السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1513. -- باب
-- باب
حدیث نمبر: 7221
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ".
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ } [سورۃ بینہ ٥]
(٧٢٢١) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیادی پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے: 1 اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، 2 نماز قائم کرنا 3 زکوۃ ادا کرنا اور 4 حج بیت اللہ کرنا اور 5۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7221]
(٧٢٢١) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیادی پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے: 1 اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، 2 نماز قائم کرنا 3 زکوۃ ادا کرنا اور 4 حج بیت اللہ کرنا اور 5۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7221]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1514. -- باب: ما ورد من الوعيد فيمن كنز مال زكاة ولم يؤد زكاته
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ وعید کا بیان جس نے زکوٰۃ کے مال کو خزانہ بنا کر رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی
حدیث نمبر: 7222
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
(٧٢٢٢) محمد بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور پوری حدیث اسی طرح بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الرَّازِيُّ بِبُخَارَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ}" ⦗١٣٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْقُوفًا وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا.
(٧٢٢٣) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے مال کو بڑے اژدھے کی مانند بنایا جائے گا۔ جس کے دو ہونٹ ہوں گے تو وہ اس کا طوق بن جائے گا۔ پھر وہ اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: { لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونُ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ } کہ نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال میں جو اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے۔ وہ ان کے لیے بہتر ہے، نہیں بلکہ وہ تو ان کے لیے شر ہے۔ عنقریب وہ بخل کی وجہ سے قیامت کے دن گلے میں طوق پہنچائے جائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7223]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7224
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ جَامِعَ بْنَ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَعْيَنَ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوَّقَهُ فِي عُنُقِهِ" ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ}.
(٧٢٢٤) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اس کے مال کو قیامت کے دن چتکبرے سانپ کی شکل دی جائے گی، مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، یہاں تک کہ وہ اس کی گردن کا طوق بن جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر یہ آیت پڑھی { سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ } [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7224]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7225
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْأُمَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحُ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" أَوْ قَالَ" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ" الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا يُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ يُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرًا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ ⦗١٣٨⦘ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِئَاءً لِلنَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ" قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا" فَذَكَرَهُ ثُمَّ ذَكَرَ الْإِبِلَ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ.
(٧٢٢٥) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خزانے والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پلیٹوں کی مانند بنایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ نہ کردیں، اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے صاف میدان میں لٹایا جائے گا اور اس کے زکوۃ نہ ادا کیے ہوئے اونٹوں کو اس پر سے گذارا جائے گا۔ جب آخری گزر جائے گا تو دوبارہ پھر پہلے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ نہ کردیں گے۔ اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی میں پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو بکریوں والا ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو بکریاں اسے اپنے پاؤں سے روندیں گی اور سینگ ماریں گی۔ ان میں کوئی بغیر سینگوں کے نہیں ہوگی اور نہ کوئی لنگڑی ہوگی، جب اس پر سے آخری گزرے گی تو پہلی کو لایا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کردیں اس دن جس کی مقدار تمہارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی، پھر اسے اس کا جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سھیل کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے کا تذکر کیا یا نہیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک بھلائی اللہ نے قیامت کے دن تکخیرو برکت باندھی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں باندھی گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑا تین طرح کا ہے، یہ مالک کے لیے باعثِ اجر ہے اور باعثِ ستر (پردہ) اور باعثِ بوجھ ہوگا۔ سو وہ جو باعثِ اجر ہوگا وہ ہوگا جسے آدمی اللہ کی راہ میں وقف کر دے گا اور اسی کے لیے تیار کرے گا تو پھر اس کے پیٹ میں کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھیں گے۔ اگر اس نے اسے چرا گاہ میں چرایا اور اس نے جو کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھ دیں گے یا اس نے اسے نہر سے پلایا تو اس کے لیے ہر قطرے کے عوض جو اس کے پیٹ میں اترا اس کا بھی اجر ہوگا، یہاں تک کہ فرمایا: اس کے بول وبراز (گوبر) میں بھی اجر ہے اور اگر وہ ایک دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم کے بدلے اسے اجر ہوگا، لیکن وہ جو اس کے لیے پردہ (ڈھال) ہوگا وہ یہ ہے جسے انسان خوبصورتی اور عظمت کے لیے رکھتا ہے، مگر وہ اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تنگی و آسانی میں، لیکن وہ جو اس کے لیے بوجھ ہوگا وہ یہ ہے جسے اس نے غرور وتکبر اور ریا و دکھلا وے کے لیے رکھا وہ یہ ہے جو اس کے لیے بوجھ ہوگا۔ انھوں نے کہا: پھر گدھے کے بارے میں کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ پر کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس جامع آیت کے { مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ }۔
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7225]
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7225]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7226
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" لَاوِي الصَّدَقَةِ مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ.
(٧٢٢٦) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صدقہ دے کر واپس لینے والا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے قیامت کے دن ملعون ٹھہرایا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7226]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7227
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَفَقِيرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ يُعْطِ حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَجُورٌ".
(٧٢٢٧) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین قسم کے لوگ جو سب سے پہلے جنت اور جہنم میں داخل کئے جائیں گے، انھیں جنت میں میرے رو برو پیش کیا جائے گا سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں سے شہید ہوگا اور دوسرا وہ ہوگا جس نے حقوق اللہ ادا کیے ہوں گے اور اپنے مالک کی خیر خواہی کی ہوگی اور تیسرا عیال دار فقیر ہوگا جو سوال کرنے سے بچتا رہا ہوگا اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں ایسا بادشاہ جو لوگوں پر مسلط ہوا ہوگا۔ اور ایسا مال دار آدمی جس نے مال کا حق (زکوۃ) ادا نہ کی ہوگی اور فخر کرنے والا فقیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7227]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: {الْمَاعُونُ} [الماعون: ٧] قَالَ:" الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ" وَهَذَا الْقَوْلُ أَيْضًا رُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي الْعَالِيَةِ وَالْحَسَنِ وَمُجَاهِدٍ.
(٧٢٢٨) حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (الماعون) کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد فرض زکوۃ ہے اور اسی طرح یہ قول ابن عمر اور انس بن مالک سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7228]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الطبري»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
1515. -- باب: تفسير الكنز الذي ورد الوعيد فيه
-- باب: اس خزانے کی تفسیر کا بیان جس کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے
حدیث نمبر: 7229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ⦗١٣٩⦘ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ نَمْشِي فَلَحِقَنَا أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْكَ فَدُلِلْتُ عَلَيْكَ فَأَخْبِرْنِي أَتَرِثُ الْعَمَّةُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَا أَدْرِي" فَقَالَ: أَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَلَا تَدْرِي وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنْتَ لَا تَدْرِي وَلَا نَدْرِي قَالَ:" نَعَمْ، اذْهَبْ إِلَى الْعُلَمَاءِ بِالْمَدِينَةِ فَسَلْهُمْ" فَلَمَّا أَدْبَرَ قَبَّلَ ابْنُ عُمَرَ يَدَيْهِ قَالَ: نِعِمَّا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَدْرِي فَقَالَ لَا أَدْرِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ} [التوبة: ٣٤] فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" مَنْ كَنَزَهُمَا وَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُمَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ جَعَلَهَا اللهُ طُهْرَةً لِلْأَمْوَالِ" ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ:" مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا فَقَالَ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ وَأَعَادَهُ فِي التَّفْسِيرِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ.
(٧٢٢٩) خالد بن اسلم فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ایک اعرابی ملا، اس نے کہا: آپ عبداللہ بن عمر ہیں؟ میں نے کہا: ہاں اس نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور آپ کی طرف ہی میری رہنمائی کی گئی ہے، آپ مجھے بتائیے: کیا پھوپھی وارث ہوتی ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا تو اس نے کہا: آپ ابن عمر ہیں اور یہ نہیں جانتے، اس نے دوسری مرتبہ کہا: آپ بھی نہیں جانتے اور ہم بھی نہیں جانتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں آپ علمائِ مدینہ کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں، جب وہ پلٹا تو ابن عمر نے اس کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ابو عبد الرحمن نے ٹھیک کہا ہے کہ وہ بات پوچھی جا رہی ہے جو وہ جانتا نہیں تو میں نہیں جانتا تو اعرابی نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے اسے جمع کیا اور اس میں سے زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے لیے ہلاکت ہے۔ بیشک یہ زکوۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا، جب زکوۃ کا حکم نازل ہوا تو اسے اللہ تعالیٰ نے مال کی پاکیزگی کا باعث بنادیا۔ پھر میری طرف دیکھا تو فرمایا: مجھے کوئی پروا نہیں اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی ہو میں اس کی مقدار کو جانتا ہوں تو اسے پاک کرتا رہوں گا اور اس میں اللہ کے حکم کے تحت عمل کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7230
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كُلُّ مَالٍ أَدَّيْتَ زَكَاتَهُ وَإِنْ كَانَ تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِينَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ، وَكُلُّ مَالٍ لَا تُؤَدِّي زَكَاتَهُ فَهُوَ كَنْزٌ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نَافِعٍ وَجَمَاعَةٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ رَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(٧٢٣٠) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ تمام قسم کا مال جس کی زکوۃ ادا کی جائے اگرچہ وہ ساتوں زمینوں کے نیچے بھی ہو وہ ”کنز“ نہیں ہے اور ہر وہ مال جس کی زکوۃ ادا نہ کی جائے، وہ کنز ہے اگرچہ وہ زمین کے اوپر ٹھہرا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7230]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبري»
الحكم على الحديث: صحيح