🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2116. -- باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام
-- باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10011
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟" قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ:" بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ".
عبداللہ بن ابی عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ کے ساتھ محرم آدمیوں کے ایک گروہ میں بیت المقدس سے عمرہ کی غرض سے آئے، ہم راستہ میں تھے اور کعب آگ تاپ رہے تھے کہ ٹڈیوں کا ایک غول ان کے پاس سے گزرا، انہوں نے دو ٹڈیاں پکڑ لیں اور ان کو قتل کر دیا اور اپنے محرم ہونے کو بھول گئے۔ پھر ان کو اپنا محرم ہونا یاد آیا تو ان کو ڈال دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ کعب نے دو ٹڈیوں والا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قصہ کس کے ساتھ پیش آیا؟ شاید اے کعب! آپ کے ساتھ؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمانے لگے: حمیر کے رہنے والے ٹڈی کو پسند کرتے ہیں، تم نے اپنے دل میں (اس کا فدیہ) کیا مقرر کیا ہے؟ کہنے لگے: دو درہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں، جو تم نے اپنے دل میں مقرر کیا ہے وہی ادا کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10011]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 649»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ:" وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ" أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ:" وَلَوْ"، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے اس ٹڈی کے بارے میں سوال کیا جسے وہ احرام کی حالت میں قتل کر دے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس میں ایک مٹھی کھانا ہے، حالانکہ (اس کے بدلے) تم ضرور مٹھی بھر ٹڈیاں لے لو گے، لیکن پھر بھی (یہی دو)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی یہ ہے کہ اس میں صرف قیمت ہے، اور «وَلَوْ» سے مراد یہ ہے: تم احتیاط کرو اور جو تمہارے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دو، اس کے بعد کہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہے جو تمہارے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 647»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ، فِي الْحَرَمِ، فَقَالَ:" لَا" وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں، اور اس سے منع فرمایا۔ (عطاء) کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا، یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ کی قوم کے لوگ تو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10013]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10014
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، وَأنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُنْحَنُونَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمُسْلِمٌ: أَصْوَبُهُمَا رَوَى الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُنْحَنُونَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے مسلم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، البتہ اس میں «مُنْحَنُونَ» (جھکے ہوئے) کا لفظ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور مسلم کہتے ہیں: ان دونوں میں سے زیادہ درست «مُنْحَنُونَ» ہی ہے جو حفاظ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10014]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1853»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2117. -- باب: ما جاء في كون الجراد من صيد البحر
-- باب: ٹڈی کے سمندری شکار میں سے ہونے کے بارے میں جو مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹڈی سمندری شکار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10015]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ اخرجه ابوداود 1854»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَبْنَا ضَرْبًا مِنْ جَرَادٍ فَكَانَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ ضَعِيفٌ، ⦗٣٣٩⦘ وَمَيْمُونُ بْنُ جَابَانَ غَيْرُ مَعْرُوفٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ مِنْ قَوْلِهِ.
ابومہزم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نے ٹڈی کی ایک قسم پائی، ایک آدمی محرم ہونے کی حالت میں اپنے کوڑے سے انہیں مار رہا تھا، اس سے کہا گیا: یہ درست نہیں ہے۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سمندری شکار ہی ہے۔“
ابومہزم یزید بن سفیان ضعیف ہے اور میمون بن جابان معروف نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حماد بن سلمہ سے، انہوں نے میمون سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے کعب سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10016]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني 2/249»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2118. -- باب: بيض النعامة يصيبها المحرم
-- باب: محرم کا شتر مرغ کا انڈا توڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10017
قَالَ الرَّبِيعُ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ: هَلْ تَرْوِي فِيهَا شَيْئًا عَالِيًا؟ فَقَالَ: أَمَّا شَيْءٌ يَثْبُتُ مِثْلُهُ فَلَا، فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ قِيمَتُهَا" قُلْتُ: قَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.
امام ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ اس بارے میں کوئی عالی سند والی روایت بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ایسی کوئی چیز نہیں جس کی اس جیسی کوئی سند ثابت ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ روایت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے ایک ثقہ راوی نے ابوالزناد سے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شتر مرغ کا انڈا جسے کوئی محرم توڑ دے، تو اس میں اس انڈے کی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔““ میں نے کہا: یہ روایت موصولاً (متصل سند کے ساتھ) بھی مروی ہے، البتہ اس (کی سند) میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10017]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10017
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي بِيضِ النَّعَامَةِ حَدِيثُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي كُلِّ بِيضٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ طَعَامُ مِسْكِينٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں سب سے بہتر جو میں نے سنا وہ ابوالزناد کی حدیث ہے جو اعرج سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کا کھانا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10017]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَمَ فِي بِيضِ النَّعَامِ كَسَرَهُ رَجُلٌ مُحْرِمٌ صِيَامَ يَوْمٍ لِكُلِّ بَيْضَةٍ" قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَهُوَ الصَّحِيحُ، قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر مرغ کے انڈے توڑنے والے محرم شخص پر ہر انڈے کے عوض ایک دن کے روزے کا فیصلہ فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوقرہ موسیٰ بن طارق نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ابوعاصم اور ہشام بن سلیمان نے اسے عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے زیاد بن سعد سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے ایک آدمی سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور یہی صحیح ہے، یہ بات ابوداؤد سجستانی اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10018]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 5/ 58»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10019
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا ⦗٣٤٠⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا، مُحْرِمًا أَوْطَأَ رَاحِلَتَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ عَلِيٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَدْ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَسْمَعُ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ".
معاویہ بن قرہ ایک انصاری آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم آدمی کی سواری نے شتر مرغ کے انڈوں کے گھونسلے کو روند ڈالا۔ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور اس بارے میں سوال کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک اونٹنی کی جفتی یا اونٹنی کے پیٹ والا بچہ ہے۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی بات بتلائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے جو کہا وہ تو نے سن لیا، لیکن رخصت کی طرف آؤ: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10019]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں