السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2130. -- باب: من أنكر الاشتراط في الحج
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حج میں شرط لگانے کا انکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا هَكَذَا مُخْتَصَرًا. وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ وَزَادَ فِيهِ" وَإنْ حَبَسَ أَحَدًا مِنْكُمْ حَابِسٌ فَإِذَا وَصَلَ إِلَيْهِ طَافَ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُ أَوْ يُقَصِّرُ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَكَرَهُ، وَعِنْدِي أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَوْ بَلَغَهُ حَدِيثُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ لَصَارَ إِلَيْهِ وَلَمْ يُنْكِرِ الِاشْتِرَاطَ كَمَا لَمْ يُنْكِرْهُ أَبُوهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عبدالرزاق معمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، اس میں زائد بھی ہے: ”اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والا روک دے، جب وہ بیت اللہ تک پہنچے تو طواف کرے اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر سر منڈائے یا بال کٹوائے اور اس پر آئندہ سال حج ہے۔“
(ب) مصنف کہتے ہیں: میرے نزدیک اگر ابوعبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا والی حدیث پہنچتی تو وہ اسی کو اختیار کر لیتے اور حج میں شرط کا انکار نہ کرتے جیسے ان کے والد نے انکار نہیں کیا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10125]
(ب) مصنف کہتے ہیں: میرے نزدیک اگر ابوعبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا والی حدیث پہنچتی تو وہ اسی کو اختیار کر لیتے اور حج میں شرط کا انکار نہ کرتے جیسے ان کے والد نے انکار نہیں کیا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10125]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
2131. -- باب: حصر المرأة تحرم بغير إذن زوجها
-- باب: اس عورت کو روکے جانے کا بیان جو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر احرام باندھے۔
حدیث نمبر: 10126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي امْرَأَةٍ لَهَا مَالٌ تَسْتَأْذِنُ زَوْجَهَا فِي الْحَجِّ فَلَا يَأْذَنُ لَهَا، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ: قَالَ نَافِعٌ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لَهَا أَنْ تَنْطَلِقَ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، وَلَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حسان بن ابراہیم رحمہ اللہ اس عورت کے بارے میں جس کے پاس مال ہو اور وہ اپنے خاوند سے حج کی اجازت مانگے لیکن وہ اسے اجازت نہ دے، فرماتے ہیں کہ ابراہیم صائغ نے کہا: نافع نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر چلے اور نہ ہی عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ تین راتوں کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے (یعنی جس کے ساتھ اس کا نکاح نہ ہو سکتا ہو)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10126]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2132. -- باب: من قال: ليس له منعها المسجد الحرام لفريضة الحج
-- باب: ان کا قول جنہوں نے فرمایا: ”اس (شوہر) کے لیے فرض حج کی ادائیگی کی غرض سے اسے (بیوی کو) مسجد حرام جانے سے روکنا جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 10127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اس کو منع نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10127]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 858»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10128
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے منع نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10128]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2133. -- باب: المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة
-- باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
حدیث نمبر: Q10129
قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ السَّبِيلَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ".
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ”اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو بھی اس کی طرف راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔“ [سورة آل عمران: 97]
اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: ”(استطاعتِ) راہ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10129]
اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: ”(استطاعتِ) راہ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10129]
حدیث نمبر: 10129
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: ٩٧] قَالَ:" الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ" وَرُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَفِيهِ قُوَّةٌ لِهَذَا الْمُسْنَدِ.
محمد بن عباد مخزومی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس آیت کے بارے میں) سنا: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 97] ”جو اس کی طاقت رکھتا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زادِ راہ اور سواری۔“
اور ہم نے یہ روایت حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح سندوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کی ہے، اور اس میں اس مسند روایت کے لیے تقویت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10129]
اور ہم نے یہ روایت حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح سندوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کی ہے، اور اس میں اس مسند روایت کے لیے تقویت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1347»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ، وَالْآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ: فَقَالَ:" لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، ثُمَّ لَيَفِيضُ الْمَالُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ وَلَا تُرْجُمَانٌ فَيُتَرْجِمُ لَهُ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا: فَيَقُولُ: بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهَا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ایک فقیری و محتاجی کی اور دوسرا راستے کے کاٹے جانے (یعنی ڈاکوؤں کے پریشان کرنے) کی شکایت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا وقت ہی گزرے گا کہ ایک عورت حیرہ شہر سے مکہ کا سفر بغیر کسی محافظ کے کرے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے گھومے گا لیکن قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پھر مال زیادہ ہو جائے گا۔ پھر تم میں سے کوئی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حجاب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول مبعوث نہ کیا تھا؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، بندہ اپنے دائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی اور بائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی، لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آگ سے بچا لے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کہہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3400»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10131
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثنا النَّضْرُ، أنا إِسْرَائِيلُ، أنا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَشَكَا قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟" قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا، قَالَ:" فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللهَ" قُلْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: فَأَيْنَ دُعَّارُ طَيِّئٍ الَّذِينَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ" وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ:" كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفَّيْهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ، وَلَيَلْقَيَنَّ اللهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، فَيَقُولُ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولًا يُبَلِّغُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ، وَيَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ" قَالَ عَدِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شِقَّ تَمْرَةٍ فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ" قَالَ عَدِيٌّ: قَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ ⦗٣٧٠⦘ الْكُوفَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللهَ، وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ سَتَرَوْنَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُخْرِجُ الرَّجُلُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَافَرَ بِمَوْلَاةٍ لَهُ لَيْسَ هُوَ لَهَا بِمَحْرَمٍ وَلَا مَعَهَا مَحْرَمٌ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ ایک آدمی نے آکر فاقے کی اور دوسرے نے راستے کاٹے جانے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! کیا آپ نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں دیکھا، لیکن مجھے اس کے بارے میں خبر دی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا ایک عورت حیرہ سے کوچ کر کے کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا خوف ہوگا۔“ میں نے اپنے دل ہی میں کہا کہ قبیلہ طئی کے ڈاکو کہاں جائیں گے، جنہوں نے شہروں کو آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو کسریٰ کے خزانے فتح کیے جائیں گے“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسریٰ بن ہرمز! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز۔ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا، ایسے شخص کو تلاش کرے گا جو اسے اس سے قبول کر لے تو اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور تم میں سے کوئی ایک جس دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو ان کے درمیان ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا میں نے تیری طرف رسول نہ مبعوث کیا جس نے تجھے (میری بات) پہنچائی؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، وہ اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو صرف جہنم اور اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو صرف جہنم۔“
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10131]
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10131]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1728»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10132
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلَاةً لَهُ يُقَالُ لَهَا: صَفِيَّةُ تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ" وَفِي رِوَايَةِ عُقْبَةَ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَجَّ بِمَوْلَاةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَافِيَةُ عَلَى عَجُزِ بَعِيرٍ" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْجَدِيدِ: وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعُرْوَةَ مِثْلُ قَوْلِنَا فِي أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ لِلْحَجِّ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا مَحْرَمٌ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ وَفِي الْقَدِيمِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان کی آزاد کردہ لونڈی صفیہ ان کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر مکہ کا سفر کرتی تھیں۔
(ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ، جس کا نام صافیہ تھا، اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے قولِ جدید میں فرمایا: ہمیں سیدہ عائشہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اور عروہ رحمہ اللہ سے ہمارے قول کی مثل بات پہنچی ہے کہ عورت حج کے لیے سفر کر سکتی ہے اگرچہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو۔ اور یہی بات انہوں نے عطاء رحمہ اللہ سے بھی ذکر کی ہے، اور قولِ قدیم میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10132]
(ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ، جس کا نام صافیہ تھا، اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے قولِ جدید میں فرمایا: ہمیں سیدہ عائشہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اور عروہ رحمہ اللہ سے ہمارے قول کی مثل بات پہنچی ہے کہ عورت حج کے لیے سفر کر سکتی ہے اگرچہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو۔ اور یہی بات انہوں نے عطاء رحمہ اللہ سے بھی ذکر کی ہے، اور قولِ قدیم میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10132]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُخْبِرَتْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ يُفْتِي أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُسَافِرُ إِلَّا مَعَ مَحْرَمٍ فَقَالَتْ:" مَا كُلُّهُنَّ مِنْ ذَوَاتِ مَحْرَمٍ".
عمرہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، تو وہ فرمانے لگیں: ”سب عورتیں محرم والی نہیں ہوتیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4935»
الحكم على الحديث: صحيح