السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
686. -- باب: الخط إذا لم يجد عصا
-- باب: جب لاٹھی نہ ملے تو خط (لکیر) کھینچنے کا بیان
حدیث نمبر: 3467
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّ مَا مَرَّ أَمَامَهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیے۔ اگر کوئی چیز نہ مل سکے تو لکیر ہی کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3467]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3468
وَرَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ بِشْرٍ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مُخْتَصَرًا، ⦗٣٨٤⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَالْحُمَيْدِيِّ وَجَمَاعَةٍ عَنْهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ شَكَّ فِيهِ.
حمید بن اسود نے بھی اس روایت کو اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابوعمرو بن محمد بن حریث بن سلیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بشر کی حدیث کے الفاظ کے مطابق روایت کیا ہے۔
وہیب اور عبدالوارث نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے ابوعمرو بن حریث سے اور انہوں نے اپنے دادا حریث سے روایت کیا ہے۔ عبدالرزاق نے ابن جریج سے، انہوں نے اسماعیل سے سن کر، انہوں نے حریث بن عمار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ ابن عیینہ نے امام شافعی رحمہ اللہ، حمیدی اور ایک جماعت کی روایت میں اسے اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابومحمد بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے دادا حریث عذری سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، پھر ان (ابن عیینہ) سے یہ بھی منقول ہے کہ انہیں اس میں شک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3468]
وہیب اور عبدالوارث نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے ابوعمرو بن حریث سے اور انہوں نے اپنے دادا حریث سے روایت کیا ہے۔ عبدالرزاق نے ابن جریج سے، انہوں نے اسماعیل سے سن کر، انہوں نے حریث بن عمار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ ابن عیینہ نے امام شافعی رحمہ اللہ، حمیدی اور ایک جماعت کی روایت میں اسے اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابومحمد بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے دادا حریث عذری سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، پھر ان (ابن عیینہ) سے یہ بھی منقول ہے کہ انہیں اس میں شک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ فَقَالَ:" هَكَذَا، يَعْنِي عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَمِعْتُ مُسَدَّدًا يَقُولُ: قَالَ ابْنُ دَاوُدَ:" الْخَطُّ بِالطُّولِ".
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو لکیر کی کیفیت بیان کرتے سنا، انہوں نے فرمایا: اس طرح، یعنی چوڑائی کے رخ چاند کی گولائی کی طرح۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسدد سے سنا اور انہوں نے ابن داؤد کے حوالے سے بیان کیا کہ لکیر لمبائی کے رخ ہونی چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3469]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسدد سے سنا اور انہوں نے ابن داؤد کے حوالے سے بیان کیا کہ لکیر لمبائی کے رخ ہونی چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3469]
حدیث نمبر: 3470
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ الْحُمَيْدِيَّ عَنِ الْخَطَّ، فَأَوْمَأَ لِي مِثْلَ الْهِلَالِ الْعَظِيمِ".
بشر بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حمیدی رحمہ اللہ سے لکیر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے اشارہ کر کے بتایا یعنی چاند کی شکل جیسی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
687. -- باب: الصلاة إلى الأسطوانة التي تكون في المسجد
-- باب: مسجد میں موجود ستون کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مَكِّيٌّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الْمُصْحَفِ، قُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ:" فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، عَنْ مَكِّيٍّ.
یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی میں آتا، آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے تھے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا، ایک بار میں نے عرض کیا: اے ابومسلم! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بھی کوشش کر کے اس کے سامنے نماز پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري: 480»
الحكم على الحديث: صحيح
688. -- باب: السنة في وقوف المصلي إذا صلى إلى أسطوانة أو سارية أو نحوها
-- باب: جب نمازی کسی ستون یا کھمبے وغیرہ کی طرف نماز پڑھے تو اس کے کھڑے ہونے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 3472
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيُّ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمَدًا" لَفْظُ حَدِيثِ الدِّمَشْقِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الصَّغَانِيِّ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُهَلَّبُ بْنُ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي ضُبَاعَةُ وَلَمْ يَقُلِ: ابْنِ الْأَسْوَدِ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی کسی لکڑی، ستون یا درخت کے بالکل سامنے نماز پڑھتے نہیں دیکھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے داہنے یا بائیں پہلو پر رکھتے اور اس کو درمیان میں نہ رکھتے (یعنی اپنے داہنے کندھے یا بائیں کندھے کے مقابل کرتے، چہرے کے سامنے نہ کرتے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 693»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3473
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى إِلَى سُتْرَةٍ جَعَلَهَا عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ حَاجِبِهِ الْأَيْسَرِ لَمْ يَتَوَسَّطْهَا" وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ وَبَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَامِلٍ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ: وَقِيلَ: عَنْ بَقِيَّةَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ الْمِقْدَامُ، وَالْمِقْدَادُ أَصَحُّ، فَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ الْبَجَلِيُّ الشَّامِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: عِنْدَهُ عَجَائِبُ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ضباعہ بنت مقدام رحمہا اللہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سترے کی جانب نماز پڑھتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنے دائیں یا بائیں کندھے کے مقابل رکھتے، درمیان میں نہ رکھتے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں ولید بن کامل بجلی شامی منفرد ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے پاس عجیب و غریب روایات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3473]
اس حدیث کو بیان کرنے میں ولید بن کامل بجلی شامی منفرد ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے پاس عجیب و غریب روایات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر
689. -- باب: الدنو من السترة
-- باب: سترے کے قریب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ⦗٣٨٦⦘ حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ سے دیوار تک بکری کے گزرنے کے برابر جگہ ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 474»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ:" لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَبَيْنَ الْحَائِطِ إِلَّا قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ منبر (نماز کی جگہ) اور دیوار کے درمیان صرف بکری کے گزرنے کے برابر جگہ ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 475»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنَ يَحْيَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سترے کی طرف نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہو، تاکہ شیطان اس کی نماز نہ توڑ سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 695»
الحكم على الحديث: صحيح