السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
683. -- باب: المصلي يدفع المار بين يديه
-- باب: نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو ہٹانے (روکنے) کا بیان
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَرَأَيْتُ مِنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ إِذْ دَخَلَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ نَحْرَهُ، فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ، فَأَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحِرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الْأُولَى فَمَثُلَ قَائِمًا وَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ قَالَ: وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ: لَهُ مَرْوَانُ: مَا لَكُ وَلِابْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْتَكِيكَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسَ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ.
حمید بن ہلال سے روایت ہے کہ میں اور ایک صاحب ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے، اچانک ابوصالح نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہیں اس پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم سترے کی آڑ میں جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو معیط قبیلے کا ایک شخص آیا اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزرنے لگا تو انہوں نے اس کو پیچھے کیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، اسے کوئی اور جگہ نظر نہ آئی سوائے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے کے، وہ پھر پلٹ کر آیا اور گزرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو مزید سختی سے روکا تو وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا، پھر لوگوں کو دھکیلتا ہوا نکل گیا۔ اس نے مروان کو شکایت کی (مروان اس وقت مدینہ کا امیر تھا)، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے تو مروان نے کہا: تمہارا اپنے بھتیجے کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ یہ تمہارے بارے میں شکایت لے کر آیا ہے، تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص سترا رکھ کر نماز پڑھے، پھر کوئی شخص (اس کے سامنے سے) گزرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کو گزرنے سے روکے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس کو سختی سے روکے، وہ تو شیطان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 487»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3448
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَنَعَهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ فَنَبَذَهُ فَأَبَى فَدَفَعَ فِي صَدْرِهِ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبِي فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ مَضْمُومًا إِلَى ذَلِكَ الْإِسْنَادِ وَذَلِكَ مِنْهُ تَجَوُّزٌ إِلَّا أَنَّهُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَفْرَدَهُ بِالذِّكْرِ عَلَى لَفْظِهِ فِي كِتَابِ بَدْءِ الْخَلْقِ.
ابوصالح سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ آل ابی معیط کا ایک شخص آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اس کو روکا۔ اس نے رکنے سے انکار کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس کو دھکا دیا تو اس نے انکار کر دیا تو انہوں نے اس کے سینے پر مارا۔ ان دنوں مروان مدینہ کا والی تھا۔ اس شخص نے مروان کو آپ کی شکایت کی تو مروان نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کو روکے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے“ اور میں اس کو روک رہا تھا اور یہ رکنے سے انکاری تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ دُونَ مَا فِي أَوَّلِهِ مِنَ السُّتْرَةِ.
(ا) صدقہ بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سترے کی آڑ میں نماز پڑھو اور اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دو، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑائی کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں یہ روایت ہے مگر اس کے شروع میں سترے کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3449]
(ب) صحیح مسلم میں یہ روایت ہے مگر اس کے شروع میں سترے کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 506، ابن حبان 2369»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَأَرَادَ جَدْيٌ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ مینڈھے کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابو يعلي2422۔ ابوداود 709»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ لَتَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِيهَا حَتَّى لَصَقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ".
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر گھاٹی سے اترے، نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار کو سترہ بنا کر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آیا جو آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ کو دیوار سے لگا دیا، تو وہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 708»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
684. -- باب: إثم المار بين يدي المصلي
-- باب: نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 3452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ: مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، أَوْ سَنَةً رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
بسر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو جہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایسا کرنے سے اسے کس قدر گناہ ہو گا، تو وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے پر چالیس کے قیام کو ترجیح دے۔“ ابو نصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے چالیس دن، چالیس ماہ یا چالیس سال کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري: 488»
الحكم على الحديث: صحيح
685. -- باب: ما يكون سترة المصلي
-- باب: نمازی کا سترہ کیا چیز ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 3453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 500»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3454
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٨١⦘ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مُخْتَصَرًا.
دوسری سند کے ساتھ اس کی مثل روایت منقول ہے اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن یزید (المقرئ) رحمہ اللہ سے مختصراً روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حواله مذكوره»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3455
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً وَأَبُو صَالِحٍ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ" وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ:" فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِي مَنْ يَمُرُّ وَرَاءَ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھر کسی کا گزرنا نقصان دہ نہ ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم: 499»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3456
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزرتے رہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطور سترہ) ہو تو پھر اسے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح