السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1900
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ثنا حَيْوَةُ، أنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبَيْحٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٥٩٥⦘ بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ وَلَمْ يُصَلِّ الصُّبْحَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى آذَاهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَحَّوْا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور صبح کی نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا، جب سورج کی گرمی نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس جگہ سے کوچ کر جائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے صحابہ کو حکم دیا، انہوں نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 444»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ زُبَيْدَ بْنَ الصَّلْتِ، خَرَجَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْجُرُفِ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا أَظُنُّ إِلَّا وَأَنِّي قَدِ احْتَلَمَتُ وَمَا شَعَرْتُ وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلَتُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ وَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبید بن صلت، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہو گیا ہے۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ مجھے احتلام ہو گیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا اور میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے غسل کیا اور جو اپنے کپڑوں میں دیکھا اس کو دھویا اور جو نہیں دیکھا اس پر چھینٹے مارے، پھر اذان دی اور اقامت کہی، پھر انہوں نے سورج کے بلند ہونے کے بعد اطمینان سے نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 3644»
الحكم على الحديث: ضعيف
382. -- باب: سنة الأذان والإقامة للمكتوبة في حالتي الانفراد والجماعة
-- باب: فرض نماز کے لیے انفراد اور جماعت دونوں حالتوں میں اذان اور اقامت مسنون ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا الْبَغَوِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ الْأَذَانَ أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ: فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْفِطْرَةِ" ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ" قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزَى أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حملہ کرتے تھے جب فجر طلوع ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے تھے، اگر اذان سنتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کر دیتے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا جو کہہ رہا تھا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطرت پر ہے“، پھر اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے نکل گیا“؛ صحابہ نے دیکھا تو وہ بکریوں کا ایک چرواہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 382»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْفِطْرَةِ" فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ:" خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ" ⦗٥٩٦⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا تھا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطرت پر ہے“، اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے نکل گیا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْفِطْرَةِ" فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ مِنَ النَّارِ" قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ہم نے اعلان کرنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ»، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فطرت پر ہے۔“ اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے نکل گیا۔“ فرماتے ہیں: ہم نے اس کی طرف جلدی کی تو وہ مویشی والا تھا۔ نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے آواز دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 1/406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ثنا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ لِلصَّلَاةِ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ جَنَّتِي".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”تیرا رب بکریوں کے اس چرواہے سے جو پہاڑ کی بلند چوٹی پر ہو تعجب کرتا ہے، جو نماز کی اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 1203»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ:" لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ أَوْ يَتَيَمَّمُ صَعِيدًا طَيِّبًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا فَيُصَلِّي - وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ فَيُقِيمُهَا - إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ مَنْ لَا يُرَى قُطْرَاهُ" أَوْ قَالَ: طَرَفَاهُ شَكَّ التَّيْمِيُّ".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص بھی کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں ہو، وضو کرے یا پاک مٹی سے تیمم کرے، پھر نماز کے لیے اذان دے، پھر اقامت کہے اور نماز پڑھے (ابو العباس کی حدیث میں ہے: پھر اس کی اقامت کہے) تو وہ اللہ کے لشکروں میں سے ایسے لوگوں کی امامت کراتا ہے جن کے دونوں کنارے دیکھے نہیں جا سکتے، یا فرمایا: جن کی دونوں اطراف (تیمی کو شک ہوا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1766»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1907
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ:" لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ إِنْ وَجَدَ مَاءً وَإِلَّا يَتَيَمَّمُ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَا يُرَى طَرَفَاهُ" أَوْ قَالَ: طَرْفُهُ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”کوئی شخص کسی چٹیل زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست، ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت کرائی ہے جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1907]
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٩٧⦘ عَبْدِ اللهِ الْبَيْرُوتِيُّ بِبَيْرُوتَ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيَّ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ غُصْنٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيُؤَذِّنُ بِحَضْرَةِ الصَّلَاةِ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ فَيُصَلِّي إِلَّا صَفَّ خَلْفَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا لَا يُرَى قُطْرَاهُ يَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ وَيُؤَمِّنُونَ عَلَى دُعَائِهِ".
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سائے والی زمین میں نماز کے وقت اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، وہ نماز پڑھتا ہے مگر اس کے پیچھے فرشتے صف بنا لیتے ہیں جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا، وہ اس کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں اور اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
383. -- باب: سنة الأذان والإقامة في البيوت وغيرها
-- باب: گھروں اور دیگر مقامات پر اذان اور اقامت مسنون ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ عَنْ لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الشَّهْدَةِ فَنَزُورَهَا فَأَمَرَ أَنْ يُؤَذَّنَ لَهَا وَيُقَامَ وَيُؤَمَّ أَهْلُ دَارِهَا فِي الْفَرَائِضِ".
سیدہ ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہمارے ساتھ شہیدہ کی طرف چلو، ہم اس کی زیارت کریں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے لیے اذان و اقامت کہی جائے اور ”گھر والوں کی فرائض کی امامت کراؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 591»
الحكم على الحديث: ضعيف