السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
766. -- باب: من قال يسجدهما بعد التسليم على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ مطلقا سلام کے بعد ہی دونوں سجدے کیے جائیں
حدیث نمبر: 3821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ⦗٤٧٦⦘ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ أَنْ يُسَلِّمَ" هَذَا الْإِسْنَادُ لَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْهُ وَمَعَهُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام کے بعد دو سجدے کرے۔“
اس سند میں کوئی حرج نہیں، البتہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح ہے، اور اس کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث بھی ہیں، جیسا کہ ہم ذکر کریں گے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3821]
اس سند میں کوئی حرج نہیں، البتہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح ہے، اور اس کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث بھی ہیں، جیسا کہ ہم ذکر کریں گے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3821]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ بسند آخر اخرجه ابوداود 1033»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3822
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْكَلَاعِيَّ، عَنْ زُهَيْرٍ يَعْنِي الْعَنْسِيَّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر سہو کے بدلے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1039»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3823
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعِ بْنِ مَخْلَدٍ، أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: عَنْ أَبِيهِ، غَيْرُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ⦗٤٧٧⦘ وَقَالَ زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيَّ: وَهَذَا إِسْنَادٌ فِيهِ ضِعْفٌ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعِمْرَانَ وَغَيْرِهِمَا فِي اجْتِمَاعِ عَدَدٍ مِنَ السَّهْوِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اقْتَصَارُهُ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ يُخَالِفُ هَذَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اس سند میں ضعف ہے، اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عمران رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی سہو کے جمع ہونے کے بارے میں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف دو سجدوں پر اکتفا کرنا اس حدیث کی مخالفت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3824
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، قُلْنَا: سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَمَضَى فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ يَرْفَعُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَمَعَهُ رِوَايَةُ مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سیدھے کھڑے ہو گئے، ہم نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا تو انہوں نے بھی «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا اور ایسے ہی نماز پڑھتے رہے، جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کی اور سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا کہ اس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے اور اس کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی، ان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے تھے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3824]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے اور اس کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی، ان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے تھے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 17767»
الحكم على الحديث: ضعيف
767. -- باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا
-- باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ" ⦗٤٧٨⦘ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْصُولًا وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ أَيْضًا مَوْصُولًا.
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارے شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعتیں یا چار، تو وہ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر پڑھی جانے والی رکعت پانچویں ہوگی تو وہ ان دونوں سجدوں سے جفت بن جائے گی اور اگر پڑھی جانے والی رکعت چوتھی ہوگی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3825]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ قد تقدم برقم 3801»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3826
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ الدِّمَشْقِيُّ بِدِمَشْقَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ يَعْنِي ابْنَ الْحَكَمِ السُّلَمِيَّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَتَأَوَّلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ مَا أَخْبَرَنَا هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَثْلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَتْ وِتْرًا أَشْفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعتیں یا چار، تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ اگر اس کی نماز طاق ہوئی تو یہ دو سجدے اس کو جفت بنا دیں گے اور اگر اس کی نماز جفت ہوئی تو وہ دو سجدے شیطان کی ذلت کا سبب بنیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2800»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3827
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَشَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الِاثْنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اس کو ایک اور دو میں شک ہے تو ایک شمار کرے اور اگر دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو شمار کرے اور اگر اسے تین اور چار میں شک ہے تو انہیں تین ہی سمجھے تاکہ گمان زیادہ میں ہو۔ پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے اور سلام پھیر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وقد تقدم برقم 3804»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَابْنُ مِلْحَانَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيُلَبِّسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ ⦗٤٧٩⦘ أَنَسٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَرَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَزَادَ فِيهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز میں آتا ہے اور اسے نماز میں شک میں مبتلا کردیتا ہے، حتیٰ کہ نمازی نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ لہٰذا تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت پیش آجائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3798»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ: وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ.
دوسری سند سے بھی یہی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث: «صحيح شاذ۔ قال ابن رجب في الفتح 7/ 225»
الحكم على الحديث: صحيح شاذ
حدیث نمبر: 3830
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے نماز میں کمی کی ہے یا زیادتی، تو وہ آخر میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ قال ابن رجب في الفتح 7/ 225»
الحكم على الحديث: شاذ