🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1528. -- باب: كيف فرض صدقة البقر
-- باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7290
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ⦗١٦٦⦘ مُسِنَّةً، وَأَتَى بِمَا دُونَ ذَلِكَ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے تیس گایوں میں ایک بچھڑا وصول کیا اور چالیس گایوں میں سے ایک «مُسِنَّة»، اس سے کم تعداد ان کے پاس لائی گئی تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا، یہاں تک کہ میں ان سے ملوں اور ان سے پوچھ لوں، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7290]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7291
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ فَقَالَ:" لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْوَقْصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ.
عمرو بن دینار، طاؤس رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گائیوں کا «وَقْص» (دو نصابوں کے درمیان کی تعداد) لایا گیا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بارے میں کسی چیز کا حکم نہیں دیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْوَقَصُ» ”وقص“ وہ جانور ہے جو فریضہ کو نہ پہنچا ہو۔
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7291]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ثنا الْحَكَمُ فَذَكَرَهُ وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ أَجْوَدَ مِنْهُ.
حسن بن عمارہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے حکم نے یہی حدیث بیان کی۔
اس کا ایک شاہد اس سے بہتر سند کے ساتھ موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7292]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ دار قطني»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7293
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً فَقَالُوا فَالْأَوْقَاصُ؟ قَالَ: فَقَالَ: مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ عَنِ الْأَوْقَاصِ فَقَالَ:" لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ" وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَالْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ وَمَا بَيْنَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ، وَإِذَا كَانَتْ سِتُّونَ فَفِيهَا تَبِيعَتَانِ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلَاثُ تَبَائِعَ، قَالَ بَقِيَّةُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ الْأَوْقَاصُ: هِيَ بِالسِّينِ الْأَوْقَاسُ فَلَا تَجْعَلْهَا بِصَادٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو انھیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا لیں جو «جَذَعَةٌ» ہو اور ہر چالیس گائیوں میں سے «مُسِنَّةٌ» لیں، تو انھوں نے کہا: «أَوْقَاصٌ» کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، سو جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «أَوْقَاصٌ» کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کچھ زکوۃ نہیں۔“ مسعودی کہتے ہیں کہ «أَوْقَاصٌ» وہ ہیں جو تیس سے کم ہوں اور جو چالیس سے ساٹھ کے درمیان ہوں، جب ساٹھ ہو جائیں تو ساٹھ میں دو بچھیاں ہیں اور جب ستر ہو جائیں تو اس میں ایک «مُسِنَّةٌ» اور ایک بچھڑا ہے۔ جب اسی ہو جائیں تو دو «مُسِنَّةٌ» ہیں اور جب نوے ہو جائیں تو اس میں تین بچھڑے ہیں۔ مسعودی کہتے ہیں: «أَوْقَاصٌ» سین سے ہے، اسے صاد سے نہ سمجھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7293]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ دارقطني»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7294
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ الْبُوشَنْجِيُّ حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ ⦗١٦٧⦘ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فِيهِ: وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ.
زہیر فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ“، پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں فرمایا کہ ”تیس گائے میں ایک بچھڑا اور چالیس گائے میں ایک مسنہ ہے اور کام کرنے والے جانوروں پر کوئی زکاۃ نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7294]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ مضيٰ تخريجه»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7295
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ" لَمْ يَذْكُرْ جَنَاحٌ فِي رِوَايَتِهِ، جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تیس گائے میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور چالیس گائے میں ایک «مُسِنَّة» ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7296
وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ قَالَ فِيهِ:" وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً تَبِيعٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ". حَدَّثَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف تحریر بھیجی، جس میں لکھا تھا کہ ”ہر تیس گائے میں بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7296]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7297
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ يَرْفَعُهُ، وَابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ قَالَ:" فِي أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ مُسِنَّةٌ وَفِي ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ".
داؤد، شعبی رحمہ اللہ سے اور ابو عیاش، انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس گائے میں ایک مسنہ ہے اور تیس گائے میں ایک بچھڑا ہے یا بچھیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7297]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7298
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ،" فِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْبَقَرِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَإِذَا كَانَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بَقَرَتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّ قَوْلَهُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ"، إِنَّ ذَلِكَ كَانَ تَخْفِيفًا لِأَهْلِ الْيَمَنِ ثُمَّ كَانَ هَذَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهَذَا حَدِيثٌ مَوْقُوفٌ وَمُنْقَطِعٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُنْقَطِعًا وَالْمُنْقَطِعُ لَا تَثْبُتُ بِهِ حُجَّةٌ وَمَا قَبْلَهُ أَكْثَرُ وَأَشْهَرُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ گائے میں ایک بکری ہے اور دس گائے میں دو بکریاں اور پندرہ میں تین اور بیس گائے میں چار بکریاں ہیں۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب پچیس ہو جائیں گی تو پچھتر تک ایک گائے ہے، جب پچھتر سے زیادہ ہو جائیں تو اس میں دو گائے ہوں گی ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک گائے ہے۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری نے فرمایا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تیس گائے میں ایک بچھڑا اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے“، یہ تخفیف اہل یمن کے لیے تھی پھر اس کے بعد یہ ہوا۔
تو یہ حدیث موقوف ہے اور منقطع ہے اور دوسری سند سے زہری سے بھی منقطع روایت کی گئی ہے اور منقطع سے حجت نہیں لی جاتی اور اس سے پہلی روایات زیادہ مشہور ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7298]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1529. جماع أبواب صدقة الغنم السائمة -- باب: كيف فرض صدقة الغنم
چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ کے ابواب کا مجموعہ -- باب: بکریوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7299
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي فَرْضِ الْإِبِلِ وَمَا بَيْنَ أَسْنَانِهَا ثُمَّ قَالَ: وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَقَدْ مَضَى سَائِرُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَضَى فِي كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوُ هَذَا وَأَبْيَنُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فِيهِ: فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ، ثُمَّ ذَكَرَهَا هَكَذَا مِائَةً مِائَةً حَتَّى بَلَغَ أَلْفًا، قَالَ: ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا اور یہ تحریر انہیں دی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔“ ”یہ فرضِ زکوٰۃ کا نصاب ہے جو اللہ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، مسلمانوں میں سے جس سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے وہ اتنا ہی ادا کر دے اور جس سے اس سے زائد طلب کیا جائے وہ نہ دے۔“ پھر انہوں نے اونٹوں کی زکوٰۃ کی حدیث بیان کی اور ان کی عمریں بیان کیں، پھر فرمایا: ”چرنے والی بکریوں میں زکوٰۃ اس طرح ہے: جب بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک سو بیس ہو جائے تو اس میں ایک بکری ہے، جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں اور دو سو تک پہنچ جائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں اور پھر تین سو تک تین بکریاں، اور جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور زکوٰۃ میں بوڑھی، عیب والی اور سانڈ (بکرا) نہ لیا جائے، مگر یہ کہ مصدق لینا پسند کرے، اور جدا جدا چرنے والیوں کو جمع نہ کیا جائے اور اکٹھیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے زکوٰۃ کے ڈر سے، اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے، اور جب آدمی کی بکریاں چالیس سے کم ہوں گی تو ان میں کوئی زکوٰۃ نہیں مگر یہ کہ اس کا مالک مرضی سے دینا چاہے۔“
اور جو تحریر آلِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھی وہ بھی ایسی ہی تھی اور اس میں یہ کچھ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، وہ یہ کہ جب بکریاں دو سو ایک ہو جائیں تو اس میں تین بکریاں ہیں، تین سو تک، اور جب تین سو سے ایک بکری زائد ہو گی تو چار سو تک اس میں تین بکریاں ہی ہوں گی، اور جب چار سو مکمل ہو جائیں گی تو پانچ سو تک چار بکریاں ہوں گی، اور جب پانچ سو بکریاں ہو جائیں تو اس میں پانچ بکریاں ہی ہوں گی، پھر ایسے ہی سو سو کا تذکرہ کیا ہزار تک، سو سے جو زائد ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7299]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں