السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
430. -- باب: تعجيل صلاة الصبح
-- باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي: قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: ثنا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ حَدَّثَنِي مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَصَلَّى بِغَلَسٍ وَكَانَ يُسْفِرُ بِهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ وَهُوَ إِلَى جَانِبِي قَالَ:" هَذِهِ صَلَاتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ" وَفِي كِتَابِ الْعِلَلِ لِأَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثُ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ نَهِيكِ بْنِ يَرِيمَ فِي التَّغْلِيسِ بِالْفَجْرِ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
(ا) مغیث بن سمی سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ انھوں نے نماز اندھیرے میں پڑھی تھی اور وہ اس کو روشنی میں پڑھتے تھے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے ساتھ تھے۔ انھوں نے فرمایا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی نماز تھی۔“ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو عثمان رضی اللہ عنہ اس کو روشن کر کے پڑھنے لگے۔
(ب) ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کتاب العلل میں فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اوزاعی کی حدیث جو نہیک بن یریم سے منقول ہے یعنی فجر کو اندھیرے میں ادا کرنے کے بارے میں، یہ حدیث حسن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2144]
(ب) ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کتاب العلل میں فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اوزاعی کی حدیث جو نہیک بن یریم سے منقول ہے یعنی فجر کو اندھیرے میں ادا کرنے کے بارے میں، یہ حدیث حسن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابو يعلي 5747»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2145
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ⦗٦٦٩⦘ جُنْدُبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَرَ الْهُذَلِيِّ أَنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: كَتَبْتُ إِلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ وَأَحَقَّ مَا تَعَاهُدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دِينِهِمْ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي حَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ مَا حَفِظْتُ وَنَسِيتُ مِنْ ذَلِكَ مَا نَسِيتُ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ حَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، وَالْعِشَاءَ مَا لَمْ يَخَفْ رُقَادَ النَّاسِ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ وَأَطَالَ فِيهَا الْقِرَاءَةَ".
حارث بن عمرو ہذلی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ میں تمہیں نماز کے بارے میں لکھ رہا ہوں اور یہ تمام شرعی احکامات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ اس میں سے مجھے جو یاد رہا وہ یاد رہا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ آپ نے ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھائی اور عصر کی نماز سورج کے صاف اور روشن ہوتے ہوئے ادا فرمائی اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور عشاء کی نماز اس وقت تک ادا کرتے جب تک لوگوں کے سو جانے کا ڈر نہ ہو اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کرتے تھے اور اس میں لمبی قرأت فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ مضٰي تخريجه اكثر من مرة فانظر 2096»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2146
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَلَوْ أَنَّ ابْنِي مِنِّي ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ لَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا أَنْ يَتَكَلَّمَ".
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز (ایسے وقت میں) ادا کی کہ اگر میرا بیٹا مجھ سے تین ہاتھ کے فاصلے پر بھی ہو تو جب تک وہ نہ بولے میں اس کو (اندھیرے کی وجہ سے) پہچان نہیں سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3236»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا وَهُوَ مُعَسْكِرٌ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ قَالَ: وَأَنَا أُرِيدُهُ فَدَنَوْتُ فَأَكَلْتُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا ابْنَ التَّيَّاحِ أَقِمِ الصَّلَاةَ".
حبان بن حارث سے روایت ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ دیر ابی موسیٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا: کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا: میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے بھی روزہ رکھنا ہے، تو میں قریب ہوا اور کھانا کھانے لگا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو فرمایا: اے ابن نباح! نماز کھڑی کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 7609»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2148
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٌ قَالَ النُّفَيْلِيُّ: قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي بِنَا الصُّبْحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَالْمَغْرِبُ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ" ثُمَّ يَقُولُ:" هَذِهِ صَلَاتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ہمیں صبح کی نماز پڑھاتے جب فجر طلوع ہوتی اور مغرب کی نماز پڑھاتے تھے جب سورج غروب ہوتا، پھر فرماتے: یہ ہے ہماری وہ نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھی۔
(ب) فرافصہ بن عمیر سے روایت ہے کہ میں نے سورہ یوسف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قرات سن سن کر یاد کی، کیونکہ وہ اسے کثرت سے صبح کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2148]
(ب) فرافصہ بن عمیر سے روایت ہے کہ میں نے سورہ یوسف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قرات سن سن کر یاد کی، کیونکہ وہ اسے کثرت سے صبح کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ أنبأ الشَّافِعِيُّ أنا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةَ أَنَّ الْفُرَافِصَةَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ: فَذَكَرَهُ. وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ فِيهَا مُغَلِّسًا.
(ا) یحییٰ بن سعید اور ربیعہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ فرافصہ بن عمیر رحمہ اللہ نے کہا۔۔۔ پھر مکمل حدیث کو ذکر کیا۔
(ب) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نماز اندھیرے میں شروع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2149]
(ب) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نماز اندھیرے میں شروع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2149]