🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2157. -- باب: ترك الأكل والتخلية بينها وبين الناس
-- باب: (اس کا گوشت) خود کھانا ترک کر دینے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10240
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَهُ مُسْلِمٌ الْمُصَبِّحُ،" أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ أَفَاضَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ شَيْئًا".
مسلم مصبح فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ (بیت اللہ کی طرف) لوٹے اور انہوں نے اپنی قربانی کے گوشت سے کچھ نہیں کھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10240]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنٌ، قَالَ: سُئِلَ مُجَاهِدٌ أَيَأْكُلُ الرَّجُلُ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ؟ قَالَ:" لَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا، إِنَّمَا قَوْلُهُ تَعَالَى {فَكُلُوا مِنْهَا} [الحج: ٢٨] مِثْلُ قَوْلِهِ {وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢] ، فَمَنْ شَاءَ اصْطَادَ".
حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا آدمی اپنی قربانی کا گوشت کھائے؟ انہوں نے فرمایا: اگر اپنی قربانی کا گوشت نہ بھی کھائے تو کوئی نقصان نہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾ [سورة الحج: 28] ”تم اس سے کھاؤ“ اس کے فرمان: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾ [سورة المائدة: 2] ”جب تم حلال ہو جاؤ تو شکار کرو“ کی طرح ہے، جو چاہے شکار کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10241]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1630»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2158. -- باب:: لا يعطى الجزار من لحومها وجلودها في جزارتها شيئا
-- باب: قصائی کو اس کی اجرت میں ان قربانیوں کے گوشت اور کھالوں میں سے کچھ نہ دیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10242
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا فِي الْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قربانیوں پر کھڑے ہونے کا حکم دیا اور ”قربانیوں کے گوشت، کھالیں اور جھول مساکین میں تقسیم کردیے جائیں اور قصائی کو اجرت میں اس سے کوئی چیز نہ دی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10242]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1317»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10243
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٣٩٦⦘ عَبْدَانَ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْرُوفُ بِالتُّرْكِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: يَحْيَى: ثنا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں، اور ان کا گوشت، ان کی کھالیں اور ان کی جھولیں صدقہ کر دوں، اور قصاب کو (اجرت میں) ان میں سے کچھ نہ دوں۔ پھر فرمایا: ”ہم اسے (اس کی اجرت) اپنے پاس سے دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10243]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2159. -- باب:: لا يبدل ما أوجبه من الهدايا بكلامه بخير، ولا شر منه
-- باب: زبانی طور پر واجب کی گئی ہدی (قربانی کے جانور) کو کسی بہتر یا کم تر جانور سے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَجِيبًا فَأُعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ فَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا؟ أَوْ قَالَ: بَدَنَةً أَوْ قَالَ: بَدَنَةً، الشَّكُّ مِنِّي قَالَ:" لَا وَلَكِنِ انْحَرْهَا إِيَّاهَا" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عمدہ قسم کا اونٹ قربانی (ہدی) کے لیے نامزد کیا، پھر انہیں اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا تھا، مجھے اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے ہیں، کیا میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کا اونٹ خرید لوں؟“ راوی کو شک ہے کہ «بُدْن» یا «بَدَنَة» کے لفظ بولے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اسی کو قربانی کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10244]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1756»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2160. -- باب:: لا يأكل من كل هدي كان أصله واجبا عليه مثل فدية الأذى، والفساد وجزاء الصيد، والنذر، والمتعة والقران وغيرها
-- باب: ہر اس ہدی کا گوشت نہیں کھایا جائے گا جو اصالتاً واجب ہو جیسے ایذا رسانی کا فدیہ، حج فاسد کرنے کا دم، شکار کا کفارہ، نذر، حج تمتع، حج قران اور دیگر واجب قربانیاں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10245
رَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ لَا يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا"، وَرُوِّينَا عَنْهُ فِي الَّذِي يَطَأُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ الطَّوَافِ:" انْحَرْ نَاقَةً سَمِينَةً فَأَطْعِمْهَا الْمَسَاكِينَ ⦗397⦘ وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُمَا قَالَا:" لَا يَأْكُلْ مِنْ جَزَاءِ الصَّيْدِ، وَلَا مِنَ الْفِدْيَةِ".
ہم پہلے عطاء رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”(محرم اگر) کبوتر (کو مار دے تو اس) میں ایک بکری (کا دم) ہے، اس میں سے کھایا نہیں جائے گا بلکہ اسے صدقہ کر دیا جائے گا۔“
اور ہمیں انہی سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو طوافِ (زیارت) سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کر لے کہ: ”ایک موٹی تازی اونٹنی نحر کرو اور اسے مسکینوں کو کھلا دو۔“
اور ہمیں طاؤس اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”(محرم) شکار کے بدلے (کے جانور) میں سے اور فدیہ (کے جانور) میں سے نہ کھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10245
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقُمَّلُ يَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً" قَالَ أَيُّوبُ: مَا أَدْرِي بِأِيِّ ذَلِكَ بَدَأَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَعُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، حدیبیہ کا زمانہ تھا اور میں ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ جوئیں تجھے تکلیف نہیں دیتیں؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر کے بال مونڈ دے، تین دن کے روزے رکھ، یا چھ مساکین کو کھانا کھلا یا ایک قربانی کر۔“ ایوب کہتے ہیں: میں نہیں جانتا انہوں نے کس سے ابتدا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10245]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3954»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2161. -- باب: ما لا يجزي من العيوب في الهدايا
-- باب: ہدی (قربانی کے جانور) میں ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہوتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعٌ لَا تُجْزِي فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى" قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ مجھے بیان کریں کون سے عیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں میں مکروہ سمجھے یا منع فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو اس طرح کیا اور میرا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار قسم کے عیب قربانیوں میں نہیں ہونے چاہییں: 1 کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ 2 بیمار جس کا مرض واضح ہو۔ 3 لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ 4 ٹوٹی ہوئی ہڈی جس کا گودہ، مغز ظاہر نہ ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میں کان اور سینگ میں عیب کو ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کو تو ناپسند کرے اسے چھوڑ دے، لیکن کسی دوسرے کے اوپر اس کو حرام نہ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10246]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2802»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَأَى هَدْيًا له فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا".
ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی قربانیاں دیکھیں، ان میں ایک کانی اونٹنی تھی، فرمانے لگے: اگر خریدنے کے بعد کوئی عیب پیدا ہو تو اس کو قربان کر دو، اگر عیب خریدنے سے پہلے ہو تو تبدیل کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10247]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2162. -- باب: الهدي الذي أصله تطوع إذا ساقه فعطب فأدرك ذكاته نحره وصنع به
-- باب: نفلی ہدی کا بیان کہ جب اسے لے جایا جا رہا ہو اور وہ راستے میں معذور ہو جائے اور مالک اسے ذبح کرنے کا وقت پا لے تو وہ اسے نحر کر دے اور اس کے ساتھ کیا سلوک کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10248
مَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فَقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ"، قَالَ: فَأَصْبَحْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ فِيهَا، قَالَ: مَضَى ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ:" انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا فَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، فَقَالَ: ثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً وَهُوَ الصَّحِيحُ..
موسیٰ بن سلمہ ہذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ رحمہ اللہ دونوں عمرہ کے لیے نکلے، سنان اپنے ساتھ اپنی (قربانی) کو لے کر چلے، قربانی سفر کی وجہ سے تھک گئی، وہ اس کی حالت سے بڑے فکر مند ہوئے کہ اگر وہ تھک گئی تو اس کو کیسے لائیں گے۔ انہوں نے کہا: اگر میں شہر آیا تو اس کے بارے میں خود پوچھ تاچھ کروں گا۔ کہتے ہیں: جب ہم بطحاء وادی میں آئے تو موسیٰ بن سلمہ کہنے لگے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلو، ہم انہیں اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ موسیٰ کہتے ہیں کہ سنان نے اپنی قربانی کا قصہ سنایا، تو وہ فرمانے لگے: تو نے جاننے والے سے ہی مسئلہ پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ ١٦ قربانیاں روانہ کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا، وہ چلا، پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی سواری تھک جائے تو پھر میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحر کر، پھر اس کے قلادے والے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر رکھ، نہ تو اور نہ تیرے ساتھیوں میں سے کوئی اس کو کھائے۔“
(ب) مسدد، عبدالوارث سے بیان کرتے ہیں کہ ١٨ قربانیاں تھیں، یہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1325»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں