السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
379. -- باب: الأذان والإقامة للجمع بين الصلاتين
-- باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1890
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُزْدَلِفَةَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَذْكُرِ الْأَذَانَ" حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَذَكَرَهُ وَالْحَسَنُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سے پڑھی اور اذان کا ذکر نہیں کیا۔
حسن بن عمارہ قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1890]
حسن بن عمارہ قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
380. -- باب: الأذان والإقامة للجمع بين صلوات فائتات
-- باب: کئی قضا شدہ نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ يَهْوِي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا وَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ ⦗٥٩٢⦘ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} [الأحزاب: ٢٥] فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيَهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ كَذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ كَذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ كَذَلِكَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} [البقرة: ٢٣٩] " وَهَكَذَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْجَدِيدِ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِقَامَةً، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ لَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْهُمْ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْهُ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ وَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
(الف) سیدنا عبد الرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم کو خندق کے دن نماز سے روک دیا گیا یہاں تک کہ مغرب کے بعد جب رات چھا گئی تو ہمیں وقت ملا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [سورة الأحزاب: 25] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انھوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اچھے انداز کے ساتھ نماز پڑھائی جس طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح عصر کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور اسی طرح عشا کی نماز پڑھائی اور یہ حکم خوف کی نماز نازل ہونے سے پہلے ہے۔ ﴿فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [سورة البقرة: 239]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے قول جدید میں ابن ابی فدیک کے واسطے سے ابن ابی ذئب سے اسی طرح نقل کیا ہے، اور ابو داود طیالسی نے ابن ابی ذئب سے اسی کے ہم معنی نقل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
(ج) ابن ابی ذئب سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھیں حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھائی۔
(د) اسی طرح ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے منقول دو روایات میں سے ایک میں فرماتے ہیں، لیکن انھوں نے اپنے والد سے براہِ راست نقل نہیں کیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1891]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے قول جدید میں ابن ابی فدیک کے واسطے سے ابن ابی ذئب سے اسی طرح نقل کیا ہے، اور ابو داود طیالسی نے ابن ابی ذئب سے اسی کے ہم معنی نقل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
(ج) ابن ابی ذئب سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھیں حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھائی۔
(د) اسی طرح ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے منقول دو روایات میں سے ایک میں فرماتے ہیں، لیکن انھوں نے اپنے والد سے براہِ راست نقل نہیں کیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 661»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1892
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحِ الْقَاضِي، بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ ثنا هُشَيْمٌ ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي الْأَذَانِ مِنْهُمْ مِنْ حَفِظَهُ عَنْهُ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَحْفَظْهُ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ فَقَالَ: يُتَابِعُ بَعْضُهَا بَعْضًا بِإِقَامَةٍ إِقَامَةٍ.
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”مشرکین نے خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھائی۔“
ہشام دستوائی نے ابوزبیر سے روایت کی ہے، ان میں اذان سے متعلق اختلاف کیا گیا۔ بعض نے ان سے یاد کیا اور بعض نے نہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ ابوزبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ نمازیں ایک کے بعد ایک، ہر ایک کے لیے ایک اقامت کے ساتھ پڑھی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1892]
ہشام دستوائی نے ابوزبیر سے روایت کی ہے، ان میں اذان سے متعلق اختلاف کیا گیا۔ بعض نے ان سے یاد کیا اور بعض نے نہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ ابوزبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ نمازیں ایک کے بعد ایک، ہر ایک کے لیے ایک اقامت کے ساتھ پڑھی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الترمذي 179»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ" ⦗٥٩٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْأَذَانِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَذَانَ أَحَدٌ مَعَ الْوَصْلِ غَيْرَ أَبَانَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے۔۔۔ اس میں ہے: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 680»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ:" مَنْ يَحْفَظُ عَلَيْنَا الصَّلَاةَ؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ بِهِ الْغَفْلَةُ" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ نِمْتَ؟" فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِأَنْفَاسِكُمْ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " وَرَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا وَذَكَرَ فِيهِ الْأَذَانَ، وَالْأَذَانُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ صَحِيحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! آپ سو گئے تھے؟“ انہوں نے کہا: میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔“ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14]
(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاً نقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1894]
(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاً نقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَاضْطَجَعُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ؟" قَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ مِنْ نَوْمَةٍ مِثْلِهَا قَطُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا إِلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" ثُمَّ قَالَ:" يَا بِلَالُ قُمْ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِ" فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ قَامَ فَصَلَّى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، بعض لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ پڑاؤ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خوف ہے کہیں کہ تم نماز سے سو نہ جاؤ“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو بیدار کر دوں گا، لوگوں نے پڑاؤ کیا اور آرام کے لیے لیٹ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے بھی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی، نیند آپ رضی اللہ عنہ پر غالب آگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوئے تو سورج کا کنارہ طلوع ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کہاں ہے جو تو نے کہا تھا؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر اس طرح کی نیند کبھی بھی نہیں ڈالی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تمہاری روحوں کو جب چاہا قبض کر لیا اور جب چاہا انہیں تمہاری طرف لوٹا دیا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو اور لوگوں کو نماز کی اطلاع دو“، انھوں نے وضو کیا، جب سورج بلند اور سفید ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 570»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1896
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٩٤⦘ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَفِيهِ ثُمَّ نَادَى بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ.
(الف) عبداللہ بن رباح، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس نیند کے متعلق جب کہ سورج طلوع ہو چکا تھا، طویل حدیث بیان فرماتے ہیں۔ اس میں ہے کہ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر صبح کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔
(ب) سلیمان سے روایت ہے کہ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1896]
(ب) سلیمان سے روایت ہے کہ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ:" لَا ضَيْرَ أَوْ لَا ضَرَرَ" شَكَّ عَوْفٌ فَقَالَ:" ارْتَحِلُوا" فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ عَوْفٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور انہوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہم نے اس کی شکایت کی جو ہمیں پہنچی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں ہے“ (عوف کو شک ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے الفاظ بولے ہیں یا ضرر کے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سوار ہوئے اور چل پڑے لیکن تھوڑی دور چلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور پانی منگوایا، لوگوں کو نماز کے لیے پکارا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ فِي سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى اسْتَعْلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سو گئے، حتی کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظار کیا یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1899
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ثنا أَبِي ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" سَرَيْنَا لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِيهِ: فَأَمَرُ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، پھر انہوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 1/450»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ