ر) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو ناپسند کرتی تھیں، پھر ان سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ کا علم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ میں رخصت بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1287]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو نعيم في الحلية»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1288
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْقَاضِي وَأَبُو الْهَيْثَمِ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ:" ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي" فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا" ⦗٤١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ: ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ فَذَكَرَ هَذَا الْإِسْنَادَ وَقَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا لِي بِهَذَا عِلْمٌ وَلَكِنِ ايتِ رَجُلًا فَسَلْهُ فَهُوَ أَعْلَمُ قُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ايتِهِ فَسَلْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
شریح بن ہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ اس مسئلہ میں مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ”مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے۔“ (ب) دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے اس مسئلہ کا زیادہ علم نہیں ہے۔ آپ ایک شخص کے پاس جائیں وہ اس مسئلہ کو زیادہ جانتے ہیں، میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے پاس جائیے اور مسئلہ پوچھیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1288]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 276»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافَرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:" كُنَّا إِذَا سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسْحِ عَلَى خِفَافِنَا" وَأَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ كَرِهَهُ حِينَ لَمْ يَثْبُتُ لَهُ مَسَحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ فَلَمَّا ثَبَتَ لَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ.
مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور پوچھا تو انہوں نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو اس وقت تک ناپسند کرتے تھے جب تک سورہ مائدہ کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا ان کے ہاں ثابت نہیں ہوا، پھر جب یہ ان کے ہاں ثابت ہو گیا تو انہوں نے اس کی طرف رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1289]
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو اس وقت تک ناپسند کرتے تھے جب تک سورہ مائدہ کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا ان کے ہاں ثابت نہیں ہوا، پھر جب یہ ان کے ہاں ثابت ہو گیا تو انہوں نے اس کی طرف رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1290
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا عِنْدَ عُمَرَ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَضَى لِسَعْدٍ قَالَ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَهَا؟ لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ فَسَكَتَ عُمَرُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جس وقت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے فیصلہ کیا۔ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: بلاشبہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن ﴿سورة المائدة﴾ کے نازل ہونے سے پہلے یا بعد؟ اور کوئی آپ کو یہ نہیں بتائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة المائدة﴾ کے نزول کے بعد مسح کیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 1/366»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1291
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّا عِنْدَ عُمَرَ حِينَ اخْتَصَمَ إِلَيْهِ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَضَى لِسَعْدٍ فَقُلْتُ:" لَوْ قُلْتُمْ بِهَذَا فِي السَّفَرِ الْبَعِيدِ وَالْبَرْدِ الشَّدِيدِ قَالَ: فَهَذَا تَجْوِيزٌ مِنْهُ لِلْمَسْحِ فِي السَّفَرِ الْبَعِيدِ وَالْبَرْدِ الشَّدِيدِ بَعْدَ أَنْ كَانَ يُنْكِرُهُ عَلَى الِإطْلَاقِ ⦗٤١١⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَفْتَى بِهِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ جَمِيعًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جس وقت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما موزوں پر مسح کے بارے میں اپنا جھگڑا ان کے پاس لائے۔ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ کیا تو میں نے کہا: کاش تم یہ بات دور دراز سفر اور سخت سردی کے بارے میں کہتے۔ یہ ان کی طرف سے دور دراز سفر اور سخت سردی میں مسح کی اجازت ہے، اس کے بعد کہ وہ مطلقاً مسح کا انکار کرتے تھے۔ اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے مقیم اور مسافر دونوں کے لیے (مسح کا) فتویٰ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1291]
حدیث نمبر: 1292
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِيفِ بِجُرْجَانَ أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ" وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
موسیٰ بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مسافر تین دن اور تین راتیں اور مقیم ایک دن اور ایک رات (مسح کرے گا) اور یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبي شيبة 1911»
الحكم على الحديث: أخرجه ابن أبي شيبة 1911
حدیث نمبر: 1293
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ عِكْرِمَةَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَبَقَ الْكِتَابُ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كَذَبَ عِكْرِمَةُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" امْسَحْ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَإِنْ خَرَجْتَ مِنَ الْخَلَاءِ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ فِطْرٍ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَوَى عَنْهُ عِكْرِمَةُ، ثُمَّ لَمَّا جَاءَهُ التَّثَبُّتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَسَحَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ قَالَ مَا قَالَ عَطَاءٌ.
فطر بن خلیفہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: اے ابو محمد! عکرمہ کہتے تھے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ موزوں پر مسح کرنے کے متعلق کتاب (قرآن مجید) سبقت لے گئی ہے۔ انہوں نے کہا: عکرمہ رحمہ اللہ نے غلط کہا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ موزوں پر مسح کر، اگرچہ تو بیت الخلاء سے نکلے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وہ کہا ہو جو ان سے عکرمہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، پھر جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثبوت پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سُورَة الْمَائِدَة﴾ کے نزول کے بعد مسح کیا ہے تو انہوں نے وہ بات کہی جو عطاء رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1951»
الحكم على الحديث: صحيح