السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2120. -- باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم
-- باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چھپکلیوں کو قتل کرنے“ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10049]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: وَأِيُّ كَلْبٍ أَعْقَرُ مِنَ الْحَيَّةِ؟، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ:" كُلُّ شَيْءٍ يَعْقِرُكَ فَهُوَ الْعَقُورُ".
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ کون سا کتا سانپ سے زیادہ کاٹنے والا ہے؟ حمیدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر وہ چیز جو تجھے کاٹے وہ «عَقُورٌ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10050]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ:" الْكَلْبُ الْعَقُورُ الَّذِي أُمِرَ الْمُحْرِمُ بِقَتْلِهِ، إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ مِثْلَ الْأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ابن بکیر کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کاٹنے والا کتا جس کو قتل کرنے کا محرم کو حکم دیا گیا ہے، (اس سے مراد) ہر وہ جانور ہے جو لوگوں کو کاٹے، ان پر حملہ کرے اور ان کو خوف زدہ کرے، جیسے شیر، چیتا، تیندوا اور بھیڑیا، یہی کاٹنے والا کتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10051]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، فِي قَوْلِهِ:" وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ"، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: مَعْنَاهُ" كُلُّ سَبُعٍ يَعْقِرُ، وَلَمْ يَخُصَّ بِهِ الْكَلْبَ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ يَجُوزُ فِي الْكَلَامِ أَنْ يُقَالَ لَلسَّبُعِ: كَلْبٌ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَرْوُونَ فِي الْمَغَازِي أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ كَانَ شَدِيدَ الْأَذَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبًا مِنْ كِلَابِكَ" فَخَرَجَ عُتْبَةُ إِلَى الشَّامِ مَعَ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَطَرَقَهُمُ الْأَسَدُ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلَهُ، فَصَارَ الْأَسَدُ هَا هُنَا قَدْ لَزِمَهُ اسْمُ الْكَلْبِ، قَالَ: وَمِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] فَهَذَا اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنَ الْكَلْبِ، ثُمَّ دَخَلَ فِيهِ صَيْدُ الْفَهْدِ وَالصَّقْرِ وَالْبَازِيِّ فَلِهَذَا قِيلَ: لِكُلِّ جَارِحٍ أَوْ عَاقِرٍ مِنَ السِّبَاعِ كَلْبٌ عَقُورٌ، ⦗٣٤٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ:" أَمَرَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَقْتُلَ الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفَأْرَةَ وَالزُّنْبُورَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ".
ابوعبید «كَلْبٌ عَقُورٌ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہر کاٹنے والا درندہ مراد ہے، یہ کتے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔“
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10052]
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10052]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 355»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَوَّلَ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْحَيَّةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ، قَالَ:" هِيَ عَدُوٌّ فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا محرم سانپ کو قتل کر دے؟ فرمانے لگے: یہ دشمن ہے، تم جہاں بھی اس کو پاؤ قتل کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10053]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10054
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَذَكَرُوا لَهُ قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ:" فِي الْفَأْرَةِ جَزَاءٌ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ" فَقَالَ حَمَّادٌ:" مَا كَانَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ أَوْحَشَ بِرَدِّ الْآثَارِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؛ وَذَلِكَ لِقِلَّةِ مَا سَمِعَ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا كَانَ رَجُلٌ بِالْكُوفَةِ أَحْسَنَ اتِّبَاعًا وَلَا أَحْسَنَ اقْتِدَاءً مِنَ الشَّعْبِيِّ؛ وَذَلِكَ لِكَثْرَةِ مَا سَمِعَ".
بشر بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن زید رحمہ اللہ کے سامنے ابراہیم رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کیا گیا: ”جب محرم آدمی چوہیا کو قتل کر دے تو اس میں جزا (فدیہ) ہے۔“ تو حماد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کوفہ میں ابراہیم سے بڑھ کر آثار کو رد کرنے میں بے باک کوئی آدمی نہ تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بہت کم سنی تھیں، اور نہ ہی کوفہ میں حضرت شعبی رحمہ اللہ سے بڑھ کر اچھی اتباع اور اچھی اقتدا کرنے والا کوئی آدمی تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے احادیث زیادہ سن رکھی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10054]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخه 51/ 272»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10055
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ يَعْنِي الدَّيْنَوَرِيَّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِدْرِيسَ بِمَكَّةَ، يَقُولُ:" سَلُونِي مَا شِئْتُمْ أُجِبْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ زُنْبُورًا؟، قَالَ:" نَعَمْ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] ".
عبید اللہ بن محمد بن ہارون فریابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے مکہ میں سنا کہ جو چاہو مجھ سے کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو، میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، جب محرم آدمی بھڑ کو قتل کر دے تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں۔ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10055]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الترمذي 3662»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10056
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10056]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10057
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ أَمَرَ الْمُحْرِمَ بِقَتْلِ الزُّنْبُورِ".
طارق بن شہاب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم آدمی کو ”بھڑ قتل کرنے کا حکم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10057]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 1680»
الحكم على الحديث: صحيح
2121. -- باب:: لا يفدي المحرم إلا ما يؤكل لحمه
-- باب: محرم صرف اسی شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
حدیث نمبر: Q10058
اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى، وَبِأَنَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْإِحْرَامِ بِقَوْلِهِ {وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96] مَا كَانَ حَلَالًا لَهُ قَبْلَ الْإِحْرَامِ يَأْكُلُونَهُ.
سابقہ دلائل کی روشنی میں استدلال کرتے ہوئے، اور اس بنا پر کہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96] کے ذریعے ان پر احرام کی حالت میں صرف اس چیز کو حرام کیا ہے جو احرام سے قبل ان کے لیے حلال تھی اور وہ اسے کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10058]