السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
218. -- باب: الرجل يطوف على نسائه إذا حللنه أو على إمائه بغسل واحد
-- باب: آدمی کا ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی حلال بیویوں یا لونڈیوں کے پاس باری باری جانے کا بیان
حدیث نمبر: 987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں ایک غسل سے کئی بیویوں کے پاس گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 263»
الحكم على الحديث: صحيح
219. -- باب: رواية من روى يغتسل عند كل واحدة
-- باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے ہر ایک کے پاس جانے کے بعد غسل کرنے کی روایت نقل کی ہے
حدیث نمبر: 988
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ:" هَذَا أَزْكَى وَأَطْهَرُ وَأَطْيَبُ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا السَّيْلَحِينِيِّ: طَافَ عَلَى نِسَائِهِ أَجْمَعَ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، يَغْتَسِلُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَهَلَّا غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ:" هَذَا أَطْيَبُ وَأَزْكَى".
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، اس کے پاس غسل کیا اور اس کے پاس غسل کیا (یعنی ہر بیوی کے پاس غسل کیا) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایک غسل کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زیادہ پاکیزہ اور اچھا اور پاکی کا باعث ہے۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 988]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 219»
الحكم على الحديث: ضعيف
220. جماع أبواب التيمم -- باب: سبب نزول الرخصة في التيمم
تیمم کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: تیمم کی رخصت نازل ہونے کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ عَلَى خَاصِرَتِي، فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مْكَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتِ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ. لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیداء یا ذات الجیش جگہ پر پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا، اس کی تلاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا اور وہاں پانی نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا، لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا دیا اور وہ پانی (کے چشمہ وغیرہ) پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا“۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: ”تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا“، فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور وہ میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کچوکے مارتے تھے اور میں اس وجہ سے حرکت نہیں کرتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ لوگوں نے بغیر پانی کے صبح کی۔ اللہ نے تیمم کی آیت نازل کر دی، انہوں نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے تھے فرمانے لگے: ”اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری وجہ سے پہلی برکت نہیں ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے ہار اس کے نیچے پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 327»
الحكم على الحديث: صحيح
221. -- باب: كيف التيمم
-- باب: تیمم کی کیفیت (طریقے) کا بیان
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، أنا وَقَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ:" أَقْبَلَ ⦗٣١٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ.
سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمل کے کنویں کی طرف سے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے پاس آئے، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 330»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 991
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
لیث نے اسی سند سے اور اسی معنی میں بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الدار قطني 1/176»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، قَالَ:" مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ". وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ كَاتَبِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزٍ الْأَعْرَجُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ الصِّمَّةِ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِي عَدَالَتِهِمَا إِلَّا أَنَّ لِرِوَايَتِهِمَا بِذِكْرِ الذِّرَاعَيْنِ فِيهِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابن صمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کی طرف کھڑے ہوئے، اس کو لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ کے پاس تھی، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کاتبِ لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اسے ابن صمہ سے نہیں سنا، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کے واسطے سے ابن صمہ سے سنا ہے۔
(ج) ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی اور ابو حویرث عبدالرحمن بن معاویہ دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ مگر بازوؤں کے ذکر والی ان کی روایت کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 992]
(ب) یہ روایت ابو صالح کاتبِ لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اسے ابن صمہ سے نہیں سنا، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کے واسطے سے ابن صمہ سے سنا ہے۔
(ج) ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی اور ابو حویرث عبدالرحمن بن معاویہ دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ مگر بازوؤں کے ذکر والی ان کی روایت کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الشافعي 31»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 993
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، وَكَانَ صَدُوقًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَتِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَنْ قَضَى حَاجَتَهُ كَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ مَسْحَةً، ثُمَّ ضَرَبَ ⦗٣١٧⦘ بِكَفَّيْهِ الثَّانِيَةِ، فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ أَوْ عَلَى طَهَارَةٍ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ وَقَدْ أَنْكَرَ بَعْضُ الْحُفَّاظِ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ فَقَدْ رَوَاهُ جِمَاعَةٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ وَالَّذِي رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا هُوَ التَّيَمُّمُ فَقَطْ فَأَمَّا هَذِهِ الْقِصَّةُ فَهِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهُورَةٌ بِرِوَايَةِ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ وَغَيْرِهِ، وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ قَصَّرَ بِرِوَايَتِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِكَ.
نافع نے بیان کیا کہ میں ابن عمر کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب انہوں نے اپنا کام پورا کر لیا تو یہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی کسی گلی میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر فرمایا: ”مجھے کسی نے نہیں روکا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دیتا، مگر میرا وضو نہیں تھا“ یا فرمایا: ”میں پاک نہیں تھا۔“ (ب) بعض محدثین نے محمد بن ثابت عبدی پر اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل صرف تیمم ہے۔ یہ واقعہ ابوجہیم بن حارث صمہ وغیرہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 993]
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو داؤد 330»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى يَعْنِي الْبُرُلُّسِيُّ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ". فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ شَاهِدَةٌ لِرِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ إِلَّا أَنَّهُ حَفِظَ فِيهَا الذِّرَاعَيْنِ وَلَمْ ⦗٣١٨⦘ يُثْبِتْهَا غيْرُهُ كَمَا سَاقَ هُوَ وَابْنُ الْهَادِ الْحَدِيثَ بِذِكْرِ تَيَمُّمِهِ، ثُمَّ رَدُّهُ جَوَّابِ السَّلَامِ وَإِنْ كَانَ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ قَصَّرَ بِهِ وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ التَّيَمُّمِ عَلَى الْوَجْهِ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ شَاهِدٌ لصحةِ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ غَيْرَ مُنَافٍ لَهَا. وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. كَذَا قَالَ فِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ عَنْهُ، وَهُوَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مُسْتَحِقٍّ لِلتَّنْكِيرِ بِالدَّلَائِلِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، مِثْلُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِمْ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَنْهُ، وَهُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَشْهُورٌ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے واپس آئے تو جمل کے کنویں کے پاس ایک شخص نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ دیوار پر رکھا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
یہ روایت محمد بن ثابت عبدی کی روایت کے لیے شاہد ہے، مگر انہوں نے اس میں بازوؤں کا ذکر محفوظ رکھا ہے جسے کسی اور نے ثابت نہیں کیا۔ انہوں نے اور ابن ہاد نے حدیث کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیمم اور پھر سلام کا جواب دینے کے ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے، اگرچہ ضحاک بن عثمان نے اسے مختصر بیان کیا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا چہرے اور کہنیوں تک بازوؤں پر تیمم کرنے کا عمل محمد بن ثابت کی روایت کے صحیح ہونے کا شاہد ہے، اس کے منافی نہیں۔ یحییٰ بن معین نے محمد بن ثابت عبدی کے بارے میں فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اس حدیث میں وہ ان دلائل کی بنا پر جو میں نے ذکر کیے، رد کیے جانے کے مستحق نہیں، ائمہ کی ایک جماعت نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے، جیسے یحییٰ بن یحییٰ، معلیٰ بن منصور اور سعید بن منصور وغیرہ، اور مسلم بن ابراہیم نے ان کی تعریف کی اور ان سے روایت کی، اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 994]
یہ روایت محمد بن ثابت عبدی کی روایت کے لیے شاہد ہے، مگر انہوں نے اس میں بازوؤں کا ذکر محفوظ رکھا ہے جسے کسی اور نے ثابت نہیں کیا۔ انہوں نے اور ابن ہاد نے حدیث کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیمم اور پھر سلام کا جواب دینے کے ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے، اگرچہ ضحاک بن عثمان نے اسے مختصر بیان کیا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا چہرے اور کہنیوں تک بازوؤں پر تیمم کرنے کا عمل محمد بن ثابت کی روایت کے صحیح ہونے کا شاہد ہے، اس کے منافی نہیں۔ یحییٰ بن معین نے محمد بن ثابت عبدی کے بارے میں فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اس حدیث میں وہ ان دلائل کی بنا پر جو میں نے ذکر کیے، رد کیے جانے کے مستحق نہیں، ائمہ کی ایک جماعت نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے، جیسے یحییٰ بن یحییٰ، معلیٰ بن منصور اور سعید بن منصور وغیرہ، اور مسلم بن ابراہیم نے ان کی تعریف کی اور ان سے روایت کی، اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 994]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 331»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْجُرْفِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْمِرْبَدِ نَزَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَتَيَمَّمَ صَعِيدًا طَيِّبًا فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جرف سے آئے، جب ہم مربد جگہ میں تھے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اترے، پاک مٹی سے تیمم کیا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 121»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 996
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنیوں تک مسح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 996]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 122»
الحكم على الحديث: صحيح