🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1518. -- باب: كيف فرض الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7251
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ:" إِنَّ هَذَا كِتَابُ الصَّدَقَاتِ فِيهِ فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ ثَلَاثُ شِيَاهٍ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَتْ رِقَةُ أَحَدِهِمْ خَمْسَ أَوَاقٍ" هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّتِي كَانَ يَأْخُذُ عَلَيْهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(٧٢٥١) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ زکوۃ کے نصاب کی تحریر ہے: چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ پر ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ پینتیس تک میں بنت مخاص ہے۔ اگر بنت مخاص نہ ہو تو مذکر ابن لبون ہے اور اس سے اوپر پنتالیس تک بنت لبون مونث ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ساٹھ تک ’ حقہ ‘ ہے، جو سانڈ کو قبول کرے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو پچھتر تک جذعہ ہے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو 120 تک دو حقے ہیں جو سانڈ کو قبول کرنے والیاں اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ ہے اور چرنے والی بکریاں جب 40 چالیس سے ایک سو بیس تک پہنچیں تو ان میں سے ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں اور زیادہ ہوں تو تین سو میں تین بکریاں اور جو اس سے زیادہ ہوں گی تو ہر سو میں ایک بکری اور زکوۃ میں بوڑھی بھینگی اور سانڈ نہیں نکالا جائے گا مگر یہ کہ عامل خود لینا چاہے اور جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے اور جو شراکت دار ہیں وہ برابر میں تقسیم کریں گے اور چاندی میں چوتھائی عشر ہے، جب تم میں سے کسی کے پاس چاندی پانچ اوقیہ تک پہنچ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7251]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الشافعي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7252
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً ⦗١٤٨⦘ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةٍ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمِائَةَ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِّمَتِ الشَّاءُ أَثْلَاثًا ثُلُثًا شِرَارًا وَثُلُثًا خِيَارًا وَثُلُثًا وَسَطًا فَيَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ.
(٧٢٥٢) سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصاب ِزکوۃ تحریر کیا، وہ ابھی عمال کی طرف روانہ نہیں کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی فوت ہوگئے تھے تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار کے ساتھ باندھ دیا گیا، پھر اسے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نافذ کیا یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے۔ وہ یہ تھا کہ پانچ اونٹوں میں ایک بکری اور دس اونٹوں میں دو بکریاں، پندرہ اونٹوں میں تین اور بیس میں چار بکریاں ہیں اور پچیس اونٹوں میں بنت مخاص (ایک سالہ) پینتیس تک ہے۔ جب اس سے زیادہ ہوجائیں تو پھر پینتالیس تک بنت لبون ہے۔ پھر اگر زیادہ ہوجائیں تو ساٹھ تک حقہ ہے۔ پھر اس سے زیادہ ہوں تو پچھتر تک جذعہ ہے۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اگر اس سے زائد ہوجائیں تو ایک سو بیس تک دو حقے (تین سالہ) ہیں۔ پھر اگر اونٹ اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہے اور چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے ایک سو بیس تک۔ سو جب زیادہ ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور جب بکریاں اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہے، جب تک اس کی تعداد سو تک نہ ہوجائے اس میں کوئی بکری نہیں اور اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا نہ کیا جائے زکوۃ کے خوف سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابر تقسیم کریں گے اور زکوۃ میں بوڑھی بکری اور عیب والی نہ لی جائے۔
زہری فرماتے ہیں کہ ان کے تین حصے کیے جائیں: عمدہ ‘ درمیانہ ‘ کم تر اور درمیانے میں سے زکوۃ وصول کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أحمد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7253
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ قَالَ: وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ صَدُوقٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَقَدْ وَافَقَ سُفْيَانَ بْنَ حُسَيْنٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ حَدِيثَ الصَّدَقَاتِ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ كَذَلِكَ، قَالَ: وَقَدْ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ جَمَاعَةٌ فَأَوْقَفُوهُ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(٧٢٥٣) سفیان بن حسین اسی سند اور معنی کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ اگر بنت مخاص نہ ہو تو ابن لبون (مذکر) اس کی جگہ لیا جائے اور انھوں نے زہری کی بات کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7253]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7254
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصَّدَقَةِ فَوَجَدْتُ فِيهِ:" فِي خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا لَمْ تَكُنِ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَحِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَجَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَحِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَوَجَدْتُ فِيهِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ ثُمَّ فِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يَجُوزُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ".
(٧٢٥٤) سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، فرماتے ہیں کہ مجھے سالم رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے پہلے زکوۃ کے بارے میں، لکھی تھی ‘ میں نے اس میں دیکھا لکھا ہوا تھا کہ پانچ اونٹوں میں ایک بکری اور دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین اور بیس میں چار اور پچیس میں بنت مخاض ہے پینتیس تک۔ جب بنت مخاض نہ ہو تو اس کے عوض ابن لبون ہوگا۔ جب چھتیس ہوں تو پینتالیس تک بنت لبون ہوگی۔ جب چھیالیس ہوں تو ساٹھ تک حقہ ہوگی۔ جب وہ اکسٹھ ہوجائیں تو پچھتر تک جذعہ ہوگا اور جب چھہتر ہوں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں اور جب اکانوے ہوجائیں تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں۔ پھر ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہے اور اس میں میں نے یہ بھی پایا کہ چالیس بکریوں میں ایک سو بیس تک ایک بکری ہے جب اس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں۔ جب اس سے زیادہ ہوں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ پھر ہر سو میں ایک بکری ہوگی، میں نے اس میں یہ بھی پایا کہ اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ میں نے اس میں یہ بھیپایا کہ زکوۃ میں سانڈ بوڑھی اور عیب والی بکری دینا جائز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7254]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7255
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ رُفِعَ رَسُولُكُمْ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللهِ وَمَا كَتَبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ مَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَكَانَ سَيْحًا أَوْ كَانَ بَعْلًا فَفِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرِّشَاءِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةُ شَاةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تُوجَدِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ⦗١٥٠⦘ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى التِّسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَمَا زَادَ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً تَبِيعُ جِذْعٍ أَوْ جَذَعَةٍ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةُ شَاةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِفُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ وَلَا مَزْرَعَةٍ وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا مِنَ الْعُشْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ". قَالَ يَحْيَى: أَفْضَلُ، ثُمَّ قَالَ كَانَ فِي الْكِتَابِ:" إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِشْرَاكٌ بِاللهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلَ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى يُبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ شَيْءٌ وَلَا يَحْتَبِيَنَّ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَاقِصٌ شَعْرَهُ" وَكَانَ فِي الْكِتَابِ:" إِنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِيُ الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الذِّكْرِ الدِّيَةُ وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الْأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ"⦗١٥١⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ الصَّدَقَاتِ هَذَا الَّذِي يَرْوِيهِ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَصَحِيحٌ هُوَ فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا. قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ وَقَدْ حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِحَدِيثِ الصَّدَقَاتِ فَقَالَ: قَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مُسْنَدِهِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَقَدْ رَوَى عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مِنَ الشَّامِيِّينَ، وَأَمَّا حَدِيثُ الصَّدَقَاتِ فَلَهُ أَصْلٌ فِي بَعْضِ مَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأُفْسِدَ إِسْنَادُهُ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ مُجَوَّدُ الْإِسْنَادِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَثْنَى عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ هَذَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ وَرَأَوْا هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ فِي الصَّدَقَةِ مَوْصُولَ الْإِسْنَادِ حَسَنًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٧٢٥٥) ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمن کی طرف فرائض، سنن اور دیات کی تحریر لکھی اور عمرو بن حزم کو ساتھ روانہ کیا۔ جس نے اہل یمن کو وہ تحریر سنائی۔ وہ یہ تھی کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف اور یہ رعین ‘ معاف اور ہمدان والوں کے لیے فریضہ ہے۔ مجھے تمہارے رسول نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور تم کو غنائم میں سے اللہ کا خمس ادا کیا ہے۔ اور جو اللہ نے اہل ایمن پر عشر مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بارانی زمین میں جس کو آسمان بلاتا ہے چاہے وہ نخلستان ہو یازرعی پیداوار، ان میں عشر ہے جب وہ پانچ وسق ہوجائیں اور جو نہروں اور کنوؤں سے پلائی جائے تو اس میں نصف عشر ہوگا۔ جب اس کا وزن پانچ وسق (٢٠ من) ہو اور چرنے والے پانچ اونٹوں میں ایک بکری جب تک وہ چوبیس ہوجائیں۔ جب چوبیس سے ایک زیادہ ہوجائے تو اس میں بنت مخاص ہے۔ اگر بنت مخاض میسر نہ ہو تو پھر ابن لبون (دو سالہ مذکر) ہے۔ جب تک ان کی تعداد پینتیس نہ ہوجائے اگر پینتیس سے ایک زائد ہوجائے تو پینتالیس تک بنت لبون ہے اور جب ایک زیادہ ہوجائے تو ساٹھ تک حقہ ہے اور اگر ساٹھ سے ایک زائد ہوجائے تو پچھتر تک جذعہ ہے اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں اور جب نوے سے ایک زائد ہو تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں سانڈ کو اٹھانے والے پھر جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر چالیس میں بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ ہے جو اونٹ کو قبول کرے اور تیس گائے میں (تبیع) ایک سالہ بچھڑایا پچھیا ہے اور چالیس گائے میں ایک گائے ہے اور چالیس چرنے والی بکریوں میں ایک سو بیس تک ایک بکری ہے۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور اس سے زیادہ ہوں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوۃ میں بوڑھی بکری، عیب والی، اور سانڈ نہ ہو اور جدا جدا کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکوۃ کے خوف سے اور جو شراکت داروں سے لیا جائے وہ اسے اپنے میں برابر برابر تقسیم کریں گے اور ہر پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں اور جو زیادہ ہوں تو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور پانچ اوقیہ سے کم میں کچھ بھی نہیں اور ہر چالیس دینار میں ایک دینار ہے اور یقین جانو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں بیشک یہ زکوۃ ہے جو لوگوں کی پاکیزگی کے لیے ہیں اور محتاج مؤمنین کے لیے اللہ کی راہ ہے۔ غلام کھیتی اور عمال میں کوئی حرج نہیں، جب ان کا صدقہ عشر ادا کیا جائے اور یہ زکوۃ علم غلام میں بھی نہیں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں ہے۔
پھر انھوں نے کہا کہ اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کبیرہ گناہوں میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے اور ناحق مومنہ جان کا قتل کرنا ہے، جہاد کرتے ہوئے میدانِ جنگ سے بھاگنا ہے اور والدین کی نافرمانی ہے اور پاک دامن پر تہمت لگانا ہے اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے۔ بیشک عمرہ وہ حجِ اصغر ہے اور قرآن کو بغیر طہارت ہاتھ نہ لگایا جائے اور ملکیت میں آئے بغیر چھوڑنا (طلاق) نہیں ہے اور خریدنے کے بغیر آزادی نہیں اور تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اس حال میں کہ اس کے کندھوں پر کپڑا نہ ہو اور نہ گوٹھ مارے کوئی کپڑے میں اس حال میں کہ اس کی شرمگاہ پر کپڑا نہ ہو، آسمان کے درمیان اور نہ نماز پڑھے تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس حال میں کہ اس کی ایک طرف کھلی ہو اور نہ نماز پڑھے کوئی تم میں سے اس حال میں کہ وہ اپنے بالوں کو سمیٹنے والا ہو۔ اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ جس نے کسی سچے مومن کو بلا وجہ قتل کیا تو وہ جہنم کا ایندھن ہے، مگر اس صورت میں کہ مقتول کے ورثا کو خوش کرے اور بیشک ایک نفس کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں جسے کاٹ کر عیب دار کیا گیا دیت ہے اور زبان میں بھی دیت ہے، ہونٹوں میں بھی دیت ہے اور خصیوں میں بھی دیت ہے اور ذکر (شرمگاہ) میں بھی دیت ہے اور پیٹھ میں بھی دیت، ہے آنکھوں میں بھی دیت ہے ایک ٹانگ میں آدھی دیت ہے، گردن پر مارنے کی تہائی دیت ہے اور پیٹ میں زخم کی تہائی دیت ہے اور (گلے) میں پندرہ اونٹ ہیں، ہاتھ یا پاؤں کی ایک انگی کے دس اونٹ ہیں اور دانت کی دیت پانچ اونٹ اور چہرے کے بھی پانچ اونٹ ہیں اور عورت کی دیت میں مرد کو قتل کیا جائے گا اور سونے والوں پر ہزار دینار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه النسائي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7256
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَشَّاطُ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى بْنِ ضُرَيْسٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ كِتَابٍ وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّدَقَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرِّقَةِ وَفِيهِ" بَيْنَ الْفَرِيضَتَيْنِ عِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَانِ قِيمَتُهُمَا عَشَرَةُ دَرَاهِمَ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ" هَذَا حَدِيثُ أَبِي نَصْرٍ وَفِي رِوَايَةِ الْمَشَّاطِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهَذَا أَشْبَهُ فَإِنَّهُ الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ هِيَ الَّتِي ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ رُوِّينَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ. وَرُوِّينَاهُ عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ مَوْصُولًا وَمُرْسَلًا وَمِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ مَوْصُولًا، وَجَمِيعُ ذَلِكَ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(٧٢٥٦) انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی تحریر کی مانند جو عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کے قیام میں زکوۃ کے بارے میں پایا گیا اس میں چاندی کی زکوۃ تک تھا اور اس میں ہے کہ دو فریضوں میں بیس درہم یا دو بکریاں ہیں جو دس دس درہم کی ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1519. -- باب: إبانة قوله وفي كل أربعين ابنة لبون وفي كل خمسين حقة
-- باب: آپ ﷺ کے فرمان ”اور ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) اور ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سالہ اونٹنی) ہے“ کی وضاحت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7257
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أَسْمَاءَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَمَرَ الْوَلِيدُ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامٌ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامَلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِمَا فِيهَا وَلَا يَتَعَدُّونَهَا، وَهَذَا كِتَابٌ تَفْسِيرُهُ:" لَا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أِيَّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ عَلَى ذَلِكَ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ⦗١٥٤⦘ وَلَا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ".
(٧٢٥٧) ابن شہاب فرماتے ہیں: یہ نسخہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر ہے جس پر تمام امراء نے عمل کروایا، وہ یہ ہے کہ جب تک اونٹ پانچ کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں ان میں زکوۃ نہیں۔ جب وہ پانچ ہوجائیں تو ان میں ایک بکری ہے دس تک۔ پھر دس سے 15 تک 3 بکریاں اور پندرہ سے بیس تک چالس بکریاں کہ وہ پچیس تک پہنچ جائیں اور پچیس میں فریضہ ایک بنت مخاض ہے پنتیس تک پھر اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون مذکر ہے اور جب ان کی تعداد چھتیس ہوجائے تو اس میں بنت لبون ہے پینتالیس تک اور جب چھیالیس ہوجائیں تو اس میں ساٹھ تک حقہ ہے سانڈ قبول کرنے والی اور ساٹھ سے پچھتر تک جذعہ ہے اور پچھتر سے نوے تک دو بنت لبون ہیں اور اکانوے سے ایک سو بیس تک دو حقے ہیں سانڈ قبول کرنے والے۔ جب ایک سو اکیس ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں ایک سو انتیس تک جب ایک سو تیس ہوجائیں تو اس میں ایک سو انتالیس تک ایک حقہ اور دو بنت لبون ہیں۔ جب ایک سو چالیس ہوجائیں تو ایک سو پچاس تک دو حقے اور ایک بنت لبون ہے۔ جب ایک سو پچاس ہوجائیں تو انسٹھ تک تین حقے ہیں اور جب ایک سو ساٹھ ہوجائیں تو اس میں چار بنت لبون ہیں ایک سو انہتر تک اور جب ایک سو ستر ہوجائیں تو اس میں ایک حقہ اور تین بنت لبون ہیں، ایک سو اناسی تک اور جب ایک سو اسی ہوجائیں تو ان میں دو حقے اور دو بنت لبون ہیں ایک سوانانوے تک۔ جب وہ ایک سونوے ہوجائیں تو اس میں تین حقے اور ایک بنت لبون ہے ایک سو ننانوے تک اور جب وہ سو ہوجائیں تو اس میں چار حقے اور پانچ بنت لبون ہیں۔ سال میں یہ تعداد جب بھی پائی جائے تو یہی زکوۃ لی جائے گی جو ہم نے اس تحریر میں لکھ دی۔ پھر اونٹوں کی زکوۃ اسی اعتبار سے لی جائے گی۔ جو ہم نے اس میں تحریر کیا اور بکریوں کی زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی جب تک وہ چالیس نہ ہوجائیں۔ جب چالیس ہوجائیں تو اس میں ایک بکری ہے ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو اکیس ہوجائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں دو سو تک اور جب دو سو ایک ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو چار سو تک چار بکریاں ہیں، پانچ سو تک۔ پھر اس میں پانچ بکریاں ہیں چھ سو تک اور جب چھ سو مکمل ہوجائیں تو اس میں چھ بکریاں ہیں سات سو تک اور سات سو ہوجائیں تو اس میں سات بکریاں ہیں آٹھ سو تک اور جب آٹھ سو ہوجائیں تو نو سو تک آٹھ بکریاں ہیں اور نو سو سے ہزار تک نوبکریاں ہیں اور جب ہزار ہو ہوجائیں تو اس میں دس بکریاں ہیں پھر ہر سو میں ایک بکری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7257]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7258
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَرِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي أَبَا الرِّجَالِ، قَالَ:" لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ وَكِتَابَ عُمَرَ فَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ كِتَابَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّدَقَاتِ مِثْلَ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسِخَا لَهُ فَحَدَّثَنِي عَمْرٌو أَنَّهُ طَلَبَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ يَنْسَخَ لَهُ مَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَنُسِخَ لَهُ فَذَكَرَ صَدَقَةَ الْإِبِلِ مِنْ خَمْسٍ إِلَى مِائَتَيْنِ كَمَا مَضَى فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ وَزَادَ فَقَالَ:" فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ وَعَشْرًا فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتَا لَبُونٍ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي ذِكْرِ فَرِيضَتِهَا كُلَّمَا زَادَتْ عَشْرًا حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، قَالَ:" فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثَمِائَةٍ فَفِيهَا سِتُّ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ ⦗١٥٥⦘ لَبُونٍ وَحِقَّتَانِ فَمِنْ أِيِّ هَذَيْنِ السِّنِينَ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ الْمُصَدِّقُ أَخَذَ، فَإِذَا زَادَ الْإِبِلُ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَلَا يَأْخُذُ مِمَّا دُونَ الْعَشْرِ شَيْئًا".
(٧٢٥٨) عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ مجھے ابو رجال محمد بن عبد الرحمن نے بیان فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو انھوں نے زکوۃ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مشابہ خط مدینہ کی طرف ارسال فرمایا، پھر آلِ عمرو بن حزم کے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارسال کردہ خط ملا اور آلِ عمر کے ہاں سے بھی۔ ان دونوں کو ان کے لیے لکھا گیا پھر انھوں نے محمد بن عبدالرحمن کو بلایا تو انھوں نے ان کے لیے خط لکھا۔ اس میں یہ ہے کہ اونٹوں کی زکوۃ پانچ سے دو سو تک ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے۔ اور یہ اضافی الفاظ بیان کیے۔ جب دو سو دس تک پہنچ جائیں تو ان میں چار بنت لبون اور ایک حقہ ہے دو سو بیس تک اور جب وہ دو سو بیس ہوجائیں تو دو سو تیس تک تین بنت لبون اور دو حقے ہیں۔ جب دو سوتیس ہوجائیں تو دو سو چالیس تک تین حقے اور دو بنت لبون ہیں۔ پھر انھوں نے پوری حدیث بیان اور فریضہ زکوۃ کا بھی تذکرہ کیا۔ جب اس سے زیادہ ہوجائیں اور تین سو تک پہنچ جائیں تو ان میں چھ حقے یا پانچ بنت لبون ہیں اور دو حقے اور ان دونوں میں سے جس عمر کے چاہے مصدق لے لے اور جب اونٹ تین سو سے زائد ہوجائیں تو پھر ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہے اور دس سے کم میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7258]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطحاوي»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَحَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ فَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ، وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كِتَابَ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا" فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ مَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لَا يَبْلُغُ الْعَشَرَةَ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْعَشَرَةَ".
(٧٢٥٩) عمر بن عبد العزیز جب خلیفہ بنے تو مدینہ میں پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کا زکوۃ والا خط تلاش کیا جائے تو وہ آل عمرو بن حزم سے ملا اور آل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف بھیجا تھا، یہ ویسا ہی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم کی طرف لکھا تھا تو عمر بن عبد العزیز نے کہا: ان دونوں نسخوں سے فریضہ زکوۃ مقرر کیا جائے اس میں اونٹوں کی زکوۃ اس طرح تھی۔ جب نوے سے زائد ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں۔ جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک سو انتیس ہوجائیں اور جب اونٹ اس سے زیادہ ہوجائیں تو ایسے ہی ہے اور جب تک دس اونٹ نہ ہوجائیں اس میں کوئی زکوۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7259]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1520. -- باب: ذكر رواية عاصم بن ضمرة عن علي، رضي الله عنه بخلاف ما مضى في خمس وعشرين من الإبل وفيما زاد على مائة وعشرين من الإبل، وبيان ضعف تلك الرواية ورواية حماد بن سلمة عن قيس بن سعد
-- باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7260
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ خَمْسٌ يَعْنِي شِيَاهٍ".
(٧٢٦٠) عاصم بن مرۃ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں میں پانچ ہیں، یعنی بکریاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7260]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو اسحاق مدلس»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں