السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1520. -- باب: ذكر رواية عاصم بن ضمرة عن علي، رضي الله عنه بخلاف ما مضى في خمس وعشرين من الإبل وفيما زاد على مائة وعشرين من الإبل، وبيان ضعف تلك الرواية ورواية حماد بن سلمة عن قيس بن سعد
-- باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7271
أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثنا عَفَّانُ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: اسْتَعَارَ مِنِّي حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ كِتَابَ قَيْسٍ فَذَهَبَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ ضَاعَ.
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجاج احول نے وہ تحریر مجھ سے عاریۃً لی تھی اور اسے مکہ لے گئے، پھر کہہ دیا کہ وہ ضائع ہوگئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7271]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حماد بن سلمه»
الحكم على الحديث: صحيح
1521. -- باب: تفسير أسنان الإبل
-- باب: اونٹوں کی عمروں کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 7272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: سَمِعْتُهُ مِنَ الرِّيَاشِيِّ، وَأَبِي حَاتِمٍ وَغَيْرِهِمَا وَمِنْ كِتَابِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ وَمِنْ كِتَابِ أَبِي عُبَيْدٍ وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَحَدُهُمُ الْكَلِمَةَ قَالُوا: يُسَمَّى الْحُوَارَ، ثُمَّ الْفَصِيلَ إِذَا فَصَلَ، ثُمَّ تَكُونُ بِنْتَ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ إِلَى تَمَامِ سَنَتَيْنِ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي الثَّالِثَةِ فَهِيَ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِذَا تَمَّتْ لَهَا ⦗١٦٠⦘ ثَلَاثُ سِنِينَ فَهِيَ حِقَّةٌ إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ؛ لِأَنَّهَا اسْتَحَقَّتْ أَنْ تُرْكَبَ وَيُحْمَلَ عَلَيْهَا الْفَحْلُ، وَهِيَ تُلَقَّحُ وَلَا يُلَقِّحُ الذَّكَرُ حَتَّى يُثَنِّيَ، وَيُقَالُ لِلْحِقَّةِ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ؛ لِأَنَّ الْفَحْلَ يَطْرُقُهَا إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ فَإِذَا طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ فَهِيَ جَذَعَةٌ حَتَّى يَتِمَّ لَهَا خَمْسُ سِنِينَ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ حِينَئِذٍ ثَنِيٌّ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ سِتًّا، فَإِذَا طَعَنَ فِي السَّابِعَةِ سُمِّيَ الذَّكَرُ رَبَاعِيًا وَالْأُنْثَى رَبَاعِيَةً إِلَى تَمَامِ السَّابِعَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ أَلْقَى السِّنَّ السَّدِيسَ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ إِلَى تَمَامِ الثَّامِنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التِّسْعِ فَاطَّلَعَ نَابُهُ فَهُوَ بَازِلٌ بَزَلَ نَابُهُ يَعْنِي طَلَعَ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مُخْلِفٌ ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ وَلَكِنْ يُقَالُ بَازِلُ عَامٍ وَبَازِلُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ عَامٍ وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ ثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ إِلَى خَمْسِ سِنِينَ، وَالْخَلِفَةُ الْحَامِلُ وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَفْسِيرَ أَسْنَانِ الْإِبِلِ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ نَحْوَ هَذَا، وَزَادَ فَقَالَ: وَإِنَّمَا سُمِّيَ ابْنَ مَخَاضٍ يَعْنِي الذَّكَرَ مِنْهَا؛ لِأَنَّهُ فَصَلَ عَنْ أُمِّهِ وَلَحِقَتْ أُمُّهُ بِالْمَخَاضِ وَهِيَ الْحَوَامِلُ فَهُوَ ابْنُ مَخَاضٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَامِلًا، قَالَ: وَإِنَّمَا سُمِّيَ ابْنَ لَبُونٍ لِأَنَّ أُمَّهُ وَضَعَتْ غَيْرَهُ فَصَارَ لَهَا لَبَنٌ..
ابو عبید رحمہ اللہ کی تحریر کے مطابق ایک لفظ «حِوَارٌ» ”حوار“ ہے، یہ ابتدائی عمر ہے، پھر «فَصِيلٌ» ”فصیل“ ہے جب وہ دودھ چھوڑے، پھر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے یعنی ایک سال سے دو سال کی عمر تک، جب وہ تیسرے سال میں داخل ہو جائے تو وہ «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے۔ جب اس کے تین سال پورے ہو جائیں تو وہ «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہے چار سال مکمل ہونے تک؛ کیونکہ وہ مستحق ہوتی ہے کہ اس پر اونٹ چھوڑا جائے اور وہ حاملہ ہو جائے، اور وہ حاملہ ہوتی ہے، جبکہ مذکر اس وقت تک حاملہ نہیں کرتا جب تک «ثَنِيٌّ» ”ثنی“ نہ ہو جائے، اور «حِقَّةٌ» ”حقہ“ کو «طَرُوقَةُ الْفَحْلِ» ”طروقۃ الفحل“ اس لیے کہتے ہیں کہ چار سال پورے ہونے تک سانڈ اس سے جفتی کرتا ہے۔ اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہو تو یہ «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ کہلاتا ہے پانچ سال پورے ہونے تک، اور جب وہ چھٹے سال میں داخل ہوتی ہے اور سامنے والے دانت گر جاتے ہیں اس لیے چھ سال پورے ہونے تک اسے «ثَنِيٌّ» ”ثنی“ کہتے ہیں، اور جب وہ اپنی عمر کے ساتویں سال میں داخل ہو تو مذکر کو «رَبَاعٌ» ”رباع“ اور مؤنث کو «رُبَاعِيَّةٌ» ”رباعیہ“ کہتے ہیں سات سال پورے ہونے تک، اور جب وہ عمر کے آٹھویں سال میں داخل ہوتا ہے تو اپنے «سَدَسٌ» ”سدس“ دانت گرا دیتا ہے جو رباعی دانتوں کے بعد ہوتے ہیں اور وہ آٹھ سال پورے ہونے تک «سَدَسٌ» ”سدس“ اور «سَدِيسٌ» ”سدیس“ کہلاتا ہے۔ اور جب وہ نویں سال میں داخل ہوتا ہے تو اس کی داڑھیں ظاہر ہوتی ہیں تو وہ «بَازِلٌ» ”بازل“ کہلاتا ہے داڑھوں کے استعمال کی وجہ سے۔ جب وہ دسویں سال میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے «مُخْلِفٌ» ”مخلف“ کہتے ہیں، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں، لیکن اسے «بَازِلُ عَامٍ» ”بازل عام“ (ایک سالہ بازل) یا «بَازِلُ عَامَيْنِ» ”بازل عامین“ (دو سالہ بازل)، «مُخْلِفُ عَامٍ» ”مخلف عام“ (ایک سالہ مخلف) اور «مُخْلِفُ عَامَيْنِ» ”مخلف عامین“ (دو سالہ مخلف) اور تین سالہ مخلف پانچ سال تک کہا جاتا ہے اور «خَلِفَةٌ» ”خلفۃ“ سے مراد حمل اٹھانے والی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں اونٹوں کی عمر کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ نام رکھا ہے وہ مذکر کے لیے ہے کیونکہ اسے اس کی ماں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور وہ اس وجہ سے حاملہ ہو جاتی ہے تو وہ «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ کہلاتا ہے، اگرچہ وہ حاملہ نہ ہو، جو «ابْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ نام رکھا گیا ہے وہ اس لیے کہ اس کی ماں دوسرے کو جنم دیتی ہے اور وہ دودھ اس کا ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7272]
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں اونٹوں کی عمر کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ نام رکھا ہے وہ مذکر کے لیے ہے کیونکہ اسے اس کی ماں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور وہ اس وجہ سے حاملہ ہو جاتی ہے تو وہ «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ کہلاتا ہے، اگرچہ وہ حاملہ نہ ہو، جو «ابْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ نام رکھا گیا ہے وہ اس لیے کہ اس کی ماں دوسرے کو جنم دیتی ہے اور وہ دودھ اس کا ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
1522. -- باب: لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول
-- باب: کسی مال میں زکوٰۃ نہیں یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے
حدیث نمبر: 7273
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُمِّيَ آخَرُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا لِي رُبْعَ الْعُشُورِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا قَالَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ۔“ پھر پوری حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں بیان کیا کہ ”اس مال میں زکوۃ نہیں جس پر سال نہ گزر جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «حسن۔ مضي تخريجه»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7274
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَا أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ حَارِثَةَ مَرْفُوعًا. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حَارِثَةَ مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَحَارِثَةُ لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ، وَالِاعْتِمَادُ فِي ذَلِكَ عَلَى الْآثَارِ الصَّحِيحَةِ فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کسی مال میں زکوۃ نہیں جب تک پورا سال نہ گزر جائے۔“
ابومعاویہ، ہریم بن سفیان اور ابوکدینہ نے بھی اسے حارثہ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، جبکہ ثوری نے اسے حارثہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ حارثہ کی روایت قابلِ حجت نہیں، اس مسئلے میں اعتماد ان صحیح آثار پر ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7274]
ابومعاویہ، ہریم بن سفیان اور ابوکدینہ نے بھی اسے حارثہ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، جبکہ ثوری نے اسے حارثہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ حارثہ کی روایت قابلِ حجت نہیں، اس مسئلے میں اعتماد ان صحیح آثار پر ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7274]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
1523. -- باب: لا يأخذ الساعي فيما يأخذ مريضا، ولا معيبا، وفي الإبل عدد الفرض صحيح
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا وصولی میں نہ بیمار جانور لے گا اور نہ ہی عیب دار، بشرطیکہ اونٹوں میں فرض زکوٰۃ کی تعداد صحیح سالم موجود ہو
حدیث نمبر: Q7275
قَدْ رُوِّينَا فِي أَحَادِيثِ الصَّدَقَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَاتِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ"، وَفِي بَعْضِهَا:" وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ"..
ہمیں صدقات (زکوٰۃ) کی احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت پہنچی ہے کہ: ”اور زکوٰۃ میں کوئی انتہائی بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی کانا (یا عیب دار) جانور۔“
اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ ہی کوئی عیب والا جانور (لیا جائے گا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7275]
اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ ہی کوئی عیب والا جانور (لیا جائے گا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7275]
حدیث نمبر: 7275
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ. أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ عَبَدَ اللهَ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ فِي كُلِّ عَامٍ، وَلَمْ يُعْطِ الْهَرِمَةَ وَلَا الدَّرِنَةَ وَلَا الشَّرَطَ اللَّائِمَةَ وَلَا الْمَرِيضَةَ وَلَكِنْ مِنَ أَوْسَطِ أَمْوَالِكُمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ، وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ، وَزَكَّى عَبْدٌ نَفْسَهُ" فَقَالَ رَجُلٌ: مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" يَعْلَمُ أَنَّ اللهَ مَعَهُ حَيْثُ مَا كَانَ". وَقَالَ غَيْرُهُ:" وَلَا الشَّرَطَ اللَّئِيمَةَ".
سیدنا عبداللہ بن معاویہ غاضری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین کام کیے اس نے ایمان کی چاشنی چکھ لی: جس نے صرف ایک اللہ کی عبادت کی یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، دوسرا اپنے مال کی زکات ہر سال طیبِ نفس سے ادا کی اور زکات میں بوڑھا، گھٹیا اور ملامت والا اور بیمار (جانور نہیں دیا) بلکہ اپنے درمیانے مال میں سے ادا کی۔ اللہ تعالیٰ تم سے عمدہ کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی بری چیز کا حکم دیتا ہے اور (تیسرا) بندہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے۔“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تزکیہ نفس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یقین رکھے کہ اللہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7275]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
1524. -- باب: لا يأخذ الساعي فوق ما يجب ولا ماخضا إلا أن يتطوع
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا واجب مقدار سے زیادہ نہیں لے گا اور نہ ہی حاملہ اونٹنی لے گا، سوائے اس کے کہ مالک اپنی خوشی سے دے دے
حدیث نمبر: 7276
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ:" إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنَ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب انہیں یمن بھیجا: ”تم اہل کتاب کی ایک ایسی قوم کے پاس جاؤ گے، جب ان کے پاس آؤ تو انہیں دعوت دو کہ وہ یہ اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ایک دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے کہ وہ امیروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی تسلیم کر لیں تو پھر تو ان کے عمدہ اموال سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچو، کیونکہ مظلوم اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7276]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ⦗١٦٢⦘ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ فَأَمَرَهُ يُصْدِقُهُمْ قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ سَعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ يَعْنِي لِأُصْدِقَكَ قَالَ: ابْنَ أَخِي، وَأِيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ: ابْنَ أَخِي، فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا؟ فَقَالَا: شَاةٌ فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ: الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلَادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا. كَذَا قَالَ وَكِيعٌ مَحْضًا وَالصَّوَابُ مَخَاضًا، وَقَالَ: مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ وَالصَّوَابُ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ،.
مسلم بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نافع بن علقمہ نے میرے والد کو ان کی قوم کا سردار (عریف) مقرر کیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ ان سے زکوٰۃ وصول کریں۔ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے ان میں سے ایک گروہ کی طرف بھیجا، میں ایک بوڑھے بزرگ کے پاس آیا جنہیں سعر بن دیسم کہا جاتا ہے، تو میں نے کہا: میرے ابا نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ سے زکوٰۃ وصول کروں۔ انھوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم کس طرح لیتے ہو؟ تو میں نے کہا: ہم چھانٹ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ بکریوں کے تھن بھی دیکھ لیتے ہیں۔ وہ کہنے لگے: اے بھتیجے! میں تجھے حدیث بیان کرتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، تو میرے پاس دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے، انھوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں، تیری طرف (بھیجے گئے ہیں) تاکہ تو اپنی بکریوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔“ میں نے کہا: مجھ پر ان میں کیا واجب ہے؟ تو انھوں نے کہا: ”ایک بکری۔“ تو میں ایک بکری کی طرف بڑھا جس کی جگہ میں جانتا تھا، وہ دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، اسے میں نے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”یہ تو حاملہ (شافع) بکری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم حاملہ بکری لیں۔“ میں نے کہا: پھر تم کون سی لو گے؟ انھوں نے کہا: ”بکری کا ایسا بچہ جو «جَذَعَة» ہو یا «ثَنِيَّة» ۔“ فرماتے ہیں: پھر میں ایک معتاط بکری کی طرف بڑھا، معتاط وہ ہوتی ہے جس نے ابھی بچہ نہ جنا ہو اور اس کی ولادت کا وقت آ چکا ہو، تو میں نے اسے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”ہمیں پکڑا دو۔“ تو انھوں نے اسے اپنے ساتھ اپنے اونٹ پر رکھا اور چل دیے۔
وکیع نے «مَحْضًا» (خالص دودھ) کہا ہے جبکہ درست «مَخَاضًا» (حمل) ہے، اور انہوں نے مسلم بن ثفنہ کہا ہے جبکہ درست مسلم بن شعبہ ہے، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7277]
وکیع نے «مَحْضًا» (خالص دودھ) کہا ہے جبکہ درست «مَخَاضًا» (حمل) ہے، اور انہوں نے مسلم بن ثفنہ کہا ہے جبکہ درست مسلم بن شعبہ ہے، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7277]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7278
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ زَادَ فِيهِ وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا.
عمرو بن ابی سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مسلم بن شعبہ رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی اور تمام حدیث بیان کی اور یہ بھی کہ «الشَّافِعُ» ”شافع وہ ہے جو اس کے پیٹ میں بچہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7278]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَجَمَعَ لِي مَالَهُ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ مَعَهُ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنْ صَدَقَةِ مَالِي، وَايْمُ اللهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلِيِّ فِيهِ ⦗١٦٣⦘ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ وَهَا هِيَ ذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللهِ خُذْهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ"، قَالَ فَهَا هِيَ ذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: نَاقَةً فِتْيَةً عَظِيمَةً سَمِينَةً.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھیجا، میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا تو اس نے اپنا مال جمع کیا، میں نے دیکھا کہ اس پر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ واجب ہے تو میں نے اسے کہا: ”تم ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ادا کر دو، یہی تمہاری زکوۃ ہے۔“ اس نے کہا: یہ وہ جانور ہوتا ہے جس میں نہ دودھ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہوتی ہے، لیکن یہ ایک عمدہ اور جوان اونٹنی ہے، آپ اسے لے لیں۔ میں نے کہا: ”میں وہ چیز نہیں لوں گا جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی تشریف فرما ہیں، اگر تم یہ دینا چاہتے ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے پیش کر دو، جو تم نے مجھے پیش کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا تو میں بھی اسے قبول کر لوں گا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد فرما دیا تو میں بھی اسے واپس کر دوں گا۔“ اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ میرے ساتھ چل دیا اور وہ اونٹنی بھی اس کے ساتھ تھی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس آپ کا عامل میرے مال کی زکوۃ لینے کے لیے آیا، اللہ کی قسم! اس سے پہلے میرے مال میں کبھی آپ کا کوئی قاصد نہیں آیا، میں نے اپنا مال اس کے سامنے جمع کر دیا تو ان کا خیال ہے کہ میرے مال کی زکوۃ صرف ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے، اور یہ وہ جانور ہے جس میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے، تو میں نے اسے ایک عمدہ جوان اونٹنی پیش کی مگر اس نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اور وہ یہی ہے جسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ اسے قبول فرما لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تجھ پر واجب تو وہی ہے، البتہ اگر تو اپنی خوشی سے اس سے بہتر دینا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا اور ہم اسے تجھ سے قبول کر لیں گے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ یہی ہے، میں اسے آپ کی خدمت میں لایا ہوں، آپ اسے قبول فرما لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وصول کرنے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7279]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن