السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
322. -- باب: المبتدئة لا تميز بين الدمين
-- باب: اس مبتدئہ (جسے پہلی بار خون آیا ہو) عورت کا بیان جو دو قسم کے خون کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1603
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٍ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَرَى فِيهَا، قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ قَالَ:" أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ" قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ:" فَاتَّخِذِي ثَوْبًا" قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ فَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلِيَّ"..
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے بہت زیادہ استحاضہ آتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دینے کے لیے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ استحاضہ والی ہوں، آپ کا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئی استعمال کرو وہ خون کو جذب کر لیتی ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس سے زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑا باندھ لے۔“ انھوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، میں تو بہت زیادہ خون بہاتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ کو دو کاموں کا حکم دوں گا، ان میں سے جو کر لے گی وہ تجھ کو دوسرے سے کافی رہے گا، اگر تو ان پر قدرت رکھے، تو اسے زیادہ جاننے والی ہے،“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کی ایک چوک ہے، تو چھ یا سات دن اللہ کے علم کے مطابق حیض گزار، پھر غسل کر اور جب تو دیکھے کہ اچھی طرح پاک ہو گئی ہے تو تیئیس یا چوبیس دن، رات نماز پڑھ، بے شک یہ تجھ کو کفایت کر جائے گا اور اسی طرح ہر ماہ کر جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں اور جس طرح وہ اپنے طہر اور حیض کے اوقات میں پاک ہوتی ہیں اور اگر تو قدرت رکھے کہ تو ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی پڑھے تو غسل کر اور ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو جمع کر لے اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشا کو جلدی ادا کرے، پھر غسل کر اور دو نمازوں کو جمع کر لے پھر ایسے کر اور روزے رکھ، اگر تو اس پر قدرت رکھے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں کاموں میں سے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 287»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ:" أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي" وَزَادَ أَيْضًا:" وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلِيَّ لَمْ يَجْعَلْهُ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ هَذَا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ⦗٥٠١⦘ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: حَدِيثُ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيَمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ هُوَ قَدِيمٌ لَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَمْ لَا وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَقُولُ: هُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقَدْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ كَانَتْ تُكْنَى بِأُمِّ حَبِيبَةَ وَهِيَ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُهُ وَخَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَزَعَمَ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ لَيْسَتْ بِحَمْنَةَ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْهَرُ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا غَيْرَ أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ رُبَّمَا ⦗٥٠٢⦘ قَالَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ كَذَلِكَ قَالَهُ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ سَوَاءٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمُعْتَادَةِ إِلَّا أَنَّهَا شَكَّتْ فَأَمَرَهَا إِنْ كَانَ سِتًّا أَنْ يَتْرُكَهَا سِتًّا وَإِنْ كَانَ سَبْعًا أَنْ يَتْرُكَهَا سَبْعًا وَالْمُبْتَدِئَةُ تَرْجِعُ إِلَى أَقَلِّ الْحَيْضِ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمُبْتَدِئَةِ تَرْجِعُ إِلَى الْأَغْلَبِ مِنْ حِيَضِ النِّسَاءِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبِكْرِ يَسْتَمِرُّ بِهَا الدَّمُ: تَقْعُدُ كَمَا تَقْعُدُ نِسَاؤُهَا.
(الف) عبدالملک بن عمرو نے اس کو اسی سند سے بیان کیا ہے مگر یہ الفاظ زائد ہیں: ”یا چوبیس دن اور ان کی راتیں اور روزے رکھ۔“
(ب) اور یہ الفاظ بھی زائد ہیں: ”تو فجر کے ساتھ غسل کر، ایسا کر اور روزے رکھ اگر تم اس پر قدرت رکھتی ہو۔“
(ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے عرض کیا: یہ دونوں کاموں میں مجھے زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں بلکہ سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کا کلام قرار دیا ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: یہ عمرو بن ثابت قابلِ حجت نہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مستحاضہ کے متعلق سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی روایت حسن ہے، مگر ابراہیم بن محمد بن طلحہ متقدم ہیں، مجھے معلوم نہیں کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کا ان سے سماع ہے یا نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ز) شیخ کہتے ہیں: حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ ام حبیبہ ہیں، ان کی کنیت ام حبیبہ تھی اور وہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہیں۔ (س) یہ قول عثمان بن سعید دارمی نے علی بن مدینی سے سنا ہے۔ (ط) یحییٰ بن معین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مستحاضہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہیں جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ حمنہ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1604]
(ب) اور یہ الفاظ بھی زائد ہیں: ”تو فجر کے ساتھ غسل کر، ایسا کر اور روزے رکھ اگر تم اس پر قدرت رکھتی ہو۔“
(ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے عرض کیا: یہ دونوں کاموں میں مجھے زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں بلکہ سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کا کلام قرار دیا ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: یہ عمرو بن ثابت قابلِ حجت نہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مستحاضہ کے متعلق سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی روایت حسن ہے، مگر ابراہیم بن محمد بن طلحہ متقدم ہیں، مجھے معلوم نہیں کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کا ان سے سماع ہے یا نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ز) شیخ کہتے ہیں: حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ ام حبیبہ ہیں، ان کی کنیت ام حبیبہ تھی اور وہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہیں۔ (س) یہ قول عثمان بن سعید دارمی نے علی بن مدینی سے سنا ہے۔ (ط) یحییٰ بن معین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مستحاضہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہیں جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ حمنہ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 287»
الحكم على الحديث: ضعيف
323. -- باب: المرأة تحيض يوما وتطهر يوما
-- باب: اس عورت کا بیان جسے ایک دن حیض آئے اور ایک دن پاک رہے
حدیث نمبر: 1605
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَأَمَرُونِي فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّ وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ" وَقَرَأْتُهُ فِي كِتَابِ ابْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَمَّا مَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّ.
(الف) انس بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اہل میں سے ایک عورت مستحاضہ تھی، انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے متعلق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کروں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب خون بہتا ہوا دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب طہر دیکھے اگرچہ دن کی ایک گھڑی میں ہی ہو تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ (ب) میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے (جس کی سند اس طرح ہے) زیاد بن ایوب عن اسماعیل بن علیّہ عن خالد الحذاء عن انس بن سیرین: اگر وہ خون بہتا ہوا دیکھے تو نماز نہ پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
324. -- باب: النفاس
-- باب: نفاس (بچے کی پیدائش کے بعد آنے والے خون) کا بیان
حدیث نمبر: 1606
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ ثنا أَبُو غَسَّانَ ثنا زُهَيْرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ الْكُوفِيُّ وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے نفاس کے بعد چالیس راتیں یا چالیس دن بیٹھتی تھیں اور ہم کلف کے لیے ورس بوٹی اپنے چہروں پر ملتی تھیں۔
ابو ولید نے اسے زہیر سے، انہوں نے عبدالاعلیٰ سے نقل کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1606]
ابو ولید نے اسے زہیر سے، انہوں نے عبدالاعلیٰ سے نقل کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه أبو داؤد 311»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1607
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو بَدْرٍ الْكِنْدِيُّ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكُوفِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَتِ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ" بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ رَوَى لَهُ شُعْبَةُ وَأَبُو سَهْلٍ كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ ثِقَةٌ ⦗٥٠٤⦘ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نفاس والی عورتیں چالیس دن بیٹھتی تھیں اور ہم ورس اور زعفران اپنے چہروں پر لگاتی تھیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے امام ترمذی سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن عبدالاعلیٰ ثقہ ہے۔ اس سے شعبہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابوسہل کثیر بن زیاد ثقہ ہے، میں اس حدیث کے علاوہ اس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1607]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے امام ترمذی سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن عبدالاعلیٰ ثقہ ہے۔ اس سے شعبہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابوسہل کثیر بن زیاد ثقہ ہے، میں اس حدیث کے علاوہ اس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1608
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ ثنا عَبْدَانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُسَّةُ الْأَزْدِيَّةُ، قَالَتْ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْحَيْضِ فَقَالَتْ:" لَا يَقْضِينَ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ".
مسہ ازدیہ کہتی ہیں کہ میں حج کرنے کے بعد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ حیض کی نمازیں قضا کر دیں۔ انہوں نے کہا: وہ قضا نہیں کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کوئی بیوی نفاس میں چالیس راتیں بیٹھتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" النُّفَسَاءُ تَنْتَظِرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ نَحْوَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن یا انتظار کریں گی یا اس کی مثل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 957»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1610
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" تَنْتَظِرُ - يَعْنِي النُّفَسَاءَ - سَبْعًا فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَأَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَوَاحِدَةً وَعِشْرِينَ فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَأَرْبَعِينَ ثُمَّ تُصَلِّي" وَقَدْ رُوِيَ فِيهَا عَنْ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفاس والیاں سات (دن) انتظار کریں گی، اگر پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ چودہ (دن)، اگر پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ اکیس (دن)، اگر وہ پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ چالیس (دن انتظار کرے گی) پھر نماز پڑھے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَبِي حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ:" تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهَا أَحَادِيثُ مَرْفُوعَةٌ كُلُّهَا سِوَى مَا ذَكَرْنَاهُ ضَعِيفَةٌ وَقَدْ ذَهَبَ إِلَى مَا رُوِّينَا بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ.
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نفاس والیاں چالیس دن انتظار کریں گی، پھر غسل کریں گی۔
اس بارے میں مرفوع احادیث بھی مروی ہیں، جو ہم نے ذکر کیا اس کے علاوہ وہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1611]
اس بارے میں مرفوع احادیث بھی مروی ہیں، جو ہم نے ذکر کیا اس کے علاوہ وہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن عدي 7/87»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1612
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا عَبْدِ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ النُّفَسَاءِ كَمْ تَقْعُدُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ قَالَ:" أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ" وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَمْلِ مَا رُوِّينَا فِيهَا عَلَى عَادَتِهِنَّ وَأَنَّ غَيْرَهُنَّ إِنْ رَأَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مَكَثْنَ مَا لَمْ يُجَاوِزْ سِتِّينَ يَوْمًا اعْتِبَارًا بِالْوُجُودِ.
عبداللہ بن محمد بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نفاس والیوں کے متعلق سوال کیا گیا، میں (یہ گفتگو) سن رہا تھا کہ وہ کتنی دیر بیٹھیں گی، جب وہ خون دیکھیں گی؟ انہوں نے کہا: چالیس دن، پھر وہ غسل کریں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/222»
الحكم على الحديث: صحيح