السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2233. -- باب: بيع الحيوان وغيره مما لا ربا فيه بعضه ببعض نسيئة
-- باب: جانوروں اور ان جیسی دیگر اشیاء جن میں سود نہیں ہوتا، ان کی ایک دوسرے کے عوض ادھار بیع (خرید و فروخت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10528
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ ⦗٤٧١⦘ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، أَنَبِيعُ الْبَقَرَةَ بِالْبَقَرَتَيْنَ وَالْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ وَالشَّاةَ بِالشَّاتَيْنِ؟ فَقَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ نَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ:" خُذْ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ" قَالَ: فَجَعَلْتُ آخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفُوا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي إِسْنَادِهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقَةً لَهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ.
(١٠٥٢٨) عمرو بن حریش کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے کہا: ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں سونا چاندی نہیں ہوتا۔ کیا ہم ایک گائے دو کے عوض خرید لیں، ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوض، ایک بکری دو بکریوں کے عوض خرید لیں۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہوگئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اونٹ ختم ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کے اونٹ لے لو۔ کہتے ہیں: میں ایک اونٹ دو کے عوض لے رہا تھا، صدقہ کے اونٹوں سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10528]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 3357»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10529
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو:" وَلَيْسَ عِنْدَنَا ظَهْرٌ"، قَالَ: فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ ظَهْرًا إِلَى خُرُوجِ الْمُصَدِّقِ، فَابْتَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ وَبِأَبْعِرَةٍ إِلَى خُرُوجِ الْمُصَدِّقِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(١٠٥٢٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس سواریاں نہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سواریاں خریدیں صدقہ کے اونٹ آنے تک۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوضخریدا۔ صدقہ کے اونٹ آنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10529]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الدارقطني 3/ 69»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10530
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ بَاعَ جَمَلًا لَهُ يُدْعَى عُصَيْفِيرًا بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ.
(١٠٥٣٠) حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ خریدا جس کا نام عصیفیر تھا ٢٠ اونٹوں کے عوض وقت مقررہ تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10530]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1330»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10531
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ".
(١٠٥٣١) نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک سواری چار اونٹوں کے عوض خریدی جس کی ضمانت دی گئی تھی کہ وہ ان کے مالک کو ربزہ میں جا کر ادائیگی کردیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10531]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 13312»
الحكم على الحديث: صحيح