السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1466. -- باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت
-- باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَعُودُ مَرْضَى مَسَاكِينِ الْمُسْلِمِينَ، وَضُعَفَاءَهَمْ وَيَتْبَعُ جَنَائِزَهَمْ وَلَا يُصَلِّي عَلَيْهِمْ أَحَدٌ غَيْرَهُ، وَأَنَّ امْرَأَةً مِسْكِينَةً مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي طَالَ سَقَمُهَا، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهَا مِنْ جِيرَانِهَا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَدْفِنُوهَا إِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتُوُفِّيَتْ تِلْكَ الْمَرْأَةُ لَيْلًا وَاحْتَمَلُوهَا فَأَتَوْا بِهَا مَع الْجَنَائِزَ أَوْ قَالَ مَوْضِعَ الْجَنَائِزِ عِنْدَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَمَرَهُمْ، فَوَجَدُوهُ قَدْ نَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، فَكَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَصَلَّوْا عَلَيْهَا، ثُمَّ انْطَلَقُوا بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهُ مِنْ جِيرَانِهَا، فَأَخْبَرُوهُ خَبَرَهَا وَأَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلِمَ فَعَلْتُمْ؟ انْطَلِقُوا" فَانْطَلَقُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ⦗٨٠⦘ قَامُوا عَلَى قَبْرِهَا، فَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُصَفُّ لِلصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَصَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْجَنَائِزِ.
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار و مسکین مسلمانوں کی اور کمزوروں کی عیادت کرتے تھے اور ان کے جنازوں کے ساتھ جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی جنازہ نہ پڑھتا۔ ایک مسکین عورت جو مدینہ کے اطراف میں رہتی تھی اس کی بیماری لمبی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں اس سے پوچھتے جو کوئی اس کے ہمسائے سے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اگر وہ فوت ہوجائے تو مجھے بتائے بغیر دفن نہ کریں، تاکہ اس کا جنازہ پڑھیں۔“ رات میں یہ عورت فوت ہوگئی تو انہوں نے اسے اٹھایا اور جنازے کو ساتھ لائے یا جنازے کی جگہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے پاس لائے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھیں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا۔ انہوں نے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز کے بعد سو چکے ہیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا پسند نہ کیا اور جنازہ پڑھا دیا اور چل دیے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا جو ان کے پڑوسی آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ چلو میرے ساتھ۔“ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دیے حتیٰ کہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی جیسے نمازِ جنازہ کے لیے صف بندی کی جاتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں جیسے جنازے پر تکبیرات کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَخُو خَطَّابٍ، ثنا ابْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ عَلَى قَبْرٍ جَدِيدٍ حَدِيثِ عَهْدِ بِدَفْنٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" قَبْرُ مَنْ هَذَا"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ أُمُّ مِحْجَنٍ كَانَتْ مُولَعَةً بِلَقْطِ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي"، فَقَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُهِيجَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَى مَوْتَاكُمْ نُورٌ لَهُمْ فِي قُبُورِهِمْ"، قَالَ: فَصَفَّ أَصْحَابَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهَا. قَالَ: أَبُو سِنَانٍ: فَعَرَضْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَهُ: صَلَّوْا عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، وَقَالَ: أَلَا سَبَقَ الْقَوْمُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ.
ابن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نئی قبر کے پاس سے گزرے اور آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ام محجن کی ہے جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ انہوں نے کہا: آپ سو رہے تھے، ہم نے آپ کو بیدار کرنا اچھا نہ سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، میری نماز مردوں کی قبروں میں نور کا باعث ہے۔“ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7020]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بَعْدَ مَوْتِهَا بِشَهْرٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سعد کا جنازہ اس کی موت کے ایک ماہ بعد پڑھا۔
یہ روایت مرسل صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7021]
یہ روایت مرسل صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7021]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7022
وَرَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَوْصُولًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ فِي الدِّيَةِ سَوَاءٌ"، يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ، فَقِيلَ لَهُ لَوْ صَلَّيْتَ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ، فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَدْ أَتَى لَهَا شَهْرٌ وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَائِبًا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعِمْرَانُ السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ. وَهَذَا الْكَلَامُ فِي صَلَاتِهِ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ يَنْفَرِدُ بِهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا كَمَا مَضَى، وَفِيمَا حَكَى أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قِيلِ: لِأَحْمَدَ حَدَّثَ بِهِ سُوَيْدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: لَا تُحَدِّثْ بِمِثْلِ هَذَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما موصولاً بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ دیت میں برابر ہیں“، مراد چھنگلی اور انگوٹھا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ ام سعد رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھ لیتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ بعد ان کا جنازہ پڑھا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہیں تھے۔
یہ کلام ام سعد رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ کے متعلق ہے۔ اس سند میں سوید بن سعید متفرد ہیں اور مشہور قتادہ عن ابن مسیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو گزر چکی ہے۔
امام ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ان سے کہا گیا: سوید نے یہ حدیث یزید بن زریع سے بیان کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اس جیسی حدیث بیان نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7022]
یہ کلام ام سعد رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ کے متعلق ہے۔ اس سند میں سوید بن سعید متفرد ہیں اور مشہور قتادہ عن ابن مسیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو گزر چکی ہے۔
امام ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ان سے کہا گیا: سوید نے یہ حدیث یزید بن زریع سے بیان کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اس جیسی حدیث بیان نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7022]
تخریج الحدیث: «صحيح منكر۔ أخرجه ابن عدي»
الحكم على الحديث: صحيح منكر
حدیث نمبر: 7023
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ، كَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَكَانَ أَحَدَ السَّبْعِينَ النُّقَبَاءِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ قَبْلَ أَنْ ⦗٨١⦘ يُهَاجِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهُ حَيْثُ شَاءَ، وَقَالَ: وَجِّهُونِي فِي قَبْرِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ سَنَةٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَرَدَّ ثُلُثَ مِيرَاثِهِ عَلَى وَلَدِهِ، هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَالصَّوَابُ بَعْدَ شَهْرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَهَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِّينَاهُ فِي هَذَا الْكِتَابِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ مَوْصُولًا دُونَ التَّأْقِيتِ.
ابو محمد بن معبد بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قبلے کی طرف منہ کیا اور وہ ستر نقیبوں میں سے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ آئے، انہوں نے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز شروع کر دی۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے تہائی مال کی وصیت کی کہ وہ اسے جہاں چاہیں خرچ فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: جب میں فوت ہو جاؤں تو قبر میں میرا چہرہ قبلے کی طرف کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال کے بعد تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کا جنازہ پڑھا اور اس کا تہائی مال اس کی اولاد کو دے دیا۔
میں نے اپنی کتاب میں ایسے ہی پایا ہے، درست بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مہینے کے بعد ہوا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7023]
میں نے اپنی کتاب میں ایسے ہی پایا ہے، درست بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مہینے کے بعد ہوا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7023]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ:" مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِالصِّفَاحِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَحَمَلْنَاهُ عَلَى عَوَاتِقِ الرِّجَالِ حَتَّى دَفَنَّاهُ بِمَكَّةَ، فَقَدِمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَقَالَتْ: أَيْنَ قَبْرُ أَخِي؟ فَأَتَتْهُ فَصَلَّتْ عَلَيْهِ" زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما صفاح میں یا اس کے قریب فوت ہو گئے، ہم نے انہیں لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا، یہاں تک کہ ہم نے انہیں مکہ میں دفن کر دیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وفات کے بعد آئیں تو انہوں نے کہا: میرے بھائی کی قبر کہاں ہے؟ پھر وہ وہاں آئیں اور ان کا جنازہ پڑھا۔ کچھ نے وہ مدت ایک مہینہ بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7025
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَدِمَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ وَفَاةِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بِثَلَاثٍ فَأَتَى قَبْرَهَ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات کے تین دن بعد آئے تو ان کی قبر پر آئے اور دعا کی (جنازہ پڑھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7025]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح