🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1525. -- باب: المعتدي في الصدقة كمانعها والاعتداء قد يكون من الساعي وقد يكون من رب المال
-- باب: زکوٰۃ میں زیادتی کرنے والا اسے روکنے والے کی طرح ہے، اور زیادتی کبھی زکوٰۃ وصول کرنے والے کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی مال کے مالک کی طرف سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7280
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا" قَالَ قُتَيْبَةُ: كَانَ ابْنُ لَهِيعَةَ يَقُولُ: سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: كَذَا يَقُولُهُ اللَّيْثُ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: الصَّحِيحُ عِنْدِي سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ وَسَعْدُ بْنُ سِنَانٍ خَطَأٌ، إِنَّمَا قَالَهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ مَرَّةً سِنَانٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکوٰۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوٰۃ روکنے والے کی مانند ہے۔“ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک جو درست سند ہے وہ سنان بن سعد ہے اور سعد بن سنان غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7280]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أبو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7281
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَالْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا" كَذَا قَالَ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ وَكَذَلِكَ يَقُولُهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَقَالَهُ أَيْضًا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کا ایمان نہیں جسے امانت کا پاس نہیں اور زکوٰۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا اسے روکنے والے کی مانند ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7281]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7282
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي رَجُلٍ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يُزَكِّ حَتَّى ذَهَبَ مَالُهُ قَالَ:" هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدَانُ ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ فَذَكَرَهُ.
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر زکوٰۃ واجب ہوچکی، پھر اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی حتیٰ کہ اس کا مال ختم ہوگیا: ”وہ اس پر قرض ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ نے اشعث رحمہ اللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حسن رحمہ اللہ کے واسطے سے اسے بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7282]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابي حسن العبدي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1526. -- باب: الزكاة تتلف في يدي الساعي فلا يكون على رب المال ضمانها
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والے کے ہاتھ میں زکوٰۃ کا مال ضائع ہو جائے تو مال کے مالک پر اس کا تاوان نہیں ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7283
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، ⦗١٦٤⦘ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا لَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں نے زکوٰۃ آپ کے قاصد کو دے دی، کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اس سے بری ہو گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب تو نے میرے قاصد کو ادا کر دی تو تو اس سے بری ہو گیا، تیرے لیے اس کا اجر ہو گا اور اس کا گناہ اس پر ہو گا جس نے اسے تبدیل کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7283]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1527. -- جماع أبواب صدقة البقر السائمة
-- چرنے والی گائیوں کی زکوٰۃ کے ابواب کا مجموعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7284
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُنَادِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ:" هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ". قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفَذَتْ أُخْرَهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ". لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور مجھ سے ٹھہرا نہ گیا اور میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ مال والے، مگر جس نے اپنے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا۔“ اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ کہی، پھر فرمایا: ”وہ بہت کم ہیں، کوئی اونٹوں والا، گائے والا یا بکریوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن ان (جانوروں) کو لے کر آئے گا، وہ بڑے اور موٹے ہوں گے، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے پاؤں سے روندیں گے، جب آخری (جانور) گزر جائے گا تو پہلا پلٹ آئے گا، یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7284]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7285
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللهِ تَعَالَى فِي الصَّدَقَةِ فِي إِبِلِهِ بُطِحَ لَهَا بِصَعِيدٍ قَرْقَرٍ فَوَطِئَتْهُ بِأَخْفَافِهَا وَعَضَّتْهُ بِأَفْوَاهِهَا إِذَا مَرَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا كرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَرَى مَصْدَرَهُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّةِ وَإِمَّا مِنَ النَّارِ، وَالْبَقَرُ إِذَا لَمْ يُؤَدَّ حَقُّ اللهِ تَعَالَى فِيهَا بُطِحَ لَهَا بِصَعِيدٍ قَرْقَرٍ، فَوَطِئَتْهُ بِأَظْلَافِهَا، وَنَطَحَتْهُ بِقُرُونِهَا إِذَا مَرَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا كرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَرَى مَصْدَرَهُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّةِ وَإِمَّا مِنَ النَّارِ، وَالْغَنَمُ كَذَلِكَ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَمَّاءُ حَتَّى يَرَى مَصْدَرَهُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّةِ وَإِمَّا مِنَ النَّارِ، وَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ أَجْرٌ وَوِزْرٌ وَسِتْرٌ فَمَنِ اقْتَنَاهَا تَعَفُّفًا وَتَغَنِّيًا كَانَتْ لَهُ سِتْرًا، وَمَنِ اقْتَنَاهَا عِدَّةً لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ أَجْرًا، وَإِنْ طَوَّلَ لَهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ، وَمَنِ اقْتَنَاهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً عَلَى ⦗١٦٥⦘ الْمُسْلِمِينَ كَانَتْ لَهُ وِزْرًا". قَالَ قَائِلٌ: أَرَأَيْتَ الْحُمُرَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" لَمْ يَأْتِ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ"} [الزلزلة: ٨] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زکاۃ میں اللہ کا حق ادا نہیں کرتا (اونٹوں وغیرہ کی زکاۃ نہیں دیتا) تو اس کو صاف میدان میں پھینکا جائے گا اور وہ جانور اسے اپنے پاؤں سے روندے گا اور اپنے منہ سے کاٹے گا۔ جب اس پر آخری گزرے گا تو پہلے کو لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں دیکھ لے گا اور جب گائے کی زکاۃ ادا نہ کی جائے گی، جو اللہ کا حق ہے، تو اسے صاف چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا تو گائے اپنے پاؤں سے اسے روندے گی اور اپنے سینگوں سے چھیلے گی، جب آخری گزرے گی تو پہلی کو لوٹا دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں دیکھ لے گا، ایسے ہی بکریاں بھی اپنے سینگوں اور کھروں سے اپنے مالک کو روندیں گی، ان میں سے کوئی سینگوں کے بغیر اور لنگڑی نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اپنا ٹھکانا جنت و دوزخ میں دیکھ لے گا اور گھوڑا تین طرح کا ہوگا: ایک اجر ہوگا، ایک بوجھ اور ایک پردہ ہوگا۔ جس نے اسے اپنی عزت و ضرورت کے لیے رکھا، وہ اس کے لیے پردہ ہے اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا وہ اس کے لیے اجر کا باعث ہوگا، اگر وہ اس کی رسی کو لمبا کرتا ہے وہ ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے اجر ہوگا اور جس نے فخر و ریا اور مسلمانوں پر برتری کے لیے رکھا، یہ اس کے لیے «وِزْرٌ» ”وزر (بوجھ)“ ہوگا۔“ کہنے والے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گدھے کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا سوائے اس جامع اور مکمل آیت کے ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7285]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1528. -- باب: كيف فرض صدقة البقر
-- باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7286
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ إِمْلَاءً، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَا: قَالَ مُعَاذٌ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلُهُ مَعَافِرِيٌّ".
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تاکہ ان سے ”ہر چالیس گائے میں ایک ثنیہ گائے لی جائے اور ہر تیس میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر بالغ کی طرف سے ایک دینار یا اس کے برابر رائج الوقت سکّہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7286]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7287
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ:" بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلُهُ مَعَافِرٌ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ: ”ہر تیس گائے میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا وصول کروں اور ہر چالیس میں سے مسنہ وصول کروں اور ہر بالغ غلام کی طرف سے ایک دینار یا اس کے برابر رائج الوقت سکہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7287]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7288
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدُ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7289
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الْبَقَرِ فَقَالَ: بَلَغَنِي عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ:" فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ".
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نافع سے گائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہر تیس گایوں میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7289]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں