🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2125. -- باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر
-- باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10087
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ:" كَانَ مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحَرَّةِ وَفِيهَا نَحَرَ الْهَدْيَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا ذَهَبْنَا إِلَى أَنَّهُ نَحَرَ فِي الْحِلِّ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ} [الفتح: ٢٥] وَالْحَرَمُ كُلُّهُ مَحِلُّهُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحُدَيْبِيَةُ مَوْضِعٌ مِنَ الْأَرْضِ مِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحِلِّ وَمِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّمَا نَحَرَ الْهَدْيَ عِنْدَنَا فِي الْحِلِّ وَفِيهِ مَسْجِدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بُويِعَ فِيهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: ١٨] ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ {وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} مَحِلُّهُ وَاللهُ أَعْلَمُ هَا هُنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِذَا أُحْصِرَ نَحَرَ حَيْثُ أُحْصِرَ، وَمِحَلُّهُ فِي غَيْرِ الْإِحْصَارِ الْحَرَمُ وَالْمَنْحَرُ، وَهُوَ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ وَاسِعٌ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ.
ابوعمیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ حدیبیہ میں حرہ تھی، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ موقف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی حل میں کی ہے، صرف اس لیے اختیار کیا ہے کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ﴾ [سورة الفتح: 25] ”جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے“ اور اہل علم کے نزدیک پورا حرم قربان گاہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ ایسی جگہ ہے جس کا کچھ حصہ حل میں اور کچھ حرم میں واقع ہے، اور ہمارے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حل میں قربانی کی، اور وہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مسجد ہے جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ [سورة الفتح: 18] ”اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہو چکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اور ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔“ کے بارے میں فرمایا: یہاں اس کی جگہ سے مراد، واللہ اعلم، یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کر دی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم اور قربان گاہ ہے، اور یہ وسیع عربی کلام ہے۔ [صحیح]
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت مروی ہے جو اس کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10087]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مالك 768»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10088
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ" أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَى حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا، فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّى إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ، ثُمَّ إنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَى رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَأْسِهِ فَحُلِقَ ثُمَّ نَسَكَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا" قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ.
ابو اسماء، جو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ مدینہ سے نکلے، تو وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو سقیا میں بیمار تھے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں قیام کیا، یہاں تک کہ جب (حج) فوت ہو جانے کا خوف ہوا تو وہاں سے چلے گئے اور سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا جو اس وقت مدینہ میں تھے، تو وہ دونوں ان کے پاس آ گئے۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے سر کو مونڈنے کا حکم دیا، پھر سقیا کے مقام پر ان کی طرف سے قربانی کی اور ان کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے اس سفر میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10088]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره مالك في الموطا 800»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2126. -- باب:: لا قضاء على المحصر إلا أن لا يكون حج حجة الإسلام فيحجها
-- باب: محصر پر قضا لازم نہیں، سوائے اس کے کہ وہ فرض حج (حجۃ الاسلام) نہ ہو تو پھر اسے وہ حج کرنا ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10089
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِنْ قِبَلِ قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ} [البقرة: 196] لَمْ يَذْكُرْ قَضَاءً، قَالَ: وَالَّذِي أَعْقِلُ فِي أَخْبَارِ أَهْلِ الْمَغَازِي شَبِيهٌ بِمَا ذَكَرْتُ مِنْ ظَاهِرِ الْآيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّا قَدْ عَلِمْنَا فِي مُتَوَاطِئِ أَحَادِيثِهِمْ أَنْ قَدْ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ بِأَسْمَائِهِمْ، ثُمَّ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةَ الْقَضِيَّةِ، وَتَخَلَّفَ بَعْضُهُمْ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ وَلَوْ لَزِمَهُمُ الْقَضَاءُ لَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شَاءَ اللهُ بِأَنْ لَا يَتَخَلَّفُوا عَنْهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِهِ: وَقَالَ رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا الْبَدَلُ عَلَى مَنْ نَقَضَ حَجَّهُ بِالتَّلَذُّذِ، فَأَمَّا مَنْ حَبَسَهُ عُذْرٌ وَغَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يَحِلُّ وَلَا يَرْجِعُ وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَهُوَ مُحْصَرٌ نَحَرَهُ إِنْ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ، وَإنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(یہ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے: ﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ ”پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)۔“ [سورة البقرة: 196] (اس میں اللہ تعالیٰ نے) قضا کا ذکر نہیں فرمایا۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اہلِ مغازی (سیرت و غزوات کے ماہرین) کی روایات سے جو بات میری سمجھ میں آتی ہے وہ اسی کے مشابہ ہے جو میں نے آیت کے ظاہر سے ذکر کی، اور وہ یہ کہ ہمیں ان کی متواتر اور باہم موافق روایات سے یہ معلوم ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو اپنے ناموں سے معروف ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۃ القضیہ ادا فرمایا اور ان میں سے بعض لوگ بغیر کسی مجبوری کے مدینہ ہی میں پیچھے رہ گئے، اور اگر ان پر قضا لازم ہوتی تو ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ رہیں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا: اور روح نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”بدل (قضا) صرف اس شخص پر ہے جس نے لذت اندوزی (جماع) کے ذریعے اپنا حج توڑ دیا ہو، رہا وہ شخص جسے کسی عذر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز نے روک دیا ہو تو وہ حلال ہو جائے گا اور (قضا کے لیے) دوبارہ نہیں آئے گا، اور اگر اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو اور وہ روکا گیا ہو تو اگر وہ اسے (حرم کی طرف) بھیجنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے (وہیں) ذبح کر دے، اور اگر اسے بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہو تو حلال نہ ہو یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10089]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10089
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْيَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ، ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا أَنْ يَعُودُوا لِشَيْءٍ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حدیبیہ کے مقام پر حلال ہوئے، انہوں نے قربانیاں کیں اور سر منڈائے، اور وہ بیت اللہ کے طواف سے پہلے اور قربانیوں کے بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہر چیز سے حلال ہو گئے، پھر ہمیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے یا اپنے ساتھ والوں میں سے کسی کو کسی چیز کی قضا کا یا کسی چیز کو دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10089]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10090
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمْ تَكُنْ هَذِهِ الْعُمْرَةُ قَضَاءً، وَلَكِنْ كَانَ شَرْطًا عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَعْتَمِرُوا قَابِلَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي صَدَّهُمُ الْمُشْرِكُونَ فِيهِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ عمرۃ القضا نہیں تھا بلکہ یہ تو مسلمانوں پر شرط تھی کہ وہ آئندہ سال عمرہ کریں، اس مہینے میں جس میں مشرکین نے ان کو روکا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 1692»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2127. -- باب: من لم ير الإحلال بالإحصار بالمرض
-- باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ" زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
طاؤس اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکاوٹ صرف دشمن کی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک نے یہ زیادہ کیا ہے کہ روکنا تو اب ختم ہو چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10091]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ" زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ «الْآيَةُ» [سورة البقرة: 196] ”حج و عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ اگر تم روک دیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10091]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 805»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو بیت اللہ سے بیماری کی وجہ سے روک دیا گیا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہیں ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10092]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10093
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ:" الْمُحْصَرُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنِ اضْطُرَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: هُوَ الْمُحْصَرُ بِالْمَرَضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ روکا ہوا شخص بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہ ہو۔ اگر وہ ایسے کپڑے پہننے پر مجبور ہو جن کے بغیر چارہ نہیں تو ایسا کر لے لیکن اس کا فدیہ ادا کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا ہے: اس سے مراد بیماری کی وجہ سے روکا ہوا شخص ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10093]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 804»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي، فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ فِي أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَلْتُ بِعُمْرَةٍ".
ایوب سختیانی اہل بصرہ کے ایک بوڑھے آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف نکلا۔ میں ابھی راستے میں تھا کہ میری ران ٹوٹ گئی۔ میں نے مکہ کی طرف پیغام بھیجا جہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر لوگ تھے، لیکن کسی نے بھی مجھے حلال ہونے کی رخصت نہ دی۔ تو میں نے اس چشمے پر سات ماہ گزارے، پھر میں عمرہ کر کے حلال ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10094]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں