السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. -- باب: البول قائما
-- باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 489
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُذَكِّرُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْهَمْدَانِيُّ الْكَرَابِيسِيُّ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ الْحَنْظَلِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ غَسَّانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" بَالَ قَائِمًا مِنْ جُرْحٍ كَانَ بِمَأْبِضِهِ" قَالَ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ: كَانَتِ الْعَرَبُ تَسْتَشْفِي لِوَجَعِ الصُّلْبِ بِالْبَوْلِ قَائِمًا، فَلَعَلَّهُ كَانَ بِهِ إِذْ ذَاكَ وَجَعُ الصُّلْبِ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِمَعْنَاهُ، وَقِيلَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَجِدْ لِلْقُعُودِ مَكَانًا أَوْ مَوْضِعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں میں تھا۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ اہل عرب کمر کی تکلیف سے شفا کے لیے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ تکلیف ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے کیا کہ وہاں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 489]
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ اہل عرب کمر کی تکلیف سے شفا کے لیے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ تکلیف ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے کیا کہ وہاں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 489]
120. -- باب: البول قاعدا
-- باب: بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، نا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَكَلَّمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَأَتَانَا فَقَالَ:" أَمَا تَدْرُونَ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ إِذَا أَصَابَهُمْ بَوْلٌ قَرَضُوهُ، فَنَهَاهُمْ، فَتَرَكُوهُ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ". زَادَ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ: فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ.
عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے آپس میں بات کی کہ یہ ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس واپس آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا پیش آیا؟ جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو اس حصے کو کاٹ دیتے، تو اس شخص نے انھیں منع کیا، پھر انھوں نے اس کو چھوڑ دیا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 22»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 491
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٦٥⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا بَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ". وَفِي رِوَايَةِ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ: سُورَةُ الْفُرْقَانِ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ: الْقُرْآنُ أَوِ الْفُرْقَانُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے۔
(ب) حسین بن حفص کی روایت میں ہے کہ جب سے سورہ الفرقان نازل ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن یا فرقان کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 491]
(ب) حسین بن حفص کی روایت میں ہے کہ جب سے سورہ الفرقان نازل ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن یا فرقان کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 6/113»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 492
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، أنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ" تُقْسِمُ بِاللهِ مَا رَأَى أَحَدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَبُولُ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ".
مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتی تھیں کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھڑے ہو کر پیشاب کرتے نہیں دیکھا جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/295»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 493
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، لَا تَبُلْ قَائِمًا". فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. عَبْدُ الْكَرِيمِ هَذَا هُوَ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ. رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَنَسَبُوهُ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: ”اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کر۔“ تو اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
(ب) عبدالکریم بن ابو مخارق ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 493]
(ب) عبدالکریم بن ابو مخارق ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه 8/3»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 494
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ" أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بَالَ قَائِمًا". وَهَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَقَدْ رَوَيْنَا الْبَوْلَ قَائِمًا عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا۔
(ب) ہم نے سیدنا عمر، علی، سہل بن سعد اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایات یہاں نقل کر دی ہیں۔
یہ (روایت) عبدالکریم کی حدیث کو ضعیف کر دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 494]
(ب) ہم نے سیدنا عمر، علی، سہل بن سعد اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایات یہاں نقل کر دی ہیں۔
یہ (روایت) عبدالکریم کی حدیث کو ضعیف کر دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبه 1310»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 495
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْبَوْلُ قَائِمًا أَحْصَنُ لِلدُّبُرِ".
سعید بن عمرو بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھڑے ہو کر پیشاب کرنا دبر (پچھلی شرمگاہ) کے لیے (بیماری سے) زیادہ حفاظت کا سبب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 496
وَرَوَى عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، ⦗١٦٦⦘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ قَائِمًا". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْخِرَقِيُّ، قَالَا: نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔“
اس کا راوی عدی بن فضل ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 496]
اس کا راوی عدی بن فضل ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 496]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
121. -- باب: وجوب الاستنجاء بثلاثة أحجار
-- باب: تین پتھروں سے استنجاء کرنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 497
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا لِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلْيَسْتَنْجِ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَنْ يسْتَنْجِيَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے باپ کی مثل ہوں، جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلے کی طرف نہ کرے اور تین پتھروں سے استنجا کرے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے بھی منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 497]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 8»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ مِثْلَ إِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
محمد بن عجلان اسی سند سے بیان کرتے ہیں مگر فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا اور تین ڈھیلوں کا حکم دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه 313»
الحكم على الحديث: حسن