🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
243. -- باب: المسح على العصائب والجبائر
-- باب: پٹیوں اور جبیرا (ٹوٹی ہڈی پر بندھی پٹی) پر مسح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1086
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْبَصْرِيِّ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى الْحَسَنَ فَسَأَلَهُ وَأنا أَسْمَعُ، فَقَالَ: انْكَسَرَتْ فَخِذُهُ أَوْ سَاقُهُ فَتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ الْحُدَيْرِ، قَالَ: كَانَ بِي جُرْحٌ شَدِيدٌ مَنَ الطَّاعُونِ وَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَسَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، فَقَالَ:" امْسَحْ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ".
(الف) ہشام بن حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حسن رحمہ اللہ کے پاس آیا اور سوال کیا، میں سن رہا تھا، کہنے لگا: اس کی ران یا پنڈلی ٹوٹ گئی ہے اور وہ جنبی ہو گیا ہے تو (کیا کرے؟) آپ نے اس کو پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
(ب) عمران بن حدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے طاعون کا شدید زخم تھا اور میں جنبی ہو گیا، میں نے ابو مجلز رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: مسح کر تجھے یہی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1087
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ فَقُلْتُ: انْكَسَرَتْ يَدِي وَعَلَيْهَا خِرْقَتُهَا وَعِيدَانُهَا وَجَبَائِرُهَا فَرُبَّمَا أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَقَالَ:" امْسَحْ عَلَيْهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَعْذِرُ بِالْمَعْذِرَةِ" وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: لَا تُوضَعُ الْعَصَائِبُ وَالْجَبَائِرُ عَلَى الْجُرْحِ وَالْكَسْرِ إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعِ الْوُضُوءِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ مَوْضِعَ ذَلِكَ الْجُرْحِ لِمَا ظَهَرَ مَنْ دَمِهِ".
اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میرا ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس پر کپڑے کی باریک اور موٹی پٹی لکڑی کے ساتھ بندھی ہوتی ہے، بعض اوقات میں جنبی ہو جاتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: اس پر پانی کے ساتھ مسح کر، اللہ تعالیٰ عذر قبول فرماتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1088
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: لَا تُوضَعُ الْعَصَائِبُ وَالْجَبَائِرُ عَلَى الْجُرْحِ وَالْكَسْرِ إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعِ الْوُضُوءِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ مَوْضِعَ ذَلِكَ الْجُرْحِ لِمَا ظَهَرَ مَنْ دَمِهِ".
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زخم یا ٹوٹی ہوئی چیز پر پٹیاں نہیں رکھی جائیں گی، اگر یہ زخم وضو کی جگہ پر ہو، جب تک کہ نماز جیسا وضو کرے اور اس زخم کی جگہ کو دھو لے جس سے خون ظاہر ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
244. -- باب: الصحيح المقيم يتوضأ للمكتوبة والجنازة والعيد ولا يتيمم
-- باب: صحت مند مقیم شخص فرض نماز، جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا اور تیمم نہیں کرے گا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ أَحَدِكِمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" ⦗٣٥١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی، جب وہ بے وضو ہو جائے جب تک وضو نہ کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1090
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ يَعْنِي ابْنَ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ" أَبُو الْمَلِيحِ هُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.
سیدنا ابو ملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا اور نہ ہی خیانت کیے ہوئے مال سے صدقہ قبول کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أنا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَرَرْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِوَضُوءٍ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تُنَادِيهِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مَنَ النَّارِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَزَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَمَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بِوَضُوءٍ وَقَالَتْ لَهُ.
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھنے کے لیے نکلے، ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے گزرے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے عبدالرحمن! مکمل وضو کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 6/40»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جُعِلَتْ لِي تُرْبَتُهَا طَهُورًا إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے اس کی مٹی وضو (کا ذریعہ) بنائی گئی ہے جب ہم پانی نہ پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1522»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ وَالَّذِي رُوِيَ عَنْهُ فِي التَّيَمُّمِ لِصَلَاةِ الْجِنَازَةِ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فِي السَّفَرِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ وَفِي إِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّيَمُّمِ ضَعْفٌ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ وَالَّذِي رَوَى الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ لَا يَصِحُّ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهَذَا أَحَدُ مَا أَنْكَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ وَقَدْ رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَطَأٌ قَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پاک آدمی ہی نماز جنازہ پڑھے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ نے بھی نافع رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے نماز جنازہ کے لیے تیمم کے متعلق جو منقول ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ سفر میں ہو جب پانی پاس نہ ہو۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تیمم والی حدیث کی سند میں ضعف ہے جسے ہم نے کتاب المعرفہ میں بیان کیا ہے۔
(د) وہ روایت جو مغیرہ بن زیاد عن عطاء رحمہ اللہ عن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے، وہ ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ یہ صرف امام عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(س) اسی طرح ابن جریج رحمہ اللہ نے امام عطاء رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ یہ ان باتوں میں سے ایک ہے جن پر امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ نے مغیرہ بن زیاد پر نکیر کی ہے۔ اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بھی بیان کیا گیا ہے، اور یہ غلطی ہے جسے ہم نے الخلافیات میں بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
245. -- باب: المسافر يتيمم في أول الوقت إذا لم يجد ماء ويصلي ثم لا يعيد وإن وجد الماء في آخر الوقت
-- باب: مسافر کا پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کر کے نماز پڑھنے اور آخر وقت میں پانی مل جانے پر بھی اسے نہ دہرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ" وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ:" لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ" وَرَوَاهُ غَيْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے کہ نماز کا وقت ہو گیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز کا وقت باقی ہوتے ہوئے پانی پا لیا۔ ایک نے دوبارہ وضو کر کے نماز لوٹائی اور دوسرے نے نہیں، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے اور تجھ کو تیری نماز کافی ہے“ اور اس شخص سے کہا جس نے وضو کیا اور دوبارہ نماز لوٹائی: ”تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔“
عبداللہ بن نافع کے علاوہ دوسروں نے اسے لیث سے، انہوں نے عمیرہ بن ابی ناجیہ سے، انہوں نے بکر بن سوادہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد 338»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، فَذَكَرَهُ كَذَا فِي كِتَابِي عُمَيْرٌ وَالصَّوَابُ عَمِيرَةُ بْنُ أَبِي نَاجِيَةَ..
حضرت عمیرہ بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے، میری کتاب میں اسی طرح ”عمیر“ لکھا ہے اور درست یہ ہے کہ وہ عمیرہ بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/287»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں