السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
212. -- باب: الجنب يريد النوم فيغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة، ثم ينام
-- باب: اس جنبی کا بیان جو سونے کا ارادہ کرے تو اپنی شرمگاہ دھو لے اور نماز جیسا وضو کرے، پھر سو جائے
حدیث نمبر: 967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَفِي رِوَايَةِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ فَرْجَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ نَامَ".
(الف) لیث بن سعد نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی شرم گاہ کو دھوتے اور نماز جیسا وضو کرتے، پھر سو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 967]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی شرم گاہ کو دھوتے اور نماز جیسا وضو کرتے، پھر سو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 968
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَثَّامٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَجْنَبَ فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ أَوْ تَيَمَّمَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور آپ سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ وضو کرتے یا تیمم کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 969
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ⦗٣٠٩⦘ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَوْتَرَ وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ" قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ مِنَ اللَّيْلِ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ اللَّيْلِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ" قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ" قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَصَرَ الْحَدِيثَ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْغُسْلِ دُونَ مَا قَبْلَهُ.
عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق سوال کیا کہ آپ وتر اول رات میں پڑھتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات وتر رات کے شروع میں پڑھتے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے، میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی قراءت کیسی تھی؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو قراءت اونچی کرتے تھے یا آہستہ؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات آپ نے آہستہ کی اور بعض اوقات اونچی آواز سے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ جنابت میں کس طرح کرتے تھے، کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر سو گئے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ" قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت میں کیسے کرتے تھے، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے؟ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر سو گئے، میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً» ”سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 307»
الحكم على الحديث: صحيح
213. -- باب: الجنب يريد النوم فيأتي ببعض وضوئه ثم ينام
-- باب: اس جنبی کا بیان جو سونے کا ارادہ کرے تو وضو کے بعض افعال ادا کر کے پھر سو جائے
حدیث نمبر: 971
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَطْعَمَ، أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ طَعِمَ، أَوْ نَامَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگر حالت جنابت میں کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لیتے اور اپنے سر کا مسح کر لیتے، پھر کھاتے یا سو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 109»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ لِيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَنَمْ حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ". قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ صَبَّ عَلَى يَدَيْهِ مَاءً، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ الشِّمَالِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الَّتِي غَسَلَ بِهَا فَرْجَهُ، ثُمَّ ⦗٣١٠⦘ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَنَضَحَ فِي عَيْنَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ نَامَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَطْعَمَ شَيْئًا وَهُوَ جُنُبٌ فَعَلَ ذَلِكَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ الرَّاوِي لِلْخَبَرِ قَدْ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ تَفْسِيرَ الْوُضُوءِ الْمَذْكُورِ فِي الْخَبَرِ إِلَّا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ رَوَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، وَوُضُوءُ الصَّلَاةِ يَشْتَمِلُ عَلَى غَسْلِ الرَّجُلَيْنِ مَعَ سَائِرِ الْأَعْضَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ لَيْسَ يُرِيدُ بِهِ الْوَطْءَ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ الْحَدَثَ وَسِيَاقُ الْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ وَسَيَأْتِي تَمَامُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا حالتِ جنابت میں ہم میں سے کوئی سو سکتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وضو کرے، پھر سو جائے، یہاں تک کہ جب چاہے غسل کر لے۔“ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ کو بائیں ہاتھ سے دھوتے، پھر اس ہاتھ کو دھوتے جس سے شرمگاہ دھوئی تھی، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے اور اپنی آنکھوں میں چھینٹے مارتے اور اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھوتے اور اپنے سر کا مسح کرتے، پھر سو جاتے۔ اگر حالتِ جنابت میں کوئی چیز کھانے کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 1077»
الحكم على الحديث: صحيح
214. -- باب: كراهية نوم الجنب من غير وضوء
-- باب: جنبی کے بغیر وضو کیے سونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَجِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا كَلْبٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، جنبی یا کتا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 227»
الحكم على الحديث: ضعيف
215. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في الجنب ينام ولا يمس ماء
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو جنبی کے پانی چھوئے بغیر سو جانے کے بارے میں وارد ہے
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (بعض اوقات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی نہیں چھوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله ’’ولا يمس مائ‘‘»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 975
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ ⦗٣١١⦘ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، وَكَانَ لِي جَارًا وَصَدِيقًا عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ قَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ" قَالَتْ:" وَثَبَ فَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: قَامَ وَأَخَذَ الْمَاءَ وَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَاجَةٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ دُونَ قَوْلِهِ" قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً" وَذَلِكَ لِأَنَّ الْحُفَّاظَ طَعَنْوا فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَتَوَهَّمُوهَا مَأْخُوذَةً عَنْ غَيْرِ الْأَسْوَدِ، وَأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رُبَّمَا دَلَّسَ فَرَأَوْهَا مِنْ تَدْلِيسَاتِهِ وَاحْتَجُّوا عَلَى ذَلِكَ بِرِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بِخِلَافِ رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں بیدار ہوجاتے، پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کے ساتھ کوئی حاجت ہوتی تو اس کو پورا کرتے، پھر پانی چھونے سے پہلے سو جاتے، جب پہلی اذان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً کھڑے ہوتے۔ اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور پانی لیا اور اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور میں جانتا ہوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کیا مراد تھی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو نماز کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔
حفاظِ حدیث نے «قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً» ”پانی چھونے سے پہلے“ کے الفاظ پر جرح کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ الفاظ اسود کے علاوہ کسی اور سے لیے گئے ہیں، اور ابو اسحاق بعض اوقات تدلیس کرتے تھے، تو انہوں نے اسے ان کی تدلیسات میں سے سمجھا، اور اس پر ابراہیم نخعی اور عبدالرحمن بن اسود کی اسود سے روایت سے دلیل لی ہے جو ابو اسحاق کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 975]
حفاظِ حدیث نے «قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً» ”پانی چھونے سے پہلے“ کے الفاظ پر جرح کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ الفاظ اسود کے علاوہ کسی اور سے لیے گئے ہیں، اور ابو اسحاق بعض اوقات تدلیس کرتے تھے، تو انہوں نے اسے ان کی تدلیسات میں سے سمجھا، اور اس پر ابراہیم نخعی اور عبدالرحمن بن اسود کی اسود سے روایت سے دلیل لی ہے جو ابو اسحاق کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 976
أَمَّا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ، أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے یا کھانے کا ارادہ رکھتے تو وضو کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 5/3»
الحكم على الحديث: صحيح