🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
691. -- باب: من قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يديه سترة المرأة والحمار والكلب الأسود
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الْعَبَّاسُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَحْسَبُهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ ⦗٣٩٠⦘ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْخِنْزِيرُ" قَالَ: وَيَكْفِيكَ إِذَا كَانُوا مِنْكَ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ لَمْ يَقْطَعُوا صَلَاتَكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جب آدمی سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو) کتا، گدھا، بالغہ عورت، یہودی، نصرانی، مجوسی اور خنزیر (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں اور یہ تم سے ایک کنکر پھینکنے کے فاصلے سے دور ہو کر گزریں تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 704»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثنا مُعَاذٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ" وَلَمْ يَذْكُرِ النَّصْرَانِيَّ قَالَ:" وَالْمَرْأَةُ" وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَائِضَ قَالَ:" وَيُجْزِي عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ".
راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو یہ چیزیں اس کی نماز توڑ دیتی ہیں۔“ انہوں نے نصرانی کا ذکر نہیں کیا اور عورت کا ذکر کیا مگر بالغہ کا لفظ ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”البتہ اگر یہ چیزیں ایک پھینکے ہوئے کنکر کے فاصلے سے دور ہو کر گزر جائیں تو نماز نہیں ٹوٹتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3488]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ:" اللهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ" فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهِ بَعْدُ.
یزید بن نمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تبوک کے مقام پر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، وہ بیان کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں ایک گدھے پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے پاؤں ضائع کر دے“، اس دن کے بعد میں نہیں چل سکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 705»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا".
سعید رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی، اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ:" هَذِهِ قِبْلَتُنَا" ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ" فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.
سعید بن غزوان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حج کے ارادے سے نکلے تھے تو تبوک کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، وہاں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں یہ میری زندگی میں کسی اور کو نہ بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ تبوک پر ایک کھجور کے پاس پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”یہ ہمارا قبلہ ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، میں اس وقت بچہ تھا۔ میں دوڑا دوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس درخت کے درمیان سے گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے“۔ میں اس وقت سے آج تک ان پر کھڑا نہیں ہو سکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 707»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
692. -- باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح چوڑائی میں لیٹی ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 376»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا تَقُولُونَ فِيمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، قَالَتْ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سُوءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ کون سی چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: عورت اور گدھے کے گزرنے سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عورت برا جانور ہے؟ یقیناً میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس طرح کوئی جنازہ ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 512»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3494
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ" قَالَ شُعْبَةُ قَالَ سَعْدٌ: وَأْحْسَبُهَا قَالَتْ:" وَأَنَا حَائِضٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سعد نے کہا: میرا خیال ہے عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ میں حائضہ بھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1457»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا" قَالَتْ:" وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
ام المؤمنین (زوجہ رسول) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی اور میری ٹانگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف ہوتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو مجھے اشارہ فرما دیتے، میں اپنی ٹانگیں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو میں پھر انہیں پھیلا لیتی، فرماتی ہیں: ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 375»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ مُعْتَرِضَةً فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ قَالَ:" تَنَحِّي" وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ عَائِشَةَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي وَأَوْتَرْتُ وَذَلِكَ أَصَحُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف لیٹی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو فرماتے: ”ایک طرف ہو جا۔“
(ب) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود711»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں