🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1466. -- باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت
-- باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7009
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ الَّلِه، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طِهْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْ مَرَّ بِقَبْرٍ حَدِيثِ عَهْدٍ بِدَفْنٍ، فَقَالَ:" قَبْرُ مَنْ هَذَا؟" فَقِيلَ: قَبْرُ فُلَانٍ، قَالَ: فَنَزَلَ فَصَفَّ أَصْحَابَهَ خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَأَنَا فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ" ⦗٧٧⦘ وَكَأَنَّهُ سَمِعَ الْحَدِيثَ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جو نئی نئی بنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ کہا گیا: فلاں کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور اس کا جنازہ پڑھا اور میں بھی ان میں تھا جنہوں نے جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7009]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم سابقاً»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرٌ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَخَلَفُ بْنُ سَالِمٍ، قَالُوا: ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَمَا دُفِنَتْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ عَنْ غُنْدَرٍ مُخْتَصَرًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى قَبْرٍ فَقَطْ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے دفن ہونے کے بعد اس کی قبر پر نماز پڑھی۔
اسے امام مسلم نے الصحیح میں ابراہیم بن محمد بن عرعرہ کی سند سے غندر سے مختصراً روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «صَلَّى عَلَى قَبْرٍ فَقَطْ» ”صرف ایک قبر پر نماز پڑھی۔“ [صحیح۔ اسے مسلم نے تخریج کیا ہے] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7010]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم سابقاً»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7011
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ يُدْفَنُ، فَقَالَ:" قَبْرُ مَنْ هَذَا"، قَالُوا: قَبْرُ فُلَانٍ، قَالَ:" أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي"، قَالَ: فَصَغَّرُوا أَمْرَهُ، وَحَقَّرُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ بَعْدَ مَا دُفِنَ، وَقَالَ:" هَذِهِ الْقُبُورُ مَمْلُوءَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا"، وَقَدْ رَوَاهُ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ مَحْفُوظٌ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جس میں میت دفن کی گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں کی قبر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کو حقیر جانا اور چھوٹا تصور کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دفن کیے جانے کے بعد اس کا جنازہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں منور کردیتے ہیں۔“
اسے ثابت نے ابو رافع کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے، اور یہ دونوں سندوں سے محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7011]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: مَاتَ فَقَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ، دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ"، فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت یا مرد مسجد کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: وہ فوت ہو چکا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر بتائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. زَادَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا مِنْ أَمْرِهَا أَوْ مِنْ أَمْرِهِ فَقَالَ:" دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا"، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ.
مسدد فرماتے ہیں: ہمیں حماد بن زید نے اسی سند کے ساتھ اسی معنی میں حدیث بیان کی اور یہ لفظ زیادہ بیان کیے۔ گویا صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے معاملے کو معمولی جانا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔ پھر فرمایا: ”یہ قبریں قبر والوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں روشن کر دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7014
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَتْ فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ:" هَلَّا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي"، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا زَادَ ابْنُ عَبْدَةَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: وَأَنْبَأَ حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی، وہ فوت ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو اس کے متعلق صحابہ سے پوچھا، آپ سے کہا گیا کہ وہ فوت ہوگئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ خبر دی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔
ابن عبدہ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں حماد نے خبر دی کہ ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ قبور کے لیے یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں مگر اللہ سبحانہ میری نماز کی وجہ سے انھیں روشن کردیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7014]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7015
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدُ، قَالَ: فَمَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ"، فَقِيلَ: مَاتَ، قَالَ:" فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ"، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا، قَالَ:" فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا"، قَالَ: فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ:" إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا". وَالَّذِي يَغْلِبُ عَلَى الْقَلْبِ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلَةٌ، كَمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَمَنْ تَابَعَهُ، أَوْ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ فَلَمْ يَذْكُرْهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ فوت ہو گیا یا (وہ عورت) فوت ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس انسان نے کیا کیا؟ جو مسجد کی خدمت کیا کرتا تھا۔“ عرض کیا گیا کہ وہ فوت ہو چکا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ انہوں نے کہا کہ رات تھی اس لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔ پھر ثابت رحمہ اللہ نے یہ بات بھی بیان کی کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں منور کر دیتا ہے۔“
غالب گمان یہ ہے کہ یہ اضافہ ابو رافع عن ابوہریرہ کی روایت کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یا تو یہ ثابت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً منقول ہے، جیسا کہ احمد بن عبدہ اور ان کی متابعت کرنے والوں نے روایت کیا ہے، یا ثابت عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے، جیسا کہ خالد بن خداش نے روایت کیا ہے۔ حماد کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے ثابت عن ابو رافع روایت کیا ہے اور اس اضافے کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ الْحَجَّاجِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَتَتَبَّعُ قَذَى الْمَسْجِدِ وَيَلْقِطُهُ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ فُلَانٌ"، فَقِيلَ: إِنَّهُ مَاتَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ مَنْ شَاءَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَمَرَهُمْ فَصَفُّوا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ بِهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد کی صفائی وغیرہ کیا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو فرمایا: ”فلاں کا کیا ہوا؟“ کہا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے، تو آپ کے ساتھ صحابہ چلے جس قدر اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صف بنانے کا حکم دیا، پھر آپ آگے بڑھے اور جنازہ پڑھایا۔
حماد بن واقد ثابت بنانی سے اور وہ ابورافع رضی اللہ عنہ سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7016]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7017
أَخْبَرَنَا جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُوفِيُّ، مِنْ آلِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، فَذَكَرَهُ. وَحَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا ضَعِيفٌ، وَهَذَا التَّأْقِيتُ لَا يَصِحُّ الْبَتَّةَ وَإِنَّمَا يَصِحُّ مَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَخِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَزِيدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَزَيْدٌ لَمْ يَشْهَدْهُ.
حماد بن واقد صفّار رحمہ اللہ نے بھی یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔
یہ حماد بن واقد ضعیف ہے، اور وقت کی یہ تعیین بالکل صحیح نہیں ہے، صحیح وہ ہے جو بعض راویوں نے حماد بن زید سے ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دنوں بعد اس کے بارے میں پوچھا، اور بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اس کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7017]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7018
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَسَأَلَ عَنْهُ فَذُكِرَ لَهُ فَعَرَفَهُ، فَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتَ قَائِلًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، فَقَالَ:" لَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَصَفَّنَا عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَبُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت البقیع کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی قبر دیکھی تو اس کے متعلق پوچھا۔ صحابہ نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، سو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں، میں یہ نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور تم مجھے اطلاع نہ دو، کیونکہ میری دعا اس کے لیے باعثِ رحمت ہوتی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7018]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں