🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
233. -- باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم
-- باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1047
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارَزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يُوقِظُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ:" ارْتَحِلُوا" فَسَارَ بِنَا حَتَّى ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ فَنَزَلَ فَصَلَّى فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَلَمْ يُصَلِّ مَعَنْا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّي مَعَنْا؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَعَجَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ لِطَلَبِ الْمَاءِ وَكُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: أَيْهَاتَ أَيْهَاتَ لَا مَاءَ، فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَبِضُّ مِنَ الْمَلْأِ، ثُمَّ، قَالَ:" لَنَا هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ" فَجَعَلْنَا لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً فَقَالَ ⦗٣٣٧⦘ لَهَا:" اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَزْرَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا" فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللهُ ذَلِكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب صبح ہونے کے قریب تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا۔ تمام لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہونے لگا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھ کھلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بیدار نہ کرتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو۔“ صحابہ کرام نے وہاں سے کوچ کیا یہاں تک کہ سورج سفید ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا اور نماز پڑھی، اسی دوران ایک شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”تم تیمم کر کے نماز پڑھو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند شہسواروں کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، اس حال میں کہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ابھی ہم پانی کی تلاش میں تھے کہ ایک عورت پر نظر پڑی، جو دو مشکیزوں کے درمیان اپنے پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: اوہ یہاں پانی کہاں سے آیا۔ ہم نے کہا: تمہارے علاقے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تو اس نے کہا: ایک دن اور ایک رات۔ صحابہ نے کہا: تو ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل۔ اس نے کہا: کیا رسول اللہ کے پاس؟ ہم نے اس سے کچھ گفتگو نہ کی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، اس نے پھر وہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی اور یہ بھی کہا کہ اس کے یتیم بچے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں مشکیزوں کو اتروایا اور ان کا منہ کھول کر اس میں لعاب ڈالا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس قدر پیا کہ ہم سیر ہو گئے اور تمام برتن بھر لیے اور اس جنبی کو بھی غسل کروا دیا، لیکن ہم نے کسی بھی جانور کو پانی نہ پلایا اور مشکیزے پانی کی کثرت کی وجہ سے چھلکنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ!“ تو ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجور جمع کر کے ایک تھیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”یہ لے جاؤ اور اہل خانہ کو کھلاؤ، اور جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں سے کچھ کم نہیں کیا۔“
جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچی تو کہنے لگی: میں لوگوں میں سب سے بڑے جادوگر سے ملی ہوں، یا پھر وہ نبی ہیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں۔ پھر اللہ نے اس عورت کے ذریعے اس بستی کو ہدایت دی، چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گئی اور وہ لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1047]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ وَهُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّاجِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلرَّجُلِ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ:" فَتَيَمَّمْ بِالصَّعِيدِ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَصَلِّ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ" وَذَكَرُوا الْحَدِيثَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تجھے نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا تھا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی سے تیمم کر، جب فارغ ہوجائے تو نماز پڑھ اور پانی مل جائے تو غسل کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: تَمَارَى ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارٌ فِي الرَّجُلِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَلَا يَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ وَقَالَ عَمَّارٌ: كُنْتُ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى الْمَاءِ فَتَمَعَّكْتُ كَمَا تَتَمَعَّكُ يَعْنِي الدَّوَابَّ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ اغْتَسَلْتَ".
ناجیہ بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما نے اس شخص کے متعلق بحث و تکرار کی جو جنبی ہو گیا تھا اور اسے پانی نہیں ملا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گا جب تک اسے پانی نہ ملے، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اونٹوں (کے باڑے) میں تھا، میں جنبی ہو گیا، میرے پاس پانی نہیں تھا، میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہوا جیسے چوپایہ کرتا ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی سے تیمم کافی تھا، جب تجھے پانی مل جائے تو غسل کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ أَبَدِ فِيهَا" فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَبُو ذَرٍّ:" فَسَكَتُّ فَقَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ" فَدَعَا بِجَارِيَةٍ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَسَتَرَنِي بِثَوْبِي وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ فَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا فَقَالَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت جمع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! انہیں لے کر جنگل میں چلے جاؤ۔“ چنانچہ میں ربذہ کی طرف جنگل میں چلا گیا، میں جنبی ہو جاتا تو پانچ یا چھ دن ٹھہرا رہتا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تیری ماں تجھے گم پائے، تیری ماں کے لیے ہلاکت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کو بلایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی، اس نے مجھے اپنے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا اور میں نے پالان سے پردہ کیا، پھر میں نے غسل کیا گویا مجھ سے پہاڑ ہٹ گیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال نہ ملے اور جب تجھے پانی مل جائے اپنے جسم پر بہا، یہ بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣٣٨⦘ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِبِلَ وَالْوَيْلَ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
خالد حذاء نے اسی طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی بکریاں اکٹھی ہوئیں۔ راوی نے «إِبِل» اور «وَيْل» کا ذکر نہیں کیا۔ باقی اسی کے معنی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
234. -- باب: رؤية الماء خلال صلاة افتتحها بالتيمم
-- باب: اس نماز کے دوران پانی نظر آ جانے کا بیان جو تیمم سے شروع کی گئی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1052
احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِعُمُومِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا" وَبِعُمُومِ قَوْلِهِ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ".
ہمارے بعض اصحاب نے اس مسئلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان سے استدلال کیا ہے: ”وہ (نماز سے) نہ پھرے یہاں تک کہ کوئی آواز سن لے یا بو پا لے۔“
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان سے بھی استدلال کیا ہے کہ: ”کوئی بھی چیز نماز کو نہیں توڑتی، اور تم سے جہاں تک ہو سکے (سامنے سے گزرنے والے کو) روکو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: Q1052]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ" وَالِاسْتِدَلَالُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ لَا يَصِحُّ وَلَا بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو صرف آواز سے یا بدبو سے ٹوٹتا ہے۔“
(ب) اس مسئلے میں اس حدیث اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ والی روایت سے استدلال درست نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي سِنَانَ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ" وَلَا أَسْتَحْيِيكُمْ مِمَّا لَمْ يَسْتَحِ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَدَثُ أَنْ تَفْسُوَ أَوْ تَضْرِطَ تَفَرَّدَ بِهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو حدث ہی ختم کرتی ہے۔“ اور میں تم سے اس چیز میں شرم محسوس نہیں کرتا (مسئلہ بیان کرنے میں) جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم نہیں کی۔ حدث یہ ہے کہ بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ کوئی چیز خارج ہو۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حبان بن علی عنزی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الله في زوائد المسند 1/138»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
235. -- باب: التيمم لكل فريضة
-- باب: ہر فرض نماز کے لیے نیا تیمم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الْأَحْوَلَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" يَتَيَمَّمُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ لَمْ يُحْدِثْ" إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے لیے تیمم کیا جائے گا، اگرچہ وہ بے وضو نہ ہوا ہو۔
اس کی سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه المؤلف في المعرفة 337»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1055
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَتَيَمَّمُ لِكُلِّ صَلَاةٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر نماز کے لیے تیمم کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدارقطني 1/184»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں