🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
679. -- باب: من تناول في صلاته شيئا بيده أو غمز غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز لی یا کسی دوسرے کو دبایا (اشارہ کیا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3427
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخَرَقِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذِ اعْتَرَضَ لِي شَيْطَانٌ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقَتْهُ فَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَوْثَقْتُهُ فِي بَعْضِ هَذِهِ السَّوَارِي حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ أَوْ تَرَوْنَهُ" وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا".
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شیطان مجھ سے جھگڑنے لگا، میں نے اس کو پکڑ کر اس کا گلا دبایا۔ اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں اس کو کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے یا تم اس کو دیکھ پاتے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کسوف کے بارے میں ہے کہ ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھلائی گئی تو میں اس سے ایک خوشہ لینے لگا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میری ٹانگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی سمت میں رکاوٹ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو مجھے اشارہ کر دیتے، میں اپنی ٹانگیں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث 615۔ 616»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3429
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهَ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔۔۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام، وضو اور آپ کی نماز کے متعلق حدیث بیان کی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا جو جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے میں بھی کرنے لگا، پھر میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، پھر میرے داہنے کان کو پکڑا اور آپ اس کو مروڑ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 181»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
680. -- باب: من مس لحيته في الصلاة من غير عبث
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں بغیر کسی عبث (کھیل کود) کے اپنی داڑھی کو چھوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3430
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ وَرُبَّمَا مَسَّ لِحْيَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي هَكَذَا" رَوَاهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ.
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے اور کبھی کبھار نماز کے دوران اپنی داڑھی کو بھی چھو لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3430]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابويعلي 1462»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3431
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: وَثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ أَخِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَرُبَّمَا تَنَاوَلَ لِحْيَتَهُ فِي صَلَاتِهِ وَرُوِيَ عَنْ مُؤَمَّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ الرَّجُلَ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ ابْنِ أَخِي عَمْرِو بْنِ الْحُرَيْثِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ وَقِيلَ فِي أَحَدِهِمَا: مِنْ غَيْرِ عَبَثٍ.
(ا) سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کبھی کبھی اپنی داڑھی کو بھی پکڑ لیتے تھے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا ہے: نماز میں داڑھی کو ایک بار چھو لے یا ایک بار بھی نہ چھوئے بلکہ چھوڑ دے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی اسی کی مثل ہے جو ایک بار کنکریوں کو چھونے کے بارے میں منقول ہے۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے اور ان میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں: بغیر کسی فضول حرکت کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3431]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3432
وَيُذْكَرُ عَنِ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ يُقَالُ: مَسُّ اللِّحْيَةِ فِي الصَّلَاةِ وَاحِدَةٌ أَوْ دَعْ" قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَهَذَا نَظِيرُ مَا يُرْوَى فِي مَسِّ الْحَصَى وَاحِدَةً" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الضَّبِّيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُخْبِرُ عَنْ نَافِعٍ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ.
اسحاق بن موسیٰ خطمی کہتے ہیں: میں نے ولید بن مسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے عیسیٰ بن عبداللہ بن حکم بن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو سنا اور انہوں نے نافع سے نقل کیا، ان کا ان سے سماع ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3432]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3433
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ شَهْرَيَارَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رُبَّمَا يَضَعُ يَدَهُ عَلَى لِحْيَتِهِ فِي الصَّلَاةِ مِنْ غَيْرِ عَبَثٍ" وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ وَهُوَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ وَيُذْكَرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ يُقَالُ:" مَسُّ اللِّحْيَةِ فِي الصَّلَاةِ وَاحِدَةً أَوْ دَعْ" وَهَذَا نَظِيرُ مَا يُرْوَى فِي مَسِّ الْحَصَى وَاحِدَةً قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: عَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ عِيسَى الْقَدَّاحُ هَذَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.
(ا) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار نماز میں ضرورت کی وجہ سے اپنا ہاتھ مبارک اپنی ڈاڑھی مبارک پر رکھ لیتے۔
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک آدھ بار ڈاڑھی کو چھو لے اور بس۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے اور وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عیسیٰ القداح جو کچھ روایت کرتا ہے اس کی اکثر روایات پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه ابن عدي في الكامل 5/ 253»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
681. -- باب: من تقدم أو تأخر في صلاته من موضع إلى موضع
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آگے یا پیچھے ہٹا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ سُورَةً أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَاهَا وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ⦗٣٧٦⦘ فَصَلُّوا حَتَّى تُفَرَّجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سورج گہن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، لمبی سورت پڑھی، پھر دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دوسری سورت شروع کر دی، پھر اس سورت کو مکمل کرنے کے بعد رکوع کیا پھر سجدہ کیا۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر فرمایا: ”یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم اس طرح کا کوئی کام دیکھو تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ تم سے دور کر دی جائے۔ یقیناً میں نے اپنے اس قیام میں ہر وہ چیز دیکھی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں نے اپنے آپ کو بھی دیکھا جب تم مجھے آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے تو اس وقت میں نے جنت سے ایک خوشہ لینا چاہا تھا اور میں نے جہنم بھی دیکھی کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا تھا جس وقت تم مجھے پیچھے ہٹتا دیکھ رہے تھے اور جہنم میں میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا تھا، یہ وہی بدبخت ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی بدعت کی بنیاد ڈالی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سبأتي تخريجه في كتاب صلاة الكسوف»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3435
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ وَقَالَ فِيهِ:" ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ" وَالْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ صَلَاةِ الْخُسُوفِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا۔ انہوں نے نمازِ خسوف کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی جگہ سے پیچھے ہٹے تو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو لوگ بھی آگے بڑھ گئے۔
(ب) یہ مکمل حدیث ان شاء اللہ ”کتاب صلاۃ الخسوف“ میں آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3435]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا بُرْدٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" جِئْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ قَالَتْ: وَالْبَابُ فِي الْقِبْلَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَفِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَتْ:" كَانَ الْبَابُ فِي قِبْلَةِ مَسْجِدِنَا هَذَا فَاسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ، فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي حَتَّى فَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ رَجَعَ رَاجِعًا، يَعْنِي إِلَى مَكَانِهِ".
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر آئے۔ میری خاطر دروازہ کھولا اور پھر واپس اپنی جگہ جا کھڑے ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا۔
(ب) یہ بشر کی حدیث کے الفاظ ہیں اور علی بن عاصم کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دروازہ ہماری اس مسجد کے قبلہ کی سمت میں تھا۔ میں نے دروازہ کھولنے کے لیے دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ تشریف لے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمزي 60»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں