🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
252. جماع أبواب ما يفسد الماء -- باب: الماء الدائم تقع فيه نجاسة وهو أقل من قلتين
پانی کو ناپاک (خراب) کرنے والی اشیاء کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: دو قلہ سے کم ٹھہرے ہوئے پانی میں نجاست گرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ عَجِينٍ وَقَعَ فِيهِ قَطَرَاتٌ مَنْ دَمٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهِ قَالَ الْوَلِيدُ لِأَنَّ النَّارَ لَا تُنَشِّفُ الدَّمَ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا يَرْوِي هَذَا سُوَيْدٌ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ عَجَنَتْ لَهُمْ عَجِينًا فِي جَفْنَةٍ فَأَصَابَتْ يَدَهَا حَدِيدَةٌ فِي الْعَجْنِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَأْكُلُوهُ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَسُوَيْدٌ الَّذِي خَلَّطَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْ نُوحٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّةً، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَعَامَّةُ حَدِيثِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَمَا وَصَفُوهُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَغَيْرَهُمْ مَنَ الْأَئِمَّةِ ضَعَّفُوا سُوَيْدًا.
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گر پڑے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“
سوید نے اس حدیث کی روایت میں خلط کیا ہے، ایک مرتبہ اسے نوح سے، انہوں نے حسن سے روایت کیا اور ایک مرتبہ حمید سے، انہوں نے انس سے۔ اس کی اکثر احادیث پر ثقہ راوی اس کی متابعت نہیں کرتے اور وہ ضعیف ہے، جیسا کہ احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني الاوسط 1/823»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
253. -- باب: طهارة الماء المستعمل
-- باب: مستعمل (استعمال شدہ) پانی کے پاک ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَصَلَّى بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْزَةً وَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء نامی جگہ پر ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں اور اپنے آگے نیزہ گاڑا اور وضو کیا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو ملنے لگے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 473»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1118
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى وَاللَّفْظُ لِلثَّقَفِيِّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُونِي وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ، إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةً فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مَنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مریض تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری تیمار داری کیا کرتے تھے، اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری وراثت کس کے لیے ہے، میرا وارث کلالہ ہے؟“ تو فرائض کی آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 191»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، فَذَكَرَتْ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" فَلَمَّا فَرَغَ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ مِلْحَفَةً فَأَبَى فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کا تذکرہ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو الگ ہوئے اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے پانی صاف کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ ⦗٣٦٠⦘ أَنْعَمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنَيْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرْفِ ثَوْبِهِ قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَكَتَبَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: رُبَّمَا لَمْ يَجِدْ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ الْمَنْدِيلَ فَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِثَوْبِهِ.
(الف) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے چہرے کو کپڑے کے ایک کنارے سے صاف فرماتے۔
(ب) ابوالعباس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابورجا رحمہ اللہ سے سنا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کو لکھ دیا۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کی سند قوی نہیں۔
(ج) یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بسا اوقات محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے تولیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي 54»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمِنْ أَيْنَ لَمْ يَكُنْ نَجِسًا؟ قِيلَ: مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَلَا شَكَّ أَنَّ مِنَ الْوُضُوءِ مَا يُصِيبُ ثِيَابَهُ وَلَمْ يُعْلَمْ غَسْلُ ثِيَابِهِ مَنْهُ وَلَا أَبْدَلَهَا وَلَا عَلِمْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مَنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَعْقُولًا إِذْ لَمْ تَمَسَّ الْمَاءَ نَجَاسَةٌ أَنَّهُ لَا يَنْجُسُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو کے پانی میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں کو لگا، اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑے دھونا معلوم نہیں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبدیل کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی ایسا کیا ہو۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الرَّجُلِ يَغْتَسِلُ فِي الْإِنَاءِ فَيَنْتَضِحُ مِنَ الَّذِي يُصَبُّ عَلَيْهِ فِي الْإِنَاءِ، قَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ وَلَا يُطَهَّرُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو برتن میں غسل کرتا ہے اور اسے اس پانی سے جو برتن میں ڈالا تھا چھینٹے پڑ جاتے ہیں، پانی پاک کرنے والا ہے، اسے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق 256»

الحكم على الحديث: لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
254. -- باب: الدليل على أنه يأخذ لكل عضو ماء جديدا ولا يتطهر بالماء المستعمل
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ ہر عضو کے لیے نیا پانی لے اور مستعمل پانی سے طہارت حاصل نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1123
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَنْهَا، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ وَقَالَ بِالْوُسْطَيَيْنِ مَنْ أَصَابِعِهِ فِي بَاطِنِ أُذُنَيْهِ وَالْإِبْهَامَيْنِ مِنْ وَرَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلو بھرا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چلو بھرا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر چلو بھرا اور دایاں ہاتھ دھویا، پھر چلو بھرا اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر کچھ پانی لیا اور سر کا مسح کیا، اپنی درمیان والی انگلیوں سے کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور انگوٹھوں سے کانوں کے بیرونی حصہ کا بھی، پھر چلو بھرا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر چلو بھرا اور اپنا بایاں قدم دھویا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه النسائي 102»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٣٦١⦘ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْأُخْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَهَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حبان بن واسع کے باپ نے عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ناک جھاڑا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین مرتبہ دایاں ہاتھ اور تین مرتبہ بایاں، پھر نئے پانی سے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دھو کر صاف کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَاةٍ تَسَعُ مُدًّا أَوْ مُدًّا وَثُلُثًا، فَقَالَ:" اسْكُبِي" قَالَتْ: فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا هَكَذَا رَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ مُوَافِقٌ لِلرِّوَايَةِ الصَّحِيحَةِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ مَا يُشْبِهُ خِلَافَهُ وَيُشْبِهُ مُوَافَقَتَهُ.
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی والا برتن لے کر آئی، جس میں ایک مد یا ایک مد اور تہائی پانی آتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو ڈال،“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا اور نیا پانی لیا، پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 126»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں