🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
795. -- باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو
-- باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ الْإِيَادِيُّ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" صَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَهَضَ فَسَبَّحَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَرَكَعَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِفِعْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" مَا أَمَاطَ، عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ⦗٥٠٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ.
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر جلدی سے اٹھ کر جانے لگے تو لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ بولے: انھیں کیا ہو گیا ہے؟ پھر آئے اور ایک رکعت پڑھی، پھر دو سجدے۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فعل کے بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا: انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے تجاوز نہیں کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَّاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”ہائے افسوس! میری ماں مجھے گم پائے! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں سے باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“ یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 5/447/24163»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
796. -- باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب
-- باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3919
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِيمَا رُوِّينَا عَنْهُ فِي تَحْرِيمِ الْكَلَامِ: فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَرُجُوعُهُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ كَانَ قَبْلَ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَشَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَقَصَّةُ التَّسْلِيمِ كَانَتْ قَبْلَ الْهِجْرَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں جو ہمیں ان سے نماز میں کلام کی ممانعت کے بارے میں پہنچی ہے، فرمایا: ”پس جب ہم سرزمین حبشہ سے واپس آئے۔“
اور ان کی حبشہ سے واپسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے ہوئی تھی، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، پس سلام پھیرنے کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3919
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ ثَمَانُونَ رَجُلًا وَمَعَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ⦗٥٠٩⦘ طَالِبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُخُولِهِمْ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَبَادَرَ فَشَهِدَ بَدْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم ۸۰ مرد تھے، ہمارے ساتھ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہونے کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنے میں سبقت لے گئے، وہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ يُذْكَرُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ مِنْ مُهَاجِرَةِ أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْأُولَى، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَهُمْ وَذَكَرَ فِيهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَكَذَا ذَكَرَهُ سَائِرُ أَهْلِ الْمَغَازِي بِلَا اخْتِلَافٍ بَيْنَهُمْ فِيهِ.
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جن لوگوں کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ حبشہ کی پہلی ہجرت کرنے والوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ آئے، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، ان میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام اہل سیر نے بلا اختلاف ذکر کیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آفتاب ڈھلنے کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی سند ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔“ پھر انہوں نے ذوالیدین کا قصہ ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 6756»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3921
وَفِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، وَقُدُومُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ.
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔۔۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس واقعہ کے وقت موجود تھا اور میں خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3921]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم غير مره»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا فَتَحُوهَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس فتحِ خیبر کے بعد آیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 2827»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْقَطَّانِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّ النَّاسَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ إِنَّهُ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ بِخَيْبَرَ.
عراک بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مدینہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے اور بنو غفار کا ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب آپ خیبر میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3923]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3924
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ".
قیس بن حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تین سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3591»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَهُوَ يَذْكُرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ وَيَحْمِلُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ⦗٥١١⦘ الْعَمْدِ قَالَ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ فَظَاهِرُهُ الْعَمْدُ وَالنِّسْيَانُ وَالْجَهَالَةُ؟ قُلْنَا: صَدَقْتَ، هَذَا ظَاهِرٌ وَلَكِنْ كَانَ إِتْيَانُ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَبْلَ بَدْرٍ، ثُمَّ شَهِدَ بَدْرًا بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ، فَلَمَّا وَجَدْنَا إِسْلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِينَ وَقَدْ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ ذِي الْيَدَيْنِ وَوَجَدْنَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً أُخْرَى وَقَوْلَ الْخِرْبَاقِ: وَكَانَ إِسْلَامُ عِمْرَانَ بَعْدَ بَدْرٍ، وَوَجَدْنَا مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: وَكَانَ إِسْلَامُ مُعَاوِيَةَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرَيْنِ وَوَجَدْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَوِّبُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ وَيَذْكُرُ أَنَّهَا سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجَدْنَا ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ وَكَانَ إِجَازَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ بَدْرٍ، فَعَلِمَنَا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خُصَّ بِهِ الْعَمْدُ دُونَ النِّسْيَانِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الْحَدِيثُ فِي النِّسْيَانِ وَالْعَمْدِ يَوْمَئِذٍ لَكَانَتْ صَلَوَاتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ نَاسِخَةً لَهُ؛ لِأَنَّهَا بَعْدَهُ.
حمیدی رحمہ اللہ اس مسئلہ کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قصداً پر محمول کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کا ظاہر عمد، نسیان اور جہالت پر ہے؟ ہم جواباً عرض کریں گے کہ آپ سچ کہتے ہیں: یہ ظاہر ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارضِ حبشہ سے واپسی کا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے۔ اس قول کے بعد وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین سال پہلے اسلام لائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور ذی الیدین رضی اللہ عنہ کے قول کے وقت موجود تھے۔ ہم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور خرباق کے قول کے وقت دوسرے موقع پر موجود تھے اور عمران رضی اللہ عنہ بھی بدر کے بعد اسلام لائے تھے۔ معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا اور معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف دو ماہ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ہم نے پایا، وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات کو درست قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تقریباً دس سال کے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ہم نے پایا کہ انہوں نے یہ روایت بیان کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بدر کے بعد خندق میں جانے کی اجازت دی تھی۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو نسیان سے ہٹا کر قصداً پر محمول کیا جائے گا اور اگر یہ حدیث اس وقت نسیان اور عمد (دونوں) کے لیے ہوتی تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعد والی نمازیں اس قول کے لیے ناسخ ہوں گی؛ کیونکہ یہ بعد والی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3925]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں