🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
239. -- باب: الجريح والقريح والمجدور يتيمم إذا خاف التلف باستعمال الماء أو شدة الضنا.
-- باب: زخمی، پھوڑے اور چیچک والے مریض کے تیمم کرنے کا بیان جب وہ پانی کے استعمال سے جان جانے یا بیماری کے سخت ہونے کا خوف محسوس کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ} [النساء: ٤٣] قَالَ:" إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوِ الْقَرْحُ أَوِ الْجُدَرِيُّ فَيُجْنِبُ فَيَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ يَمُوتَ فَلْيَتَيَمَّمْ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَعْفَرٌ الشَّامَاتِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ﴾ [سورة النساء: 43] کے بارے میں فرمایا کہ جب آدمی کو اللہ کے راستے میں زخم یا پھوڑا یا چیچک ہوتی ہے اور وہ جنبی ہو جاتا ہے اور ڈرتا ہے کہ اگر اس نے غسل کیا تو وہ مر جائے گا تو وہ تیمم کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن خزيمة 272»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الرَّجُلِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَبِهِ الْجِرَاحَةُ يَخَافُ إِذَا اغْتَسَلَ أَنْ يَمُوتَ، قَالَ:" فَلْيَتَيَمَّمُ وَلْيُصَلِّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو جنبی ہو جاتا ہے اور اس کو زخم ہے، وہ ڈرتا ہے کہ اگر اس نے غسل کیا تو مر جائے گا، وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ وَغَيْرُهُ أَيْضًا، عَنْ عَطَاءٍ مَوْقُوفًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَزْرَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْقُوفًا، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ⦗٣٤٤⦘ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَجْدُورِ وَأَشْبَاهِهِ إِذَا أَجْنَبَ، قَالَ:" يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ.
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما چیچک والے کے متعلق فرماتے ہیں: وہ تیمم کرے گا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما چیچک اور اس جیسے مریض کے متعلق فرماتے ہیں: جب وہ جنبی ہو جائے تو مٹی سے تیمم کرے گا۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مریض کو مٹی سے تیمم کرنے میں رخصت دی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 1070»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
240. -- باب: المحموم ومن في معناه لا يتيمم عند وجود الماء
-- باب: بخار اور اس جیسے دیگر امراض والے شخص کا پانی کی موجودگی میں تیمم نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ" قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: اللهُمَّ أَذْهِبْ عَنَّا الرِّجْزَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَرَوَتْهُ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ، وَرَوَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ ہے، اس کو پانی سے بجھاؤ۔“ نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اكْشِفْ عَنَّا الرِّجْزَ» ”اے اللہ! اس عذاب کو ہم سے لے جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5391»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
241. -- باب: التيمم في السفر إذا خاف الموت أو العلة من شدة البرد
-- باب: سفر میں شدید سردی کی وجہ سے موت یا بیماری کا خوف ہونے پر تیمم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلَتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِيَ الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ" فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: ٢٩] فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ فَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا، میں ڈر گیا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ ساتھیوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا آپ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی حالانکہ آپ جنبی تھے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ وجہ بتا دی جس نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا اور میں نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29] سنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 334»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَرَجُلٌ آخَرُ أَظُنُّهُ ابْنَ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُ فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ وَلَكِنِّي وَاللهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا هَلْ مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ قَالُوا: لَا، فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ" فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا" يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى بِنَا وَهُو جُنُبٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ تَعَالَى، قَالَ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ} [النساء: ٢٩] وَلَوِ اغْتَسَلَتُ مِتُّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو أَخْرَجَهُمَا أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، ثُمَّ، قَالَ: وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ فِيهِ: فَتَيَمَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِي الرِّوَايَتَيْنِ جَمِيعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَى غَسْلِهِ وَتَيَمَّمَ لِلْبَاقِي.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک سریے میں تھے۔ ان کو سخت سردی لگی، اس جیسی سردی پہلے نہیں دیکھی گئی، وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! مجھے کل احتلام ہو گیا تھا اور میں نے اس طرح کی سردی نہیں دیکھی تھی، کیا تم نے دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، پھر انھوں نے اپنے جوڑ دھوئے اور نماز جیسا وضو کیا۔ پھر ان کو نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ انھوں نے ان کی اچھی تعریف کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے ہم کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو انھوں نے سارا واقعہ بتلایا اور وہ بھی جو ان کو سردی لگی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] اگر میں غسل کر لیتا تو مر جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرو کی طرف دیکھ کر ہنسے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں: احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں روایتوں میں منقول دونوں کام کیے ہوں، یعنی جتنا دھونے کی قدرت تھی اتنا دھو لیا اور باقی کے لیے تیمم کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدِ الْمَاءَ أَيُصَلِّي، قَالَ: لَا فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا" وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً" قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ فَقَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِيدِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَقُلْتُ: لِشَقِيقٍ فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَا دَرَى عَبْدُ اللهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللهِ لِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ.
شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آدمی جنبی ہو جاتا ہے اسے پانی نہیں ملتا، کیا وہ نماز پڑھے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کا وہ قول نہیں سنا جو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ مجھے اور تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا، میں جنبی ہو گیا، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہ کافی تھا“ اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح کیا اور کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس پر قناعت کی۔ انہوں نے کہا: تم اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ان کو اس بارے میں رخصت دے دیں تو ان میں سے ہر ایک جب ٹھنڈا پانی پائے گا تو مٹی سے مسح کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا ہے۔ (ب) حفص بن غیاث کی اعمش سے روایت میں ہے کہ عبداللہ کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہیں، انہوں نے کہا: اگر ہم لوگوں کو اس مسئلہ میں رخصت دے دیں تو وہ جب بھی پانی ٹھنڈا پائیں گے تو پانی کو چھوڑ کر تیمم کریں گے۔ میں نے شقیق سے کہا: اسی وجہ سے عبداللہ رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
242. -- باب: الجرح إذا كان في بعض جسده دون بعض
-- باب: جسم کے کچھ حصے پر زخم ہونے اور کچھ پر نہ ہونے کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ - ثَلَاثًا - قَدْ جَعَلَ اللهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طُهُورًا" هَذَا حَدِيثٌ مَوْصُولٌ، وَتَمَامُ هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي أَرْسَلَهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی میں جنبی ہو گیا۔ اس نے پوچھا تو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ فوت ہو گیا، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کیا تھا انہوں نے تو اس کو قتل کر دیا ہے، اللہ ان کو ہلاک کرے،“ تین مرتبہ فرمایا، ”اللہ نے مٹی یا تیمم کو پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔“ یہ حدیث موصول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 1314»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا ⦗٣٤٧⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ" قَالَ عَطَاءٌ: فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" لَوْ غَسَلَ جَسَدَهَ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجُرْحُ" فَهَذَا الْمُرْسَلُ يُقْتَضَى غُسْلَ الصَّحِيحِ مَنْهُ وَالْأَوْلُ يَقْتَضِي التَّيَمُّمَ فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا يَقُولُ: لَا تَنَافِيَ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ إِلَّا أَنَّ إِحْدَاهُمَا مُرْسَلَةٌ.
عطا بن ابی رباح نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ سردی سے مر گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے، اللہ ان کو ہلاک کرے۔ کیا جاہل کی شفا سوال کرنا نہیں ہے؟“
عطا کہتے ہیں: ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔“ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنہوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں: دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مَنْا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ قَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، قَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ - أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى - عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَيْهَا وَيَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِهِ". وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مَوْصُولَةٌ جُمِعَ فِيهَا بَيْنَ غُسْلِ الصَّحِيحِ وَالْمَسْحِ عَلَى الْعِصَابَةِ وَالتَّيَمُّمِ إِلَّا إِنَّهَا تُخَالِفُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي الْإِسْنَادِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا تو اس کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے رخصت نہیں پاتے۔ آپ پانی پر قدرت رکھتے ہیں۔ اس نے غسل کیا تو مر گیا، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (واقعے) کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا۔ موسیٰ کو شک ہے کہ اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔“ یہ روایت موصول ہے، اس میں غسل، مسح اور تیمم کو جمع کر دیا گیا ہے۔ سند میں یہ روایت پہلی دونوں روایات کے مخالف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه أبوداؤد 336»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں