السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. -- باب: من سها عن سجدتي السهو ثم انصرف
-- باب: اس شخص کا بیان جو سجدہ سہو کرنا بھول گیا پھر (نماز سے) پھر گیا
حدیث نمبر: 3880
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا شَاذَانُ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" لَا" قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَلَمْ يَذْكُرْ شَاذَانُ الظُّهْرَ، وَقَالَ:" فَلَمَّا انْصَرَفَ" وَقَالَ" فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ كَمَا مَضَى، وَرُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں، جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: ”کیا نماز میں کوئی اضافہ ہو گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ظہر کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ جب وہ نماز سے پھرے تو سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3880]
(ب) ایک دوسری روایت میں ظہر کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ جب وہ نماز سے پھرے تو سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 401۔ 404۔ 1226۔ 7249»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3881
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ قَالَ: صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي فَسَهَوْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الضَّحَاكَ يَعْنِي ابْنَ مُزَاحِمٍ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي فَسَهَوْتُ فَقَالَ:" اسْجُدِ الْآنَ".
سلمہ بن نبیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے گھر میں نماز پڑھی تو دورانِ نماز مجھ سے سہو ہو گیا، پھر میں ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھی تو میں بھول گیا تھا، انہوں نے کہا: اب سجدہ سہو کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3882
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِي، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا الرَّبِيعُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" إِذَا سَهَا فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ".
امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی مسجد میں بھول جائے اور سجدہ سہو نہ کرے حتیٰ کہ مسجد سے نکل جائے تو اس پر کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
784. -- باب: الدليل على أن سجدتي السهو للسهو نافلة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ سہو کے دونوں سجدے نفل (غیر واجب) ہیں
حدیث نمبر: 3883
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلَاتِهِ وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَيِ الشَّيْطَانِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑ جائے تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور جب نماز مکمل ہو جائے تو دو سجدے کر لے، اگر اس کی نماز پہلے ہی مکمل تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل ہو جائیں گے اور اگر نماز نہیں پڑھی تو یہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3800»
الحكم على الحديث: صحيح
785. -- باب: من سها خلف الإمام دونه لم يسجد للسهو
-- باب: اس شخص کا بیان جو امام کے پیچھے بھول گیا، جبکہ امام نہیں بھولا، تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: Q3884
قَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ وَكَلَامُهُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاهِلًا بِتَحْرِيمِهِ، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُجُودِ السَّهْوِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ.
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز میں) کلام کے حرام ہونے سے ناواقفیت کی بنا پر کلام کیا تھا، پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سجدہ سہو کا حکم نہیں دیا۔
اور اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، اور یہی امام شعبی، امام نخعی، امام زہری اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کا قول ہے، اور اس باب میں ایک ضعیف حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3884]
اور اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، اور یہی امام شعبی، امام نخعی، امام زہری اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کا قول ہے، اور اس باب میں ایک ضعیف حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3884]
حدیث نمبر: 3884
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءُ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ فِي الْإِمَامِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْإِمَامَ يَكْفِي مَنْ وَرَاءَهُ، فَإِنْ سَهَا الْإِمَامُ فَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ وَعَلَى مَنْ وَرَاءَهُ أَنْ يَسْجُدُوا مَعَهُ وَإِنْ سَهَا أَحَدٌ مِمَّنْ خَلْفَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ، وَالْإِمَامُ يَكْفِيهِ" وَرَوَى خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَأَبُو الْحُسَيْنِ هَذَا مَجْهُولٌ وَالْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو امامت کروایا کرتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا تھا؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اپنے پیچھے والوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ اگر امام بھول جائے تو امام پر سہو کے سجدے ضروری ہیں اور اس کے مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کریں گے اور اگر مقتدیوں میں سے کوئی بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے اور امام اس کو کافی ہو جائے گا۔“
یہ ابوالحسین مجہول ہے اور حکم بن عبداللہ ضعیف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3884]
یہ ابوالحسین مجہول ہے اور حکم بن عبداللہ ضعیف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3885
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ قَلُّوا أَوْ كَثُرُوا وَهُوَ يَحْمِلُ أَوْهَامَهُمْ".
ابن ابی اویس اور عیسیٰ بن میناء دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدالرحمن بن ابی الزناد رحمہ اللہ نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ امام کا سترہ ہی اس کے مقتدیوں کا سترہ ہے، چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ اور وہ ان کا بوجھ اٹھائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
786. -- باب: الإمام يسهو فيسجد أو يسجد من خلفه
-- باب: امام بھول جائے تو وہ سجدہ کرے یا اس کے پیچھے والے سجدہ کریں اس کا بیان
حدیث نمبر: Q3886
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ.
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا تم اس سے اختلاف نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3886]
حدیث نمبر: 3886
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي ⦗٤٩٦⦘ اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلَامِ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
ابن بحینہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو دو سجدے کیے اور ہر سجدے میں تکبیر کہتے اور یہ سجدے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے کیے اور تشہد میں بیٹھنا بھولنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقی لوگوں نے بھی سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم كثيرا، وانظر مثلاً، رقم 3813»
الحكم على الحديث: صحيح
787. -- باب: المسبوق ببعض الصلاة يتم باقي صلاته ولا يسجد سجدتي السهو إذا لم يسه هو ولا الإمام
-- باب: جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے اور وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا جب کہ نہ وہ بھولا ہو اور نہ ہی امام بھولا ہو
حدیث نمبر: Q3887
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا".
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ: ”(نماز کا) جو حصہ تم پالو اسے پڑھ لو اور جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3887]