السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. -- باب: فضل التكرار في الوضوء
-- باب: وضو میں (اعضاء دھونے کی) تکرار کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 379
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ السُّلَمِيُّ بِحَرَّانَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الصَّائِغُ بِالرِّيِّ، وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَلُوشَا بِأَسَدْآبَادَ هَمَذَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْجَرَّاحِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ: نا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا تُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ إِلَّا بِهِ". ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ يُضَاعَفُ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ". ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ:" لَا يَقْبَلُ اللهُ لَهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ". وَقَالَ:" يُضَاعِفُ اللهُ لَهُ". وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يَنْفَرِدُ بِهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ وضو ہے، اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔“ پھر دو دو مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔“ پھر تین تین مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن سلمان کی حدیث میں ہے کہ اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتا اور فرمایا: ”اللہ اس کو دوہرا اجر دے گا۔“
اس سند سے اس حدیث کو بیان کرنے میں مسیب بن واضح منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 379]
(ب) عبداللہ بن سلمان کی حدیث میں ہے کہ اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتا اور فرمایا: ”اللہ اس کو دوہرا اجر دے گا۔“
اس سند سے اس حدیث کو بیان کرنے میں مسیب بن واضح منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/30»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 380
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذَّرَّاعُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ:" هَذَا وُضُوءٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ". ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ". ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا فَقَالَ:" هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي". وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ. وَخَالَفَهُمَا غَيْرُهُمَا، وَلَيْسُوا فِي الرِّوَايَةِ بِأَقْوِيَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ایک ایک مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ وضو ہے اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتے۔“ پھر پانی منگوایا تو دو دو مرتبہ وضو کیا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔“ پھر پانی منگوایا اور تین تین مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔“
اسی طرح یہ عبدالرحیم بن زید عمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی گئی ہے، اور دوسروں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے، اور یہ روایت میں قوی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 380]
اسی طرح یہ عبدالرحیم بن زید عمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی گئی ہے، اور دوسروں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے، اور یہ روایت میں قوی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ماجه 419»
الحكم على الحديث: ضعيف
90. -- باب: فضيلة الوضوء
-- باب: وضو کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَبَكْرُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَا: وَحَدَّثَنَا أَبُو ⦗١٣١⦘ الْعَبَّاسِ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ (نکل جاتا ہے)، اور جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھوں نے کیا، پانی کے ساتھ یا فرمایا: پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، اور جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے پاؤں نے کیا، پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 244»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 382
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قُدُومِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قُدُومِهِ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْوضُوءُ؟ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ، فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، فَيَنْثُرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عِكْرِمَةَ:" ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ". وَلَمْ يذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَاحْتَجَّ بِهِ فِي وَجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ.
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ نے مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے آنے اور پھر مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی، وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کیا ہے؟ مجھے بتلائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے، پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی ایسی بزرگی بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔“
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسے محمد بن یحییٰ ذہلی کے واسطے سے ابو ولید سے روایت کیا ہے اور اس سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 382]
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسے محمد بن یحییٰ ذہلی کے واسطے سے ابو ولید سے روایت کیا ہے اور اس سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 832»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مَنْ يدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: يَرْوِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ وَيُقَالُ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ، كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ. وَزَعَمَ الْبُخَارِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ وَهِمَ فِي هَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيُّ لَمْ يسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَاحْتَجَّ بِآثَارٍ ذَكَرَهَا عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ فِيهِ كَمَا قَالَ.
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔“
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء بن یسار، عبداللہ صنابحی سے روایت کرتے ہیں اور انہیں ابو عبداللہ بھی کہا جاتا ہے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صنابحی عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں، اور جن صنابحی سے قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں انہیں صنابح بن اعسر کہا جاتا ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسی طرح کہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ اس میں مالک بن انس رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے، وہ تو ابو عبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور عبدالرحمن وہی ہیں جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کی حدیث سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، پھر فرمایا: ابن ابی مریم نے ابو غسان سے، انہوں نے زید سے اس کی متابعت کی ہے۔ اور اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا تو کہا: صنابحی ابو عبداللہ سے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کچھ آثار ذکر کر کے ان سے دلیل لی ہے کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 383]
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء بن یسار، عبداللہ صنابحی سے روایت کرتے ہیں اور انہیں ابو عبداللہ بھی کہا جاتا ہے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صنابحی عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں، اور جن صنابحی سے قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں انہیں صنابح بن اعسر کہا جاتا ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسی طرح کہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ اس میں مالک بن انس رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے، وہ تو ابو عبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور عبدالرحمن وہی ہیں جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کی حدیث سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، پھر فرمایا: ابن ابی مریم نے ابو غسان سے، انہوں نے زید سے اس کی متابعت کی ہے۔ اور اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا تو کہا: صنابحی ابو عبداللہ سے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کچھ آثار ذکر کر کے ان سے دلیل لی ہے کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 4/349»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، وَأَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ قَالَ أَبُو بَدْرٍ: مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَنْ يحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا» ”سیدھے رہو، اور تم (اس کا پورا) احاطہ ہرگز نہیں کر سکو گے،“ «وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» ”اور جان لو کہ تمہارے افضل اعمال میں سے نماز ہے۔“ ابو بدر نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضو پر محافظت صرف مومن کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه 277»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
91. -- باب: إسباغ الوضوء
-- باب: مکمل اور کامل وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے نماز کے لیے مکمل وضو کیا، پھر فرض نماز پڑھنے کے لیے چلا اور اس نے لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 232»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالُوا: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے؟ ناگواری (یعنی سخت سردی) میں مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، یہ «الرِّبَاطُ» ”رباط“ ہے“، تین مرتبہ فرمایا (رباط کا معنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرمسلم 251»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَا: ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى.
مالک رحمہ اللہ نے اس حدیث کو پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٣٤⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانِنَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يعْرَفُ خَيْلَهُ؟". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ ثَلَاثًا". فَيُقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا، فَأَقُولُ:" فَسُحْقًا، فَسُحْقًا، فَسُحْقًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے تو یہ دعا پڑھی: «السَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلامتی ہو اے مؤمن قوم کے گھر والو! اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ (پھر فرمایا:) ”میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے اس شخص کو کس طرح پہچانو گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر ایک شخص کے پاس انتہائی سیاہ گھوڑوں میں سفید پیشانی والے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک وہ قیامت کے دن آئیں گے اور ان کے وضو کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا اور کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے، جس طرح آوارہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو بلاؤں گا کہ آ جاؤ، آ جاؤ، آ جاؤ تین مرتبہ کہوں گا“ تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل دیا، تو میں کہوں گا: ”دور رہو، دور رہو، دور رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 249»
الحكم على الحديث: صحيح