🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2223. -- باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها
-- باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، وَأَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" لَفْظُ حَدِيثِهِمْ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ جَارِيَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا أَشُكُّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ، وَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي جَارِيَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ خَازِنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(١٠٤٧٤) حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں نے سو دینار کے عوض سونا خریدا تو طلحہ بن عبیداللہ نے مجھے بلایا اور ہم نے آپس میں قیمت طے کی یہاں تک کہ اس نے مجھ سے خرید لیا اور سونے کو لے کر وہ اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے۔ پھر کہنے لگے: یہ رکھ لو جب تک میرا خزانچی غابہ نامی جگہ سے آجائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن رہے تھے، فرمانے لگے: اس سے جدا نہ ہونا۔ یہاں تک کہ اس سے قیمت وصول کرلو۔ پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے، چاندی چاندی کے، گندم گندم کے، کھجور کھجور اور کے جو جو کے عوض سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ جب تک میرا خزانچی یا میری لونڈی غابہ نامی جگہ سے واپس آجائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: میں نے امام مالک کے سامنے اس کی صحیح تلاوت کی۔ مجھے شک نہ تھا پھر ایک وقت گزر گیا، مجھے صحیح یاد نہ رہا تو مجھے شک پیدا ہوگیا کہ میرا خزانچی یا میری لونڈی، لیکن میرے علاوہ دوسرے خزانچی کے لفظ ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن یوسف امام مالک سے خزانچی کے لفظ ہی ذکر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10474]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2065»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ" - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نَصْرٍ -:" وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" ⦗٤٥٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ ذَكَرَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُمَا وَأَوْضَحَ ثُمَّ ذَكَرَ.
(١٠٤٧٥) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے برابرسرابر ہی فروخت کرو۔ ایک دوسرے میں کمی زیادتی نہ کرو۔ اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے برابر برابر ہی لو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔ ابونضر کی روایت میں ہے کہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2068»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10476
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" - وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا -:" الْمِلْحَ أَوِ التَّمْرَ" - وَزَادَ أَحَدُهُمَا -:" مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" الرَّجُلُ الْآخَرُ يُقَالُ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ..
(١٠٤٧٦) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض اور نمک نمک کے بدلے فروخت نہ کرو لیکن برابر برابر، ایک جنس جنس کے بدلے، دست بدست نقد خریدو فروخت کرو۔ لیکن سونا چاندی کے عوض اور چاندی سونے کے بدلے، گندم جَو کے عوض اور جو گندم کے عوض اور کھجور نمک کے بدلے اور نمک کھجور کے عوض نقد بنقد جیسے تم چاہو خریدو فروخت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10476]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1587»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10477
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَاهُ قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ وَمُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي بَيْعَةٍ أَوْ كَنِيسَةٍ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الصَّرْفِ بِطُولِهِ. وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ مِنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ.
(١٠٤٧٧) مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید دونوں فرماتے ہیں کہ عبادہ اور معاویہ کے اکٹھے ہونے کی جگہ ایک یہودیوں کا معبد خانہ تھا یا عیسائیوں کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10477]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَامَ: فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا مَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ وَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، حَتَّى عَدَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ⦗٤٥٥⦘ قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ عُبَادَةُ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، كَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(١٠٤٧٨) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم ایسی بیوع کا تذکرہ کرتے ہو کہ میں ان کے متعلق نہیں جانتا۔ سونا سونے کے عوض اس کی ڈلی اور جنس وزن میں برابر دست بدست نقد خریدو فروخت اور چاندی چاندی کے عوض اس کی ڈلی اور اصل نقد دست بدست خریدو فروخت کرو اور سونا چاندی کے بدلے اور چاندی کا وزن سونے سے زیادہ ہو نقد دست بدست خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں ہے اور ادھار درست نہیں ہے۔ گندم گندم کے عوض مد مد کے بدلے دست بدست نقد خریدو فروخت اور جَو جَو کے عوض ایک مَد مَد کے عوض نقد دست بدست خریدو فروخت کرو اور جو کو گندم کے عوض فروخت کرنا اور جو وزن میں زیادہ ہو نقد دست بدست خریدو فروخت کرو۔ لیکن ادھار درست نہیں ہے اور کھجور کھجور کے عوض یہاں تک نمک نمک کے بدلے تک شمار کیا برابر برابر، نقد دست بدست خریدو فروخت اور کاروبار کیا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ بدری تھے اور انصار کے سرداروں میں سے تھے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے بارے میں کمی سے خوف نہ کھائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10478]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10479
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ عْنِ ابْنِ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ مَرْفُوعًا.
(١٠٤٧٩) ابوالاشعث صنعانی وہ حضرت عبادہ کے خطبہ کے وقت موجود تھے کہ میں نے ان سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے عوض اس کی ڈلی اور اصل برابر وزن کے ساتھ اور چاندی چاندی کے عوض اس کی ڈلیاں اور جنس برابر وزن کے ساتھ اور گندم گندم کے، جَو جَو کے، کھجور کھجور کے اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن کے ساتھ، جس نے زائد دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود حاصل کیا اور جَو کو گندم کے بدلے دست بدست نقد خریدو فروخت کرنا اور جو زیادہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1587»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10480
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَاءَ أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: قَالُوا: أَبُو الْأَشْعَثِ، أَبُو الْأَشْعَثِ فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا غَزْوَةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنَّ بَيْعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ، فَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَامَ، فَقَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى". فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ، وَنَصْحَبُهُ وَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ؟" فَقَامَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ، ثُمَّ قَالَ:" لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا من رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ، - أَوْ قَالَ: وَإنْ رَغِمَ مُعَاوِيَةُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ" قَالَ حَمَّادٌ: هَذَا أَوْ نَحْوُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ.
(١٠٤٨٠) ابوقلابہ کہتے ہیں کہ میں شام میں اس مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار موجود تھے۔ ابوالاشعث آئے تو انھوں نے کہا کہ ابوالاشعث، ابوالاشعث آگئے۔ وہ بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا: اے ہمارے بھائی! آپ عبادہ بن صامت والی حدیث بیان کریں، فرمانے لگے: ہاں ہم نے غزوہ کیا اور ہمارے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمیں بہت ساری غنیمت حاصل ہوئیں اور ہماری حاصل کردہ غنیمت میں چاندی کے برتن بھی تھے۔ حضرت معاویہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ ان کو لوگوں کو عطیات میں فروخت کردیں، لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی۔ حضرت عبادہ بن صامت کو خبر ملی تو وہ کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَوجَو کے بدلے۔ کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، فروخت کرنے سے منع کیا ماسوائے برابر، برابر جنس جنس کے بدلے۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا۔ اس نے سود حاصل کیا، لوگوں نے جو لیا تھا واپس کردیا۔ حضرت معاویہ کو خبر ملی انھوں نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہم نے آپ سے نہیں سنی، حضرت عبادہ کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے قصہ دوبارہ دہرایا۔ پھر فرمایا کہ ہم وہ بیان کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو، یا فرمایا: اگرچہ معاویہ رنجیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اس کے لشکر کے ساتھ اندھیری رات میں چلوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10480]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1587»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنا وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ ⦗٤٥٦⦘ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَأَصَبْنَا ذَهَبًا وَفِضَّةً فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي النَّاسِ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِيهَا فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَهَاهُمْ فَرَدُّوهَا، فَأَتَى الرَّجُلُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَيْهِ لَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
(١٠٤٨١) ابوقلابہ حضرت ابوالاشعت سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ہمارے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں مال غنیمت میں سونا چاندی ملا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے عطیات میں ایک آدمی کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا تو لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کردیا، لوگوں نے سامان واپس کردیا، ایک آدمی اگر حضرت معاویہ کو شکایت کردی۔ حضرت معاویہ نے خطبہ دیا اور فرمانے لگے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ ہم نے وہ احادیث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی۔ حضرت عبادہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو ناپسند ہی کیوں نہ لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنے سے منع کیا ماسوائے برابر اور برابر جنس جنس کے بدلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10481]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10482
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى، فَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ".
(١٠٤٨٢) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر، برابر اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن کے ساتھ اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن کے ساتھ اور جَو جَو کے بدلے برابر، اور گندم گندم کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر، جس نے زیادہ دیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود لیا تم سونے کو چاندی کے عوض دست بدست نقد فروخت کرو جیسے تم چاہو اور کھجور کو نمک کے عوض نقد فروخت کرو اور جَو کو گندم کے عوض دست بدست نقد فروخت کرو جیسے تم چاہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10483
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أنا وَكِيعٌ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
(١٠٤٨٣) وکیع حضرت سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے جَو جَو کے بدلے کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد خریدو فروخت کرو۔ یہ چیزیں باہم مختلف ہوں تو دست بدست جس طرح چاہو خریدو فروخت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10483]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں