السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2141. -- باب: جواز الجذع من الضأن
-- باب: بھیڑ میں سے جذع (چھ ماہ یا سال بھر کے بچے) کی قربانی کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 10164
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دانت والا قربانی کرو۔ اگر تمہیں تنگی ہو جائے تو پھر بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10164]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10165
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ مَعَنَا، أَوْ ⦗٣٧٨⦘ عَلَيْنَا مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُوَفِي الْجَذَعُ مِمَّا يُوَفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ".
عاصم بن کلیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہما تھے، بکریاں کم یاب ہو گئیں تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «الْجَذَعُ» ”جزعہ“ بھی کفایت کر جاتا ہے جیسے دو دانت والا یعنی «الثَّنِيُّ» ”مثنیٰ“ کفایت کر جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 8804»
الحكم على الحديث: صحيح
2142. -- باب:: لا محل للهدي في غير الإحصار دون الحرم لقوله عز وجل ثم محلها إلى البيت العتيق
-- باب: احصار (روکے جانے) کے علاوہ ہدی کی قربانی کا مقام حرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ”پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ بیتِ عتیق (خانہ کعبہ) تک ہے۔“
حدیث نمبر: Q10166
لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: 33] .
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ ”پھر ان (قربانی کے جانوروں) کے ذبح ہونے کی جگہ اسی قدیم گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ [سورة الحج: 33] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10166]
حدیث نمبر: 10166
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَنْ نَذَرَ بَدَنَةً فَإِنَّهُ يُقَلِّدُهَا نَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهَا ثُمَّ يَسُوقُهَا حَتَّى يَنْحَرَهَا عِنْدَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ أَوْ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لَيْسَ لَهَا مَحِلٌّ دُونَ ذَلِكَ وَمَنْ نَذَرَ جَزُورًا مِنَ الْإِبِلِ، أَوِ الْبَقَرِ فَلْيَنْحَرْهَا حَيْثُ شَاءَ".
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ ”پھر ان (قربانی کے جانوروں) کے ذبح ہونے کی جگہ اسی قدیم گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ [سورة الحج: 33] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10166]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مالك 409»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10167
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ بَدَنَةٍ جَعَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَلَيْهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ:" الْبُدْنُ مِنَ الْإِبِلِ وَمَحِلُّ الْبُدْنِ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ مَكَانًا مِنَ الْأَرْضِ فَلْتَنْحَرْهَا حَيْثُ سَمَّتْ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَدَنَةً فَبَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَقَرَةً فَعَشْرٌ مِنَ الْغَنَمِ" قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدٌ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بَقَرَةٌ فَسَبْعٌ مِنَ الْغَنَمِ"، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ. قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ.
سیدنا عمرو بن عبداللہ انصاری رحمہ اللہ نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس قربانی کے متعلق سوال کیا جو ایک عورت نے اپنے اوپر لازم کر لی تھی، سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اونٹ کی قربانی تو بیت اللہ لے جا کر کی جائے گی، اگر اس نے کسی جگہ کا نام لیا ہے کہ فلاں جگہ قربانی کرے گی تو پھر اس کو اسی جگہ ہی کرنی چاہیے، اگر اونٹ نہ پائے تو پھر گائے کی قربانی کرے، اگر گائے نہ مل سکے تو اس کی جگہ دس بکریاں قربان کرے، راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ والی بات کہی، لیکن اتنا فرق تھا کہ اگر گائے نہ ملے تو اس کے عوض سات بکریاں ذبح کرے، راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ والی بات کہہ دی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن محمد بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سالم رحمہ اللہ والی بات ہی کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10167]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3926»
الحكم على الحديث: صحيح
2143. -- باب: الاختيار في التقليد والإشعار
-- باب: تقلید (قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈالنے) اور اشعار (اسے کوہان پر زخم لگا کر نشان زد کرنے) میں اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 10168
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ والے سال اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ آئے تو قربانیوں کو قلادہ پہنایا، شعار کیا اور احرام باندھا۔
«قِلَادَہ»: یہ قربانی کی علامت ہے جو بیت اللہ کے لیے متعین کی جائے۔
«شِعَار»: اونٹ کی کوہان کے دائیں جانب سے خون نکال کر اس کے اوپر مل دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10168]
«قِلَادَہ»: یہ قربانی کی علامت ہے جو بیت اللہ کے لیے متعین کی جائے۔
«شِعَار»: اونٹ کی کوہان کے دائیں جانب سے خون نکال کر اس کے اوپر مل دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10168]
حدیث نمبر: 10169
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً قَالَا: أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا ⦗٣٧٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الظُّهْرَ ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا اسْتَوَتْ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا اونٹ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہان کی دائیں جانب سے اشعار کیا، پھر اس سے خون پونچھ دیا، پھر دو جوتوں کا ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء پہاڑی پر چڑھے تو حج کا تلبیہ کہا۔ [صحیح: مسلم: 1243] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10169]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1752»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ هَمَّامٌ يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:" سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ".
یحییٰ اس حدیث کو شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون پونچھا۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں کہ ہمام نے قتادہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے خون پونچھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10170]
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں کہ ہمام نے قتادہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے خون پونچھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10170]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10171
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَهْدَى هَدْيًا مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ، وَذَلِكَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ يُقَلِّدُهُ نَعْلَيْنِ، وَيُشْعِرُهُ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ حَتَّى يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعَ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا فَإِذَا قَدِمَ مِنًى غَدَاةَ النَّحْرِ نَحْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ وَكَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ".
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ مدینہ سے قربانی ساتھ لاتے تو اس کو ذوالحلیفہ میں قلادہ پہناتے اور اشعار کرتے، اور قلادہ اشعار سے پہلے پہناتے اور یہ دونوں کام ایک ہی جگہ کرتے اور قبلہ رخ ہو کر کرتے تھے۔ قلادہ میں دو جوتے پہناتے اور اشعار کوہان کی بائیں جانب سے کرتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ قربانیاں چلائی جاتیں، پھر لوگوں کے ساتھ وقوفِ عرفہ کرتے اور پھر لوگوں کے ساتھ وہاں سے واپس پلٹتے۔ جب وہ واپس ہوتے اور جب قربانی کے دن صبح منیٰ میں آتے تو سر مونڈنے اور بال اتارنے سے پہلے قربانی کرتے اور قربانی اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔ ان کو کھڑے کر کے صفیں بناتے اور قبلہ کی طرف رخ کرتے، پھر کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10171]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10172
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُشْعِرُ بُدْنَهُ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صِعَابًا تَنْفِرُ بِهِ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنَهُمَا أَشْعَرَ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُشْعِرَهَا وَجَّهَهَا إِلَى الْقِبْلَةِ، وَإِذَا أَشْعَرَهَا قَالَ: بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُشْعِرُهَا بِيَدِهِ، وَيَنْحَرُهَا بِيَدِهِ قِيَامًا".
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کے جانور کا شعار کوہان کی بائیں جانب سے کرتے، سوائے اس کے کہ وہ سرکش ہوتے اور بدک جاتے، تو اگر ان کے درمیان داخل نہ ہو سکتے تو پھر دائیں جانب سے شعار کرتے، اور جب شعار کا ارادہ کرتے تو قبلہ رخ ہو جاتے۔ جب شعار کرتے تو پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔ وہ شعار اپنے ہاتھ سے کرتے اور نحر بھی (اونٹ کو) کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10172]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الشافعي 1716»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره